Book Name:Faizan e Muhaddis e Azam Pakistan

طلبہ کى عزت افزائى

فقیہ ِ عصرمفتی ابو سعیدمحمد امىن مَدَّظِلُّہُ الْعَالِی بىان کرتے ہىں: محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانکی  رہائش گاہ پر نلکا  ( ہىنڈ پمپ) لگ رہا تھا،  آپ درسِ حدىث پاک سے فارغ ہو کر گھر  تشرىف لائے اور نلکا لگانے والوں سے فرماىا:اَب چھٹى کروکہ  آرام کا وقت ہے ظہر کے بعد کام مکمل کر لىنا، ان کے جانے کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مجھے  اور بڑے بھائى حضرت مولانا حاجى محمد حنىف مَدَّظِلُّہُ الْعَالِی کو بلوایا اور فرماىا: مسترى نلکا لگانے کے لئے ریت نکال رہے تھے،  ظہر کے بعد آئیں گے  اب تم دونوں رىت نکالو،  ابھی ہم دونوں بھائىوں نے اىک بار ہى رىت نکالى تھی کہ آپ نے  فرماىا: اَب رہنے دو ، ىہ سُن کر ہم دونوں شرمندہ ہوئے کہ شاید کام صحیحنہیں کرسکے ،   آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  ہماری شرمندگی  بھانپ گئے  اور فرماىا: ىہ جن کا کام ہے وہى کرىں گے۔ تم دونوں کو اس لىے بلاىا تھا کہ تمہارے ہاتھ لگ جائىں تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پانى مىٹھا نکل آئے گا۔ ([1])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  حضور محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانکے اس واقعہ سےعلم دین کے طلب گار   کی قدرو منزلت  کا اندازہ لگانے کی کوشش کیجئے جبکہ فی زمانہ طالبِ علم کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، اس کی راہ میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں،  طرح طرح کی تکالیف دی جاتی ہیں،  اسے احساسِ کمتری میں مبتلا کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں ۔یاد رکھئے کہ علم دین حاصل کرنا یقیناً بہت بڑی سعادت ہے چنانچہ حضرت سیّدُناابودَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  روایت کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو فرماتے سنا:جو علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلتاہے تواللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کا راستہ آسان فرما دیتاہے اور بےشک فرشتے طالب علم کے عمل سے خوش ہوکر اس کے لئے اپنے پر بچھا دیتے ہیں اور بے شک زمین وآسمان میں رہنے والے یہاں تک کہ پانی میں مچھلیاں عالم دین کے لئے استغفار کرتی ہیں ۔ ([2])

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

غریبوں پر خصوصی شفقت

آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  عُمُوماًمالداروں کی دعوت قبول نہ کرتے البتہ  کوئی غریب مسلمان دعوت کی پیشکش کرتا تو جہاں تک ممکن ہوتاقبول فرمالیتے اور اس کے معمولی وسادہ کھانے پر بھی اُس کی تعریف فرماتے تاکہ اس کے دل میں کوئی مَلال نہ آئے۔چنانچہ ایک مرتبہ ایک غریب آدمی کی دعوت پر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  اس کے گھر تشریف لے گئے۔ وہاں جاکر معلوم ہوا کہ اس کا مکان چھپر نما اور بدبودار علاقے میں ہے  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے اُس کی دِلجوئی کے لئے نہ صرف کھانا تناوُل فرمایابلکہ اپنے کسی عمل سےاس غریب کو یہ احساس نہ  ہونے دیا کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  بدبو محسوس کررہے ہیں،  حالانکہ عام حالات میں معمولی سی بدبو بھی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے لئے ناگوار ہوتی۔ ([3])  

سادہ غذا

ایک عقیدت مند نے دعوت کی پیشکش کرتے ہوئے پوچھا :حضور!  کھانے کا انتظام کیسا ہونا چاہیے اور آپ کیا کھانا پسندکریں  گے؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرماىا: مولانا!  خشک روٹى ،  پسى ہوئى مرچىں اور نلکے کا سادا پانى مىرے لىے کافى ہے،  کسى تکلىف کى ضرورت نہىں۔ ([4])

ایثار و قربانی کی منفرد مثال

شاعرِاہلسنت حضرت علامہ مفتی مجیب الاسلام نسیم  اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   اپنےدورِ طالب علمی کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں :جن دنوں حضور محدثِ ِاعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کی قیام گاہ مسجد” بی بی جی“  (بریلی شریف )  کا ایک کمرہ تھا میں حضرت کی خدمت میں رہا کرتا تھا قریب کسی گھر سےمیرے لئے  جو کھاناآتا تھا  وہ  بہت اچھا نہ ہوتا،  اکثر و بیشتر کھانا دیکھ کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے: مجھے بھوک لگ رہی ہے آپ اپنا کھانا مجھے دیدیں



[1]     حیات محدث اعظم ، ص ۵۳ملخصاً

[2]     سنن ابن ماجہ ، کتاب السنة ، ۱ / ۱۴۵، الحدیث: ۲۲۳

[3]     حیات محدّث اعظم، ص۱۸۴، ملخصاًوغیرہ

[4]     تذکرہ محدث اعظم پاکستان، ۲ /  ۲۷۱ملخصاً



Total Pages: 22

Go To