Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اللہ نے فرمایا: جب میں نے تجھے حکم دیا تھاتو تجھے سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا؟ ابلیس نے کہا: میں اس سے بہتر ہوں۔تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے بنایا۔

{ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ:تو نے مجھے آگ سے بنایا۔} اس سے ابلیس کی مراد یہ تھی کہ آگ مٹی سے افضل اورا علیٰ ہے تو جس کی اصل آگ ہوگی وہ اس سے افضل ہوگا جس کی اصل مٹی ہو اور اس خبیث کا یہ خیال غلط وباطل تھا کیونکہ افضل وہ ہے جسے مالک و مولیٰ فضیلت دے، فضیلت کا مدار اصل اور جوہر پر نہیں بلکہ مالک کی اطاعت وفرمانبرداری پر ہے نیز آگ کا مٹی سے افضل ہونا بھی صحیح نہیں کیونکہ آگ میں طیش اور تیزی اور بلندی چاہنا ہے اور یہ چیزیں تکبر کاسبب بنتی ہے جبکہ مٹی سے وقار ،حلم اور صبر حاصل ہوتے ہیں۔ یونہی مٹی سے ملک آباد ہوتے ہیں جبکہ آگ سے ہلاک ہوتے ہیں۔ نیزمٹی امانت دار ہے جو چیز اِس میں رکھی جائے مٹی ا سے محفوظ رکھتی ہے جبکہ جو چیز آگ میں ڈالی جائے، آگ اسے فنا کردیتی ہے۔ نیز مٹی آگ کو بجھا دیتی ہے اور آگ مٹی کو فنا نہیں کرسکتی۔ نیز یہاں ایک اور بات یہ ہے کہ شیطان پرلے درجے کا احمق و بدبخت تھا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا صریح حکم موجود ہوتے ہوئے اس کے مقابلے میں قیاس کیا اور جو قیاس نص کے خلاف ہو وہ ضرور مردود۔ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ امر (حکم) وجوب کے لئے ہوتا ہے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ نے جو شیطان سے سجدہ نہ کرنے کا سبب دریافت فرمایا تو یہ اس کی ڈانٹ پھٹکار کیلئے تھا اور اس لئے کہ شیطان کی حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے دشمنی اور اس کاکفر وتکبر ظاہر ہوجائے نیز اپنی اصل یعنی آگ پر مغرور ہونا اور حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اصل یعنی مٹی کی تحقیر کرنا ظاہر ہوجائے۔

قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا یَكُوْنُ لَكَ اَنْ تَتَكَبَّرَ فِیْهَا فَاخْرُ جْ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِیْنَ(۱۳)

ترجمۂ کنزالایمان: فرمایا تو یہاں سے اُ تر جا تجھے نہیں پہنچتا کہ یہاں رہ کر غرور کرے نکل تو ہے ذلت والوں میں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اللہ نے فرمایا: تو یہاں سے اُ تر جا، پس تیرے لئے جائز نہیں کہ تو اس مقام میں تکبر کرے، نکل جا، بیشک توذلت والوں میں سے ہے۔

 { قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا:فرمایا تو یہاں سے اُ تر جا۔} یعنی جنت سے اتر جا کہ یہ جگہ اطاعت و تواضع کرنے والوں کی ہے منکر و سرکش کی نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنت پہلے سے موجود ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ جنت اوپر ہے، زمین کے نیچے نہیں کیونکہ اترنا اوپر سے ہوتا ہے۔

{ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِیْنَ: بیشک توذلت والوں میں سے ہے۔} کہ انسان تیری مذمت کرے گا اور ہر زبان تجھ پر لعنت کرے گی اور یہی تکبر والے کا انجام ہے۔

 تکبر کی مذمت:

