Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

نیکیوں کو بڑھائے ایک کے سات سو کرے یا بے حساب عطا فرمائے۔

ثواب کے درجات:

            اس آیت سے متعلق علامہ عبد الرؤف مناوی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : اس آیت میں جس اضافے کا وعدہ کیا ہے یہ اس کا کم ازکم حصہ ہے۔ (فیض القدیر، حرف الہمزۃ، ۲ / ۳۱۳، تحت الحدیث: ۱۷۶۳)

            ایک اورمقام پرارشاد فرماتے ہیں : آیت سے مرادکہ ’’جو ایک نیکی لائے‘‘ کے مقابلے میں ثواب کے مراتب میں سے اَقَل مرتبے کا بیان ہے اور اس کے اکثر مرتبے کی کوئی انتہا نہیں۔ (فیض القدیر، حرف المیم، ۶ / ۱۸۸، تحت الحدیث: ۸۷۳۱)

            حضرت ملا علی قاری رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ظاہر یہ ہے کہ یہ اقل (یعنی کم از کم) اضافہ ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم وفضلہا، الفصل الاول، ۳ / ۱۰، تحت الحدیث: ۹۲۱)

            ایک اور مقام پر فرمایا ’’اور وہ زیادتی کا قلیل مرتبہ ہے جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں کیا گیا ہے’’ مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا ‘‘جو ایک نیکی لائے تو اس کے لئے اس جیسی دس ہیں۔(مرقاۃ المفاتیح، کتاب فضائل القرآن، الفصل الثانی، ۴ / ۶۴۷، تحت الحدیث: ۲۱۳۷)

            حضرت علامہ عبد الرحمٰن بن شہاب الدین بغدادی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :’’ نیکی کا دس گنا اضافہ تمام نیکیوں کے لئے لازم ہے، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانِ عالیشان ہے’’ مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا ‘‘ جو ایک نیکی لائے تو اس کے لئے اس جیسی دس ہیں۔‘‘(جامع العلوم والحکم، الحدیث السابع والثلاثون، ص۴۳۶)

علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اس آیت میں جو جزا بیان ہوئی یہ اس کے لئے ہے جو نیکی یا گناہ کرے البتہ جس نے نیکی کا ارادہ کیا اور اسے کر نہ سکا تو اس کے لئے ایک نیکی لکھی جائے گی اور جس نے گناہ کا ارادہ کیا لیکن گناہ کیا نہیں ، اب اگر اس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خوف کی وجہ سے گناہ چھوڑا ہو گا تو اس کے نامۂ اعمال میں ایک نیکی لکھی جائے گی ورنہ کچھ نہ لکھا جائے گا۔ (تفسیر صاوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۶۰، ۲ / ۶۵۲)

            یاد رہے کہ ثواب کے اکثر درجات کی کوئی حد نہیں ، قرآنِ پاک میں سات سو گنا کا ذکر فرمانے کے بعد فرمایا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّجس کیلئے چاہے اس سے بھی زیادہ بڑھا دے اور قرآنِ پاک میں صبر پر بے حساب اجر کا وعدہ ہے اور حدیث میں مکہ سے پیدل حج کرنے پر ہر قدم پر سات کروڑ نیکیوں کی بشارت ہے۔

{ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ:اور ان پر ظلم نہیں کیاجائے گا۔} ارشاد فرمایا کہ ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا خواہ اس طرح کہ اطاعت گزار اور نیک اعمال کرنے والے کے ثواب میں کمی کر دی جائے اور نافرمان اور گنہگار کو اس کے جرم سے زیادہ سزا دے دی جائے یااس طرح کہ انہیں جرم کئے بغیر عذاب دیا جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کفار کے چھوٹے بچے جو بچپن میں فوت ہو جائیں وہ دوزخی نہیں کیونکہ انہوں نے کوئی گناہ نہیں کیا۔

ظلم کے معنی:

            ظلم کے دو معنی ہیں :

(1)… کسی غیر کی چیز میں بلا اجازت تصرف کرنا۔ (صاوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۶۰، ۲ / ۶۵۲)

(2)… بے قصور کو سزا دے دینا یا کام لے کر اس کی اجرت نہ دینا۔ (جامع العلوم والحکم، الحدیث الرابع والعشرون، ص۲۸۱، التیسیر شرح جامع صغیر، حرف العین، ۲ / ۱۳۵)

            ان جیسی آیات میں ظلم کے دوسرے معنی مراد ہیں اور حدیثِ پاک کہ اگر خدا تمام دنیا کو دوزخ میں بھیج دے تو ظالم نہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ہر چیز اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مِلکیت ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّاپنی ملکیت میں جیسے چاہے تصرف فرمائے۔

قُلْ اِنَّنِیْ هَدٰىنِیْ رَبِّیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ﳛ دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًاۚ-وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ(۱۶۱)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ بیشک مجھے میرے رب نے سیدھی راہ دکھائی ٹھیک دینِ ابراہیم کی ملّت جو ہر باطل سے جُدا تھے اور مشرک نہ تھے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ، بیشک مجھے میرے رب نے سیدھے راستے کی طرف ہدایت فرمائی، (یہ) مضبوط دین ہے جوہر باطل سے جدا ابراہیم کی ملت ہے اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھے۔

{ قُلْ اِنَّنِیْ هَدٰىنِیْ رَبِّیْ:تم فرماؤ، بیشک مجھے میرے رب نے ہدایت فرمائی۔} اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے ایک یہ کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو بلاواسطہ رب تعالیٰ نے عقائد، اعمال ہر قسم کی ہدایت دی۔ دوسرے یہ کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اول سے ہدایت پر تھے ایک آن کے لئے اس سے دور نہ ہوئے۔ جو ایک آن کے لئے بھی حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکو ہدایت سے علیحدہ مانے وہ اس آیت کا منکر ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا:’’ میرے رب نے مجھے ادب سکھایا اور بہت اچھا ادب سکھایا۔ (جامع صغیر، حرف الہمزۃ، ص۲۵، الحدیث: ۳۱۰)

{ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ:اور (ابراہیم) مشرکوں میں سے نہ تھے۔} اس میں کفارِ قریش کا رد ہے جو گمان کرتے تھے کہ وہ دین ابراہیمی پر ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حضرت ابراہیمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مشرک و بت پرست نہ تھے تو بت پرستی کرنے والے مشرکین کا یہ دعویٰ کہ وہ ابراہیمی ملت پر ہیں باطل ہے۔

عظمتِ انبیاء:

            اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبروں سے کفار کے الزام اٹھانا سنتِ الہٰیہ ہے، جو ان کی عزت و عظمت پر اپنی جان و مال، تحریر، تقریر صرف کرتا ہے وہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے نزدیک مقبول ہے۔ رب تعالیٰ نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کفار کا یہ الزام دفع فرمایا کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مَعَاذَاللہ مشرک تھے۔

قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ(۱۶۲)

 



Total Pages: 191

Go To