Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

{ وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓىٕفَ الْاَرْضِ:اور وہی ہے جس نے زمین میں تمہیں نائب بنایا۔} کیونکہ سیّدِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ خاتَمُ النبییّن ہیں آپ کے بعد کوئی نبی نہیں اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی اُ مت سب امتوں میں آخری امت ہے، اس لئے ان کو زمین میں پہلوں کا خلیفہ کیا کہ اس کے مالک ہوں اور اس میں تصرف کریں۔ اور فرمایا: ’’اور تم میں ایک کو دوسرے پر درجوں بلندی دی‘‘ یعنی شکل و صورت میں ،حسن و جمال میں ،رزق و مال میں ،علم و عقل میں اور قوت و کمال میں ایک کو دوسرے پر بلندی دی اور اس کا مقصد تمہاری آزمائش کرنا ہے کہ کون نعمتوں کے ملنے پر شکر ادا کرتا ہے اور کون ظلم و زیادتی کی راہ پر چلتا ہے؟ کون امتحان میں کامیاب ہوتا ہے اور کون ناکام ہوتا ہے؟

            قرآنِ کریم کی اور آیات میں بھی اس چیز کو بیان کیاگیا ہے ،چنانچہ ایک اور مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

’’ اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ‘‘ (عنکبوت:۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھاہے کہ انہیں صرف اتنی بات پر چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ کہتے ہیں ہم’’ ایمان لائے ‘‘ اور انہیں آزمایا نہیں جائے گا؟

            اور ارشاد فرمایا:

’’ وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ‘‘ (بقرہ:۱۵۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم ضرورتمہیں کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کوخوشخبری سنا دو۔

 

اور فرمایا:

’’ كُلُّ نَفْسٍ ذَآىٕقَةُ الْمَوْتِؕ-وَ نَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَةًؕ-وَ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ‘‘ (الانبیاء:۳۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اور ہم برائی اور بھلائی کے ذریعے تمہیں آزماتے ہیں اور ہماری ہی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔

            ارشاد فرمایا :

’’ فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا٘-ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰهُ نِعْمَةً مِّنَّاۙ-قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍؕ-بَلْ هِیَ فِتْنَةٌ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ‘‘ (الزمر:۴۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر جب آدمی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے پھر جب اسے ہم اپنے پاس سے کوئی نعمت عطا فرمائیں توکہتا ہے یہ تو مجھے ایک علم کی بدولت ملی ہے (حالانکہ ایسا نہیں ہے) بلکہ وہ تو ایک آزمائش ہے مگر ان میں اکثر لوگ جانتے نہیں۔

            ایک اور مقام پر فرمایا:

’’ اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ‘‘ (کہف:۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک ہم نے زمین پر موجود چیزوں کو اس کیلئے زینت بنایا تاکہ ہم انہیں آزمائیں کہ ان میں عمل کے اعتبار سے کون اچھا ہے؟

 { اِنَّ رَبَّكَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ:بیشک تمہارا رب بہت جلد عذاب دینے والا ہے۔}یعنی اللہ تعالیٰ فاسق و فاجر اور گنہگار کو بہت جلد سزا دینے والا ہے۔ اس مقام پر ایک اعتراض یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حلیم ہونے میں کوئی شک نہیں ہے، وہ اپنے نافرمان کو جلدی سزا نہیں دیتا پھر کس طرح فرمایا کہ’’بیشک تمہارا رب بہت جلد عذاب دینے والا ہے۔‘‘ اس کا جواب دیتے ہوئے ابو عبداللہ محمد بن احمد انصاری قرطبی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ ہر وہ کام جویقینا ہونے والا ہے وہ قریب ہی ہے۔ (قرطبی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۶۵، ۴ / ۱۱۶، الجزء السابع)

            تفسیرِ صاوی میں ہے کہ ’’سَرِیْعُ الْعِقَابِ‘‘ کا معنی ہے جب عذاب کا وقت آ جائے تو اس وقت اللہ  تعالیٰ عذاب نازل کرنے میں دیر نہیں فرماتا۔ (صاوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۶۵، ۲ / ۶۵۳)

 

سورۃُ الاعراف

سورۂ اعراف کا تعارف

 مقامِ نزول:

            یہ سورت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے اور ایک روایت کے مطابق پانچ آیتوں کے علاوہ یہ سورت مکیہ ہے، ان پانچ آیات میں سے پہلی آیت ’’ وَ سْــٴَـلْهُمْ عَنِ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ‘‘ ہے۔ (خازن، الاعراف، ۲ / ۷۶)

رکوع اور آیات کی تعداد:

            اس سورت میں24 رکوع اور206 آیتیں  ہیں۔

’’اَعراف‘‘نام رکھنے کی وجہ :

            اعراف کا معنی ہے بلند جگہ، اس سورت کی آیت نمبر 46میں جنت اور دوزخ کے درمیان ایک جگہ اعراف کا ذکر ہے جو کہ بہت بلند ہے، اس مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ اعراف ‘‘رکھا گیا۔

سورۂ اَعراف کی فضیلت:

            حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھا سے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جس نے قرآنِ پاک کی پہلی 7 بڑی سورتوں کوحفظ کیا اور ان کی تلاوت کرتا رہا تو یہ اس کے لئے کثیر ثواب کا باعث ہے۔ (مستدرک، کتاب فضائل القرآن، من اخذ السبع الاول من القرآن فہو خیر، ۲ / ۲۷۰، الحدیث: ۲۱۱۴)ان سات سورتوں میں سے ایک سورت اعراف بھی ہے۔

سورۂ اَعراف کے مضامین:

 



Total Pages: 191

Go To