Book Name:Faizan e Muhaddis e Azam Pakistan

کرتے۔سننے والے حیران ہوتے کہ اس عمر میں ایسا ذوق و شوق۔ مَا شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  ([1])

بزرگوں سے عقیدت

آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کو بچپن ہی سے اپنے بزرگوں سے والہانہ عقیدت تھی جس کا اظہار اسکول کی تعلیم کے دوران بھی اپنے استادصاحب  سے کردیا کرتے کہ  ماسٹر جی!  ہمیں بزرگوں کی باتیں سنائيے اور حضور سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سیرت مبارکہ  پر ضرور روشنی ڈالا کیجئے ۔ ([2])

اےکاش !  ہم اپنے مدنی منوں اور مدنی منیوں کی تربیت اس انداز پر کریں کہ ابتدا ہی سے ان کے زبان پر ذکر ودرود اور لب پر نعت شریف جاری رہے اور جب نماز روزے کے قابل ہوجائیں تو انہیں اس کا حکم دیں نیز انہیں بزرگوں کے واقعات اور تعلیمات سے روشناس کرائیں تاکہ ابتدا ہی سے ان کی نس نس میں بزرگوں کی محبت اور عقیدت بیٹھ جائے ۔

ستر کی حفاظت  کا مدنی ذہن

آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اسکول  جاتے تو  راستےمیں ایک برساتی نالہ پڑتا تھا جو موسمِ برسات میں بھر جاتا ۔کم عمر طلبہ اسے  عبور کرنے کے لئے اپنے کپڑے سمیٹتے تو  گھٹنے ننگے ہوجاتے ۔ لہٰذا بڑے بھائی سے عرض کرتے : مجھے کندھوں پر بٹھا کر نالہ پار کروادیں ۔اور یوں  گھٹنے کھولنے سے بچ جاتے۔ ([3])

سُبْحٰنَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  ! حضورمحدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانکی کیا مدنی سوچ تھی کہ بچپن میں بھی شرعی اصولوں پر عمل رہا۔

اس واقعہ سے وہ لوگ درس ِ عبرت حاصل کریں جو کھیل تماشوں میں یا ورزش اورتیراکی کرتے ہوئے یا پھر بطورِ فیشن ایسا لباس  پہنتے ہیں جس میں گھٹنے  بلکہ رانیں تک مَعَاذَ اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ کھلی رہتی ہیں۔ایسے لوگ سخت  گناہ گار  ہیں۔ صدر الشریعہ بدرالطریقہ مفتی امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بہار شریعت میں فرماتے ہیں :ستر عورت ہر حال میں واجب ہے،  خواہ نماز میں ہو یا نہیں،  تنہا ہو یا کسی کے سامنے،  بلا کسی غرض صحیح کے تنہائی میں بھی کھولنا جائز نہیں اور لوگوں کے سامنے یا نماز میں توستر بالاجماع فرض ہے۔ ([4])   یاد رکھئے!  مرد کے اعضائے ستر ناف کے نیچے سے لے کر گھٹنوں تک ہیں جنہیں بلا ضرورت کھولنا ناجائز و حرام ہے فرمان مصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے : ناف کے نیچے سے گھٹنے تک عورت  (چھپانے کی جگہ )  ہے۔ ([5])

والدہ کی دعا کا اثر

آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی والدہ ماجدہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ااکثر فرمایاکرتیں: اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ میرا یہ لاڈلا بچہ عظیم شخصیت کا مالک ہوگا۔ اور دعاؤں سے نوازتے ہوئے ارشاد فرماتیں:تمہارا نام سردار ہے ،  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تمہیں دین ودنیا کا سردار بنائے۔ بالآخر وہ وقت بھی آیا اور دنیا نے دیکھ لیاکہ  والدہ محترمہ کی دعا کس طرح قبول ہوئی اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو اسم با مسمی بنادیا ۔ ([6])  

اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی اِن سب پر رحمت ہو اور اُن کے صَدَقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 



[1]     حیات محدثِ اعظم، ص٣٠

[2]     حیات محدثِ اعظم، ص۳۲بتغیر

[3]     حیات محدثِ اعظم، ص۳۰

[4]     بہارِ شریعت ، حصہ۳ ، ص۴۷۹

[5]     سنن الدارقطني، کتاب الصلاۃ، باب الأمر بتعليم الصلوٰت، ۱ / ۸۷۶، حديث:  ۸۷۶

[6]     حیات محدثِ اعظم، ص۳۰  بتغیر



Total Pages: 22

Go To