Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

ترجمۂ کنزالایمان: فرمایا یہاں سے نکل جا رد کیا گیا راندہ ہوا ضرور جو اُن میں سے تیرے کہے پر چلا میں تم سب سے جہنم بھردوں گا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اللہ نے فرمایا: تو یہاں سے ذلیل و مردود ہو کرنکل جا۔ بیشک ان میں سے جو تیری پیروی کرے گا تو میں ضرور تم سب سے جہنم بھردوں گا۔

{ قَالَ اخْرُ جْ مِنْهَا:(اللہ نے) فرمایا: تو یہاں سے نکل جا۔} فرمایا کہ  تو یہاں سے ذلیل و مردود ہو کرنکل جا آج فرشتوں میں ذلیل اور آئندہ ہر جگہ ذلیل و خوار ہو کہ لعنت کی مار تجھ پر پڑتی رہے۔ معلوم ہوا کہ پیغمبر کی دشمنی تمام کفروں سے بڑھ کر ہے، شیطان عالم وزاہد ہونے کے باوجود نبی کی تعظیم سے انکار پر ایسا ذلیل ہوا۔

{ لَاَمْلَــٴَـنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ اَجْمَعِیْنَ: میں ضرور تم سب سے جہنم بھردوں گا۔} یعنی اے شیطان! تجھ کو بھی اور تیری اولاد کو بھی اور تیری اطاعت کرنے والے آدمیوں کو بھی سب کو جہنم میں داخل کیا جائے گا۔

 جہنم کو جنوں اور انسانوں سے بھرا جائے گا:

            اس سے معلوم ہوا کہ دوزخ میں شیطان، جنات اور انسان سب ہی جائیں گے اور اللہ تعالیٰ ان سے جہنم کو بھر دے گا۔ اسی چیز کو بیان کرتے ہوئے ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’ وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَــٴَـنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ ‘‘(ہود:۱۱۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تمہارے رب کی بات پوری ہوچکی کہ بیشک میں ضرور جہنم کو جنوں اور انسانوں سے ملا کربھر دوں گا۔

            اور حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ جہنم اور جنت میں مُباحثہ ہوا تو جہنم نے کہا: مجھ میں جَبّار اور متکبر لوگ داخل ہوں گے۔ جنت نے کہا: مجھ میں کمزور اور مسکین لوگ داخل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جہنم سے فرمایا ’’تم میرا عذاب ہو، میں جس کو چاہوں گا تمہارے ذریعے عذاب دوں گا۔ جنت سے فرمایا ’’تم میری رحمت ہو، میں تمہارے ذریعے جس پر چاہوں گا رحم کروں گا اور تم میں سے ہر ایک کو پُر ہونا ہے۔(مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا، باب النار یدخلہا الجبارون ۔۔۔ الخ، ص۱۵۲۴، الحدیث: ۳۴(۲۸۴۶))

وَ یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَیْثُ شِئْتُمَا وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ(۱۹)فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَهُمَا مَاوٗرِیَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْاٰتِهِمَا وَ قَالَ مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَیْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَ(۲۰)وَ قَاسَمَهُمَاۤ اِنِّیْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَۙ(۲۱) فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍۚ-فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِؕ-وَ نَادٰىهُمَا رَبُّهُمَاۤ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَ اَقُلْ لَّكُمَاۤ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(۲۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اے آدم تو اور تیرا جوڑا جنت میں رہو تو اُس میں سے جہاں چاہو کھاؤ اور اس پیڑ کے پاس نہ جانا کہ حد سے بڑھنے والوں میں ہو گے۔ پھر شیطان نے ان کے جی میں خطرہ ڈالا کہ ان پر کھول دے ان کی شرم کی چیزیں جو ان سے چھپی تھیں اور بولا تمہیں تمہارے رب نے اس پیڑ سے اسی لیے منع فرمایا ہے کہ کہیں تم دو فرشتے ہوجاؤ یا ہمیشہ جینے والے۔اور ان سے قسم کھائی کہ میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں۔تو اُتار لایا انہیں فریب سے پھر جب انہوں نے وہ پیڑ چکھا ان پر اُن کی شرم کی چیزیں کھل گئیں اور اپنے بدن پر جنت کے پتے چپٹانے لگے اور انہیں ان کے رب نے فرمایا کیا میں نے تمہیں اس پیڑ سے منع نہ کیا اور نہ فرمایا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو پھر اُس میں سے جہاں چاہو کھاؤ اور اُس درخت کے پاس نہ جانا ورنہ حد سے بڑھنے والوں میں سے ہو جاؤگے۔ پھر شیطان نے انہیں وسوسہ ڈالا تاکہ ان پر ان کی چھپی ہوئی شرم کی چیزیں کھول دے اور کہنے لگا تمہیں تمہارے رب نے اس درخت سے اسی لیے منع فرمایا ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ یا تم ہمیشہ زندہ رہنے والے نہ بن جاؤ۔اور ان دونوں سے قسم کھاکر کہا کہ بیشک میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں۔ تو وہ دھوکہ دے کر ان دونوں کو اُتار لایا پھر جب انہوں نے اس درخت کا پھل کھایا تو ان کی شرم کے مقام ان پر کھل گئے اور وہ جنت کے پتے ان پر ڈالنے لگے اور انہیں ان کے رب نے فرمایا: کیا میں نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا؟ اور میں نے تم سے یہ نہ فرمایا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے؟

