Book Name:Faizan e Muhaddis e Azam Pakistan

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

فیضان محدثِ اعظم پاکستان

دُرُود شریف کی فضیلت

    رسولِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم،  شاہِ بنی آدم، نبیِّ مُحتَشَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ مُعَظَّم ہے:جس نے مجھ پر سو مرتبہ دُرُودِپاک پڑھا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  اُس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھ دیتا ہے کہ یہ نِفاق اور جہنَّم کی آگ سے آزاد ہے اور اُسے بروزِ قیامت شُہَداء کے ساتھ رکھے گا۔ ([1])

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

مسلمانوں کی تابناک علمی تاریخ ان کی بزرگی وعظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ امامِ اعظم ہوں یا غوثِ اعظم ، امامِ غزالی ہوں یا امامِ رازی ، شاہ عبد الحق محدثِ دہلوی ہوں یا امامِ احمد رضا خان قادری  رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی ان نُفُوسِ قُدسِیَّہ نےاپنے اپنے دور میں  وقت کے تقاضوں کے مطابق اسلامی تعلیمات کے فروغ و اِشاعت میں پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی جانشینی کا حق ادا کیا۔ اولیائے کرام،  علمائےدین اور محدثین رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کی  اسی نورانی وعرفانی لڑی کے ایک نایاب وبے بدل موتی محدثِ اعظم پاکستان،  شىخ الحدىث والتفسىر،  جامع معقولات و منقولات،  رہبر شرىعت وطرىقت حضرت علامہ ابوالفضل محمد سردار احمد چشتى قادرى  عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِ القَوِی  ہیں آپ بىک وقت بلندپایہ مدرس،  بے مثال محدث ،  خوش بىان مقرر،  عظىم محقق اور مُتَدَىَّن (دیانت دار)  مفتى تھے اور سب سے بڑھ کر ىہ کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  عاشقِ رسول اور متبع شرىعت وسنّت تھے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی پاکیزہ زندگی ہمارے لئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے آئیے ! اس مینارہ نور کے چند گوشوں سے اپنی زندگی کو روشن کیجئے ۔

ولادتِ باسعادت

محدثِ اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد سردار احمد چشتى قادرى عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی قصبہ دىال گڑھ ضلع گورداس پور ( مشرقى پنجاب، ہند) مىں پىدا ہوئے،  آپ کى تارىخ ولادت۲۹ جمادی الاخریٰ ۱۳۲۱ھ بمطابق 22ستمبر1903ء ہے۔ ([2])

محدثِ اعظم پاکستان کاخاندانی پس منظر

آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے آباو اجدادکا تعلق قصبہ دیال گڑھ کے سیہول جٹ خاندان سے تھا جو شرافت،  دىانت،  پاکبازى اور مہمان نوازى مىں علاقہ بھر مىں شہرت رکھتا تھا،  پور اخاندان مشائخ کرام کا مرید اور عقیدت مندتھا۔والد محترم چودھرى مىراں بخش چشتی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا شمار علاقے کے معروف ومعزز افراد میں ہوتا تھا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نہ کسی کی غیبت کرتے  نہ ہی کسی کے نقصان پرخوش ہوتے ،  یہی وجہ تھی کہ سب لوگ آپ کے گُن گانے لگے تھے ۔ والد صاحبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کا  ذریعہ معاش کاشت کاری تھا ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کى والدہ محترمہ نماز روزے کی پابند بڑى عابدہ و زاہدہ اور نیک سىرت خاتون تھىں۔ حضور غوثِ پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے تو کمال درجے کی محبت فرماتی تھیں۔  ([3])

بچپن  ہی سے مذہبی رجحان  

حضرت ِمحدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانبچپن ہی سے دینی باتوں میں دلچسپی رکھتے تھے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   جب چلنے پھرنے کے قابل ہوئے تو والد ماجدکے ساتھ مسجد میں نماز پڑھنے چلے جاتے ۔ذکر و اذکار اور نعت خوانی کا ایسا ذوق تھا کہ عموماً چلتے پھرتے نعتیں پڑھتے اور ذکر اللہ کیا



[1]    مَجْمَعُ الزَّوَائِد ، ۱۰ / ۲۵۳، حدیث : ۱۷۲۹۸

[2]     تذکرہ محدث اعظم، ص۱۶

[3]    حیات  محدث اعظم ، ص۲۷ ملخصاًوغیرہ



Total Pages: 22

Go To