            اس سے معلوم ہوا کہ تکبر ایسا مذموم وصف ہے کہ ہزاروں برس کا عبادت گزار اور فرشتوں کا استاد کہلانے والا ابلیس بھی اس کی وجہ سے بارگاہِ الہٰی میں مردود ٹھہرا اور قیامت تک کے لئے ذلت و رسوائی کا شکار ہو گیا۔ ذیل میں ہم تکبر کی مذمت پر مشتمل 4 احادیث اور عاجزی کے فضائل کے بیان میں 4احادیث اور ایک حکایت ذکر کر رہے ہیں تاکہ مسلمان ابلیس کے انجام کو سامنے رکھتے ہوئے ان احادیث کو بھی پڑھیں اور تکبر چھوڑ کر عاجزی اختیار کرنے کی کوشش کریں ، چنانچہ

(1)…حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، سیدُ المرسلینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا:’’ کیا میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے بد ترین بندے کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ وہ بد اخلاق اور متکبر ہے۔ (مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث حذیفۃ بن الیمان عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم، ۹ / ۱۲۰، الحدیث: ۲۳۵۱۷)

(2)… حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’جو تکبر کی وجہ سے اپنا تہبند لٹکائے گا تو قیامت کے دن اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی طرف رحمت کی نظر نہ فرمائے گا۔ (بخاری، کتاب اللباس، باب من جرّ ثوبہ من الخیلاء، ۴ / ۴۶، الحدیث: ۵۷۸۸)

(3) …حضرت عبداللہ بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، سرورِکائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’ قیامت کے دن تکبر کرنے والے چیونٹیوں کی طرح آدمیوں کی صورت میں اٹھائے جائیں گے، ہر طرف سے ذلت انہیں ڈھانپ لے گی، انہیں جہنم کے قید خانے کی طرف لے جایا جائے گا جس کا نام ’’بولس‘‘ ہے، آگ ان پر چھا جائے گی اور انہیں ’’طِیْنَۃُ الْخَبَالْ ‘‘ یعنی جہنمیوں کی پیپ اور خون پلایا جائے گا۔ (ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، ۴۷-باب، ۴ / ۲۲۱، الحدیث: ۲۵۰۰)

(4)…حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس کے دل میں رائی کے دانے جتنا بھی تکبر ہو گا وہ جنت میں داخل نہ ہو گا۔ (مسلم، کتاب الایمان، باب تحریم الکبر وبیانہ، ص۶۰، الحدیث: ۱۴۷(۹۱))

عاجزی کے فضائل:

(1)…حضرت عیاض بن حِمار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے،  سرکارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ نے میری طرف یہ وحی فرمائی ہے کہ تم لوگ عاجزی اختیار کرو اورتم میں سے کوئی دوسرے پر فخر نہ کرے۔( ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب البراء ۃ من الکبر والتواضع، ۴ / ۴۵۹، الحدیث: ۴۱۷۹)

(2)…اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھا سے روایت ہے، سرورِ دوعالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’اے عائشہ! عاجزی اپنا ؤکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ عاجزی کرنے والوں سے محبت ،اور تکبرکرنے والوں کو ناپسند فرماتا ہے۔(کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، ۲ / ۵۰، الحدیث: ۵۷۳۱، الجزء الثالث)

(3)…حضرت انس جُہنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’جس نے قدرت کے باوجود اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے اعلیٰ لباس ترک کر دیا تو اللہ عَزَّوَجَلَّقیامت کے دن اسے لوگوں کے سامنے بلا کر اختیار دے گا کہ ایمان کا جو جوڑا چاہے پہن لے۔ (ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، ۳۹-باب، ۴ / ۲۱۷، الحدیث: ۲۴۸۹)

(4)…حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’جواپنے مسلمان بھائی کے لئے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے بلندی عطا فرماتا ہے اور جو مسلمان بھائی پر بلندی چاہتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے پستی میں ڈال دیتا ہے۔ (معجم الاوسط، من اسمہ محمد، ۵ / ۳۹۰، الحدیث: ۷۷۱۱)

 



Total Pages: 191

Go To