Book Name:Faizan e Muhaddis e Azam Pakistan

٭…علمِ دین کو دنیا حاصل کرنےکا ذریعہ ہرگز نہ بنائیں اگر بنایاتو نقصان اٹھائیں گے۔

٭…علمائے کرام ہمیشہ لباس اُجلا اور عمدہ  واعلیٰ پہنیں نیز اس کی شرعی حیثیت کا خیال بھی ضروری ہے ۔

٭…عمدہ جوتا استعمال کریں تاکہ دنیاداروں کی نگاہ عالم کے جوتوں پر رہے ۔

٭…نمازیوں سے اخلاق سے پیش آئیں ۔ جو سنی دھوکے میں ہیں ان کی اصلاح جاری رکھیں ۔

٭…دنیاداروں سے بے تکلفانہ روابط قائم نہ کریں ۔

٭…بے ضرورت بازار نہ جائیں اور نہ کسی دکان پر بیٹھیں۔ ([1])

٭…دین کی خدمت ، دین کے لئے کریں لالچ نہ کریں ۔اگر ایک جگہ سے خدمت کم ہوگی تو دوسری جگہ سے کسر پوری ہوجائے گی ۔ ([2])

٭…پیارے آقا محمد مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اتنا ذکر کریں کہ لوگ آپ کو دیوانہ تصور کریں ۔

٭…سنی بمنزلہ ایک چراغ کے ہے جتنے سنیوں کا اجتماع ہوگا اتنے چراغ زیادہ ہوں گے اور ان کی روشنی و خیر وبرکت عام ہوگی ۔

٭…ایک مرتبہ ایک صاحب سے فرمایا:میں اپنوں سے الجھ کر وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا اتنا وقت میں  تبلیغ دین اور بد مذہبوں کی تردید میں صرف کروں گا ۔ ([3])

٭…آخری ایام میں حضرت مخدوم پیر سیدمحمدمعصوم شاہ نوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیسے فرمایا:شاہ صاحب ! میری دوباتوں کے گواہ رہنا ، ایک یہ ہے کہ میں  حضور غوث پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا مرید اور غلام ہوں  دوسرے یہ کہ اس  فقیر نے عمر بھر کسی بے دین سے مصافحہ نہیں کیا۔ ([4])

فارغ التحصیل طلبہ کو ہدایات

دورۂ حدیث شریف کے آخری درس کے موقع پر آ پ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی ہدایات کچھ یوں ہوا کرتی تھیں :آج آپ لوگ رخصت ہورہے ہیں اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہم دیکھیں گے کہ آپ اپنے اپنے علاقوں میں کس طرح دین کا کام کرتے ہیں آپ لوگ شیر بن کر تبلیغ کے میدان میں آئیں اورپوری جاں فشانی کے ساتھ دین پاک اور مذہب مہذَّب اہلِ سنت کی خدمت کریں  اور بے دینی ، بد دینی و باطل پرستی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں آئندہ زندگی میں ایسے موقع پیش آئیں گے کہ نفس پرست و دنیا دار لوگ اپنی خواہش کے مطابق شریعت کے خلاف آپ سے فتوے لینے کی کوشش کریں گے اس سلسلے میں آپ پر رعب  ڈالا جائے گا اور لالچ بھی دیا جائے گا لہذا لازم ہے کہ آپ ایسی باتوں کی ہرگز پرواہ نہ کریں حق پر قائم رہیں حق  کا اعلان کریں اور دین کے تحفظ و ناموس اور کلمہ حق کی خاطر اگر کوئی قربانی بھی پیش کرنا پڑے تو اس سے دریغ نہ کریں ۔ ([5])

بیعت و خلافت

محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان اسکول کی تعلیم کے دوران ہی سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ میں حضرت خواجہ شاہ سراج الحق چشتی کرنالوی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے بیعت ہوگئے تھے۔پیرومرشد نے وصال سے قبل اپنے مریدِ کامل کو تمام سلاسل میں خلافت واجازتِ تامہ اور خصوصی نوازشات سے نوازا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو سلسلہ عالىہ قادرىہ مىں حجۃالاسلام حضرت مولانا حامد رضا خان ،  مفتى اعظم ہند مولانا محمد مصطفےٰ رضا خان اور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی  کے علاوہ دیگراکابرین کى طرف سے بھى خلافت  واجازت حاصل تھى ۔ ([6])

 



[1]     حیات محدث اعظم، ص۸۵، ۱۲۵ملتقطاً

[2]     تذکرہ محدث اعظم پاکستان، ۲ /  ۴۳۸

[3]     تذکرہ محدث اعظم پاکستان، ۲ /  ۴۳۸ تا ۴۳۹ملتقطاً

[4]     حیات محدّث اعظم، ص۱۶۹بتغیر

[5]     حیات محدث اعظم، ص۵۷ملخصاً

[6]     سیرت صدر الشریعہ ، ص ۲۰۴ملخصاً



Total Pages: 22

Go To