Book Name:Faizan e Muhaddis e Azam Pakistan

اور مذہبی و سماجی اداروں کے چندہ کُنِندگان کے لئے فرض ہے ۔مذکورہ اداروں کی کمیٹیوں کو بالخصوص اور بالعموم ہر مسلمان کو اس کتاب کا ضرور بالضرور مطالعہ کرنا چاہئے ۔

’’چندے کے بارے میں سوال جواب‘‘ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ سے ہدیۃ حاصل کیجئے۔اس کتاب کو دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ  www.dawateislami.net  سے ڈاؤن لوڈ بھی کیا جا سکتاہے۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

تُوبُوا اِلَی اللہ!               اَسْتَغْفِرُاللہ

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

دینی  وملی خدمات

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرتِ محدثِ اعظم پاکستانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کی ذات ایک ہمہ گیر شخصیت کی حامل تھی، آپ کی  درس وتدریس وعظ ونصیحت  رُشد و ہدایت کی مصروفیات اس قدر زیادہ تھیں کہ دیگر کاموں کی جانب متوجہ ہونا  آسان نہ تھا مگر اس کے باوجود آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مسلک اور قوم وملت کے لئے کئی گراں قدر خدمات سرانجام دیں جنہیں  احاطہ تحریر میں لانا مشکل ہے ان میں سے چند ایک یہ ہیں:

آل انڈیا سنی کانفرنس میں نمایاں کردار، تحریک  پاکستان میں مؤثر انداز،  فلاحی کمیٹی برائے مہاجرین 1947ء میں بنیادی کردار ، تحریک ختم نبوت53- 1952ء میں بصیرت افروز اقدام ، مدارس اسلامیہ کا قیام ومروجہ نصاب کی اصلاح ، تعمیر مساجد و مدارس میں بے مثال جدو جہد ۔ ([1])  

اسی طرح آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےاپنی بے پناہ مصروفیات کے باوجود  کافی علمی ذخیرہ بھی چھوڑا جن میں سے بعض مطبوعہ اور اکثر غیر مطبوعہ ہیں۔چند کے نام یہ ہیں :تبصرہ مذہبی برتذکرہ مشرقی  (مطبوعہ) ، اسلامی قانون وراثت  (مطبوعہ) ،  نصرت خداداد (مناظرہ بریلی کی مفصل روئیداد مطبوعہ) ،  سیدنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ (بدمذہبوں کے غلط اور بے بنیاد اعتراضات کا دندان شکن جواب ) ،  فتاویٰ محدثِ اعظم  (مطبوعہ) ،  حواشی و افادات صحاح ستہ  (غیر مطبوعہ ) ۔  ([2])

ملفوظات کا مدنی گلدستہ

حضرت محدثِ اعظم پاکستانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کے ملفوظات امت مسلمہ کے لئے عطیہ خداوندی سے کم نہیں  ہیں ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ملفوظات کی روشنی سے علمائے کرام،  طلبہ اورکثىر خلق ِخدا فیض یاب ہوئی۔ آئیے اس  مدنی  گلدستہ کے چند پھولوں سے اپنے دل ودماغ کو معطر کیجئے ۔

٭…حدیثِ پاک کی ۳۸۰ کتب ہیں آج کل ساری کتب ِاحادیث ملتی بھی نہیں ہیں لہذا  جب کبھی تم سے کوئی کسی حدیث کے بارے میں سوال کرے تو یہ مت کہو کہ یہ حدیث کسی کتاب میں نہیں بلکہ یوں کہو کہ یہ حدیث میرے علم میں نہیں ہے ،  یا میں نے نہیں پڑھی ۔ ([3])

٭…قرآن وحدیث اور کتب دینی کے بارے میں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ وہاں پڑی ہیں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ وہاں رکھی ہیں ۔ ([4])

٭…بیان ٹھوس کریں، جو مسئلہ بیان کریں اس کا ثبوت تحقیقا یا الزاما آپ کے پاس ہو، آپ ہوں اور کتابوں کا مطالعہ۔

٭…جس قدر علم میں توجہ کریں گے اتنا ہی ترقی و عروج حاصل کریں گے ۔

٭…آپ دین کے مبلغ اور ترجمان ہیں آپ کا کردار بے داغ ہوناچاہیے ۔

٭…علم اور علما کے وقار کو ہمیشہ مدِّ نظر رکھیں کوئی ایسا کام نہ کریں کہ علما کا وقار مجروح ہو۔

 



[1]     تذکرہ محدث اعظم پاکستان ، ۲ /  ۶۰، ملخصاً

[2]     تذکرہ محدث اعظم پاکستان، ۲ /  ۴۴۰ تا ۴۴۷ ملخصاً

[3]     تذکرہ محدث اعظم پاکستان، ۲ /  ۳۲۳ بتغیر

[4]     تذکرہ محدث اعظم پاکستان، ۲ /  ۴۳۸



Total Pages: 22

Go To