Book Name:Faizan e Muhaddis e Azam Pakistan

شریف اور امامِ اہلسنت،  اعلىٰ حضرت،  مجددِ دىن و ملت ،  مولانا شاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن کے اشعار اپنے تلامذہ اور نعت خواں سے سنتے اور شاد شاد ہوتے۔ ([1])

ساداتِ کرام شہزادے ہیں

آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ساداتِ کرام کا بے حد ادب کرتے اور ان سے کسی طرح کا کام لینا پسند نہ فرماتے چنانچہ دینی اجتماعات  ىا عرس مبارک کے انتظامات کے لىے طلبہ کى ڈىوٹىاں لگائى جاتىں تو ساداتِ کرام کےذمے کوئی  ڈىوٹى نہ لگاتےاگر کوئی عرض کردیتا تو ارشادفرماتے:ان کى ڈىوٹى ىہ ہے کہ  بس  لنگر کھائىں،  یہ شہزادے ہیں اور شہزادوں کو کوئی کام نہیں دیا جاتا۔ ([2])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واقعی جس سے حقیقی محبت ہو اس کی ہر چیز سے محبت ہو جاتی ہے ساداتِ کرام کا تعلق چونکہ دو جہاں کے مالک ومختار، رحمتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ہے اسی نسبت کی وجہ سے  اولیا وعُلمااور عوام الناس ہمیشہ  ان کا ادب کرتے  ہیں اسی طرح کا ایک واقعہ بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکے بارے میں ملتا ہے آپ عرب امارات میں قیام کے دوران ایک صاحب کی وساطت سے بعض Testکروانے کے لئے دبئی کے ایک ہسپتال کی لیبارٹری میں تشریف لےگئے۔ وہاں پر اپنے بول کی شیشی  (Urine Bottle) ان صاحب کو ان کے بے حد اصرار کے باوجود نہ اٹھانے دی ۔ بعد میں آپ سے عرض کی گئی :آپ نے ان صاحب کو یہ شیشی نہیں اٹھانے دی اس میں کیا حکمت ہے ؟ تو ارشاد فرمایا: وہ سید صاحب تھے ،  ان کو اپنے پیشاب کی بوتل کیسے پکڑاؤں ؟ اگر قیامت کے دن سید صاحب کے جدِ اعلی اور ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمادیا : الیاس! کیا تیرا پیشاب اٹھانے کے لئے میرا بیٹا ہی رہ گیا تھا تو اس وقت میں کیا جواب دوں گا ؟ ([3])

اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی اِن سب پر رحمت ہو اور اُن کے صَدَقے ہماری مغفرت ہو۔  اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                       صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

اِتِّباعِ سُنّت  کا جذبہ

مُحِبّ اپنےمحبوب کی اطاعت کرتا ہے اس کے حکم کی تعمیل کرتا ہے حضور محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان ایک سچے  عاشق رسول تھے تو یہ کیسے ممکن تھا کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کا کوئی فعل خلافِ سنت ہو اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگائیے :ایک مرتبہ نمازِ عصر کےبعد آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   مسجد سے باہر تشریف لائے جن لوگوں کو مسجد میں مصافحہ کا موقع نہ مل سکا تھا وہ مصافحہ کے لئے جُوق دَر جُوق آگے بڑھے ایک شخص نےآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے بائیں ہاتھ میں بطورِ نذرانہ کچھ رقم دینے کی کوشش کی جونہی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کو اس بات کا اندازہ ہوا فوراً ہاتھ کھینچ لیا اور فرمایا : الٹے ہاتھ سے  لینا اور الٹے ہاتھ میں دینا خلافِ سنت ہے ۔ ([4])

سیدھے ہاتھ سے لینے دینےکی اس سنت کی پاسداری کا یہ عالم تھاکہ شعورى اور غىر شعورى طور پر بھى اس کا خلاف نہ  ہوتابلکہ اپنے متعلقىن کو باربار تاکىد فرمایاکرتے کہ لىنے اور دىنے مىں دائىں ہاتھ کو استعمال کرو،  ىہ عادت اىسى پختہ ہوجائے کہ کل قىامت میں جب نامہ اعمال پىش ہو تو اسى عادت کے موافق داىاں ہاتھ آگے بڑھ جائے تب تو  کام بن جائے گا۔ ([5])

نعلینِ مبارک قبلہ رخ !

حضور محدثِ اعظم پاکستان رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اپنے نعلین کو قبلہ رخ رکھا کرتے تھے چنانچہ ایک دن شیخِ طریقت،  امیرِاہلسنّت،  بانیِ دعوتِ اسلامی



[1]     تذکرہ محدث اعظم پاکستان، ۱ / ۲۷۳تا۲۷۴ملخصاًوغیرہ

[2]     حیات ِ محدث ِ اعظم ، ص۱۶۰

[3]     فکرِ مدینہ ، ص ۹۶بتغیر

[4]     حیات محدث اعظم، ص۱۵۶ملخصاًوغیرہ

[5]     تذکرہ محدث اعظم پاکستان ، ۲ / ۲۸۳ملخصاً



Total Pages: 22

Go To