{ وَ یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ: اور اے آدم! تم رہو ۔}اس آیت اور بعد والی چند آیات میں جو واقعہ بیان ہوا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ شیطان کو ذلیل و رسوا کر کے جنت سے نکال دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے فرمایا کہ آپ اور آپ کی بیوی حضرت حوا  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھَا جنت میں رہو اور جنتی پھلوں میں سے جہاں چاہو کھاؤ لیکن اس درخت کے قریب نہ جانا۔ وہ درخت گندم تھا یا کوئی اور، ( جو بھی رب تعالیٰ کے علم میں ہے ۔) شیطان نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماور حضرت حوا  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھا کو وسوسہ ڈالا چنانچہ ابلیس ملعون نے اللہ تعالیٰ کی جھوٹی قسم کھاتے ہوئے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کہا: ’’اس درخت میں یہ تاثیر ہے کہ اس کا پھل کھانے والا فرشتہ بن جاتا ہے یا ہمیشہ کی زندگی حاصل کرلیتا ہے اور اس کے ساتھ ممانعت کی کچھ تاویلیں کرکرا کے دونوں کو اس درخت سے کھانے کی طرف لے آیا۔ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دل میں چونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نام کی عظمت انتہا درجے کی تھی اس لئے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو گمان بھی نہ تھا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم کھا کر کوئی جھوٹ بھی بول سکتا ہے نیز جنت قربِ الہٰی کا مقام تھا اور حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بھی اُس مقامِ قرب میں رہنے کا اشتیاق تھا اور فرشتہ بننے یا دائمی بننے سے یہ مقام حاصل ہوسکتا ہے لہٰذا آپ نے شیطان کی قسم کا اعتبار کر لیا اور ممانعت کو محض تنزیہی سمجھتے ہوئے یا خاص درخت کی ممانعت سمجھتے ہوئے اسی جنس کے دوسرے درخت سے کھالیا۔ اس کے کھاتے ہی جنتی لباس جسم سے جدا ہوگئے اور پوشیدہ اعضاء ظاہر ہوگئے۔ جب بے سَتری ہوئی  تو ان بزرگوں نے انجیر کے پتے اپنے جسم شریف پر ڈالنے شروع کر دئیے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا: ’’ کیا میں نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا؟ اور میں نے تم سے یہ نہ فرمایا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے؟ دونوں نے عرض کی: اے ہمارے رب !عَزَّوَجَلَّ،ہم نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اور اگر تو نے ہماری مغفرت نہ فرمائی اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ضرور ہم نقصان والوں میں سے ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: اے آدم و حوا !تم اپنی ذریت کے ساتھ جو تمہاری پیٹھ میں ہے جنت سے اترجاؤ ،تم میں ایک دوسرے کا دشمن ہے اور تمہارے لئے زمین میں ایک وقت تک ٹھہرنا اور دنیاوی زندگی سے نفع اٹھانا ہے۔

{ وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ: اور وہ دونوں چپٹانے لگے۔} حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور حضرت حوا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھاکے لباس جدا ہوتے ہی دونوں کا پتوں کے ساتھ اپنے بدن کو چھپانا شروع کردینا



Total Pages: 191

Go To