Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی عاجزی:

            جب حضرت عمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ شام کی طرف تشریف لے گئے تو حضرت سیدنا ابوعبیدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی ان کے ساتھ تھے یہاں تک کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایک ایسے مقام پر پہنچے جہاں گھٹنوں تک پانی تھا، آپ  اپنی اونٹنی پرسوار تھے، آپ اونٹنی سے اترے اور اپنے موزے اتار کراپنے کندھے پررکھ لئے، پھر اونٹنی کی لگام تھام کرپانی میں داخل ہو گئے تو حضرت ابوعبیدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی :اے امیرُالمؤمنین! رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ، آپ یہ کام کررہے ہیں

 

 مجھے یہ پسند نہیں کہ یہاں کے باشندے آپ کو نظر اٹھا کر دیکھیں۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ارشاد فرمایا ’’افسوس! اے ابوعبیدہ! اگریہ بات تمہارے علاوہ کوئی اور کہتا تو میں اسے اُمتِ محمدی  عَلٰی صَاحِبَہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لئے عبرت بنا دیتا، ہم ایک بے سرو سامان قوم تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسلام کے ذریعے عزت عطا فرمائی، جب بھی ہم اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عزت کے علاوہ سے عزت حاصل کرنا چاہیں گے تو اللہ تعالیٰ  ہمیں رسوا کر دے گا(الزواجر عن اقتراف الکبائر، الباب الاول فی الکبائر الباطنۃ۔۔۔ الخ، ۱ / ۱۶۱)۔[1]

قَالَ اَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ(۱۴)قَالَ اِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ(۱۵)

ترجمۂ کنزالایمان: بولا مجھے فرصت دے اس دن تک کہ لوگ اٹھائے جائیں۔ فرمایا تجھے مہلت ہے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  شیطان نے کہا: تومجھے اس دن تک مہلت دیدے جس میں لوگ اٹھائے جائیں گے۔ اللہ نے فرمایا: تجھے مہلت ہے۔

{ قَالَ اِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ:فرمایا تجھے مہلت ہے۔} یعنی پہلے نفخہ (صور پھونکنے) تک تجھے مہلت ہے۔ اس مہلت کی مدت سورئہ حجر کی ان آیات میں بیان فرمائی گئی:

’’ قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ(۳۷) اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ ‘‘(حجر:۳۷، ۳۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اللہ نے فرمایا: پس بیشک توان میں سے ہے جن کو معین وقت کے دن تک مہلت دی گئی ہے۔

            اور یہ نَفخۂ اُولیٰ کا وقت ہے جب سب لوگ مرجائیں گے ۔شیطان مردود نے دوسرے نفخہ (صور پھونکنے) تک یعنی مردوں کے دوبارہ زندہ ہونے کے وقت تک کی مہلت چاہی تھی اور اس سے اس کا مطلب یہ تھا کہ موت کی سختی سے بچ جائے مگر یہ درخواست قبول نہ ہوئی اور اسے پہلے نفخہ تک کی مہلت دی گئی کہ جب پہلی بار صور پھونکا جائے گا تو سب کے ساتھ وہ بھی ہلاک ہوجائے گا ۔

قَالَ فَبِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِیْمَۙ(۱۶)

ترجمۂ کنزالایمان: بولا تو قسم اس کی کہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں ضرور تیرے سیدھے راستہ پر ان کی تاک میں بیٹھوں گا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: شیطان نے کہا: مجھے اِس کی قسم کہ تو نے مجھے گمراہ کیا، میں ضرور تیرے سیدھے راستہ پر لوگوں کی تاک میں بیٹھوں گا۔

