Book Name:Faizan e Muhaddis e Azam Pakistan

جب میرا کھانا آجائے تو آپ  کھا لینا ۔کافی  دنوں بعد معلوم ہوا کہ جو کھانا میرے مزاج کے مطابق نہ ہوتاوہ تو حضور محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان تناول فرمالیتے اور اپنا کھانا میرے لئے چھوڑ دیتےتھے  ۔ ([1])

پیارے اسلامی بھائیو!  اَسلاف کرام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی  کے ایثارو قربانی کے واقعات سے تاریخ بھری ہوئی ہے ان کے کارنامے، واقعات  اور فرامین آج بھی ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں اگر آج بھی ہم ان کی پیروی کریں تو اس بگڑے ہوئے معاشرے میں اُخوَّت و بھائی چارہ کی مثالیں قائم کرسکتے ہیں اسی جانب توجہ دلاتے ہوئے شیخِ طریقت،  امیرِاہلسنّت،  بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علامہ مولانا ابوبلال محمد اِلیاس عطّارؔ قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی شہرہ آفاق کتاب فیضانِ سنت جلد ۱، صفحہ ۳۱۴ پر ارشاد فرماتے ہیں :کھانے میں سے اچّھی اچّھی بوٹیاں چھانٹ لینا یا مل کر کھا رہے ہوں تو اس لئے بڑے بڑے نوالے اٹھا کر جلدی جلدی نِگلنا کہ کہیں میں رَہ نہ جاؤں یا اپنی طرف زِیادہ کھانا سمیٹ لینا اَلْغَرَض کسی بھی طریقے سے دوسروں کو محروم کردینا دیکھنے والوں کو بدظن کرتا ہے اور یہ بے مُرُوَّتوں اور حریصوں کا شَیوہ ہے ۔اچھّی اَشیاء اپنے اسلامی بھائیوں یا اہلِ خانہ کیلئے ایثار کی نیّت سے تَرک کریں گے تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ثواب پائیں گے۔جیسا کہ سلطانِ دوجہان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ بخشِش نشان ہے:جوشخص کسی چیز کی خواہش رکھتا ہو،  پھر اس خواہش کو روک کر (دوسروں کو) اپنے اوپر ترجیح دے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسے بخش دیتاہے ۔ ([2])

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

لنگر کی روٹیوں پر طلبہ کا حق ہے

محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کتنے متقی ، پرہیز گار اور طلبہ کے حقوق کا خیال رکھا کرتے تھے اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگائیے جس میں مدارس اور جامعات کے منتظمین کے لئے درس ہی درس ہے چنانچہ ایک مرتبہ ایک طالب علم نے کھانا کھانے کے بعد روٹی کا بچا ہوا ٹکڑا آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بھینس کو کھلانا چاہا جونہی آپ کی نظر اس طالب علم پر پڑی تو فرمایا:کیا کررہے ہو ؟ عرض کی:حضور !  روٹی کھاتے ہوئے یہ ٹکڑا بچ گیا تھالہذا بھینس کو کھلارہا ہوں،  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے ارشاد فرمایا : لنگر کی روٹیوں پر طلبہ کا حق ہے نہ کہ میری بھینس کا،  اس بچے ہوئے ٹکڑے کو لنگر میں رکھ آؤ ، ٹکڑے جمع ہوکر فروخت ہوجائیں پھر طلبہ کے کام آسکتے ہیں ۔  ([3])

جامعہ کی رقم اپنے پاس نہ رکھتے

مدرسہ اور مسجد کی رقم آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے کبھی اپنے پاس نہیں رکھی لوگ رقم دیتےتو فوراً فرماتے :خزانچی کو دے دو ۔بسا اوقات یوں بھی ہوا کہ لوگوں نے آپ کو نذرانہ پیش کیا چاہے وہ دست مبارک میں دیا ہو  یا  منی آرڈر کی صورت میں، جب تک یہ واضح نہ ہوجاتا کہ خاص  آپ کے لئے ہے تب تک اپنے استعمال میں نہ لیتے اور مدرسےہی میں جمع کروادیا کرتے  ۔ ([4])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضور محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کی سیرتِ مبارکہ یقیناً مدنی پھولوں کا مہکتا گلدستہ ہےمذکورہ واقعہ سے ایک مدنی پھول یہ بھی  ملتا ہے کہ مسجد،  مدرسہ ،  فلاحی ادارہ یا کسی بھی مد میں حاصل کی گئی  چندے کی رقم فوراً اس کے متعلقین تک پہنچادینی چاہیے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّشیخِ طریقت،  امیرِاہلسنّت،  بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد اِلیاس عطّارؔ قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ چندے کی رقم کے بارے میں بے حد احتیاط  فرماتے ہیں ، آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ’’چندے  کے بارے میں سوال جواب ‘‘نامی تالیف میں نہ صرف لاعلمی کے باعث چندے کی بابت ہونے والے گناہوں کی نشاندہی فرمائی ہے بلکہ بعض ان مسائل کو بھی بیان فرمایا ہے کہ جن کا جاننا مسجدوں ،  مدرسوں



[1]     حیات محدث اعظم، ص۵۱ملخصاً

[2]     اتحاف السادۃ المتقین ، ۹ / ۷۷۹

[3]     حیات محدث اعظم ، ص ۲۲۸

[4]     حیات محدث اعظم، ص۱۲۱ملخصاً



Total Pages: 22

Go To