{ قَالَ فَبِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ:شیطان نے کہا: مجھے اِس کی قسم کہ تو نے مجھے گمراہ کیا۔} شیطان نے یہاں گمراہ کرنے کی نسبت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف کی، اِس میں یا تو شیطان نے خود کو مجبورِ مَحض مان کر جَبریہ فرقے کی طرح یہ بات کی جو یہ کہتے ہیں کہ انسان مجبورِ محض ہے، وہ جو کچھ کرتا ہے اس میں اپنے اختیار سے نہیں کرتا اور یا پھر اللہ تعالیٰ کی بے ادبی کے طور پر کہا کیونکہ ہرشے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قدرت و تخلیق سے ہوتی ہے لیکن چونکہ بندے کے کسب و فعل کا بھی دخل ہوتا ہے اس لئے حکم ہے کہ برائی کواللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف منسوب کرنے کی بجائے اپنے نفس کی طرف منسوب کرنا چاہیے لیکن شیطان جو حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسّلَام کا گستاخ ہوچکا تھا تو اب اللہ عَزَّوَجَلَّ کا بھی گستاخ بن گیا۔ معلوم ہوا کہ نبی کا گستاخ بالآخر اللہ عَزَّوَجَلَّ  کا بھی کھلم کھلا گستاخ بن جاتا ہے۔

{ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِیْمَ:میں ضرور تیرے سیدھے راستہ پر لوگوں کی تاک میں بیٹھوں گا۔} یعنی  باپ کا بدلہ اولاد سے لوں گا۔ بنی آدم کے دِل میں وسوسے ڈالوں گا اور اُنہیں باطل کی طرف مائل کروں گا، گناہوں کی رغبت دلاؤں گا، تیری اطاعت اور عبادت سے روکوں گا اور گمراہی میں ڈالوں گا۔ بعض کو کافر و مشرک بنا دوں گا تاکہ دوزخ میں اکیلا نہ جاؤں بلکہ جماعت کے ساتھ جاؤں۔

ثُمَّ لَاٰتِیَنَّهُمْ مِّنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِهِمْ وَ عَنْ شَمَآىٕلِهِمْؕ-وَ لَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِیْنَ(۱۷)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر ضرور میں ان کے پاس آؤں گا ان کے آگے اور پیچھے او ر داہنے اور بائیں سے اور تو ان میں اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر ضرور میں ان کے آگے اور ان کے پیچھے او ر ان کے دائیں اور ان کے بائیں سے ان کے پاس آؤں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا۔

{ ثُمَّ لَاٰتِیَنَّهُمْ:پھر ضرور میں ان کے پاس آؤں گا۔} شیطان نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پھر میں ضرور بنی آدم کے آگے، پیچھے او ر ان کے دائیں ، بائیں یعنی چاروں طرف سے ان کے پاس آؤں گا اور اُنہیں گھیر کر راہِ راست سے روکوں گا تاکہ وہ تیرے راستے پر نہ چلیں اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  فرماتے ہیں ’’سامنے سے مراد یہ ہے کہ میں ان کی دنیا کے متعلق وسوسے ڈالوں گا اور پیچھے سے مراد یہ ہے کہ ان کی آخرت کے متعلق وسوسے ڈالوں گا اور دائیں سے مراد یہ ہے کہ ان کے دین میں شبہات ڈالوں گا اور بائیں سے مراد یہ ہے کہ ان کو گناہوں کی طرف راغب کروں گا۔(خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۷، ۲ / ۸۱) چونکہ شیطان بنی آدم کو گمراہ کرنے، شہوتوں اور قبیح افعال میں مبتلاء کرنے میں اپنی انتہائی سعی خرچ کرنے کا عزم کرچکا تھایا وہ انسان کی اچھی بری صفات سے واقف تھا یا اس نے فرشتوں سے سن رکھا تھا، اس لئے اسے گمان تھا کہ وہ بنی آدم کو بہکالے گا اور انہیں فریب دے کر خداوند عالم کی نعمتوں کے شکر اور اس کی طاعت و فرمانبرداری سے روک دے گا۔

انسانوں کو بہکانے میں شیطان کی کوششیں :

            حضرت سبرہ بن ابو فاکہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،  تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے فرمایا: ’’ شیطان، اِبنِ آدم کے تمام راستوں میں بیٹھ جاتا ہے اور اس کو اسلا م



[1]    تکبر کی مذمت اور عاجزی کے فضائل وغیرہ سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے کتاب’’تکبر‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ بہت مفید ہے۔



Total Pages: 191

Go To