Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِیْ شَیْءٍؕ-اِنَّمَاۤ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ(۱۵۹)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ جنہوں نے اپنے دین میں جدا جدا راہیں نکالیں او رکئی گروہ ہوگئے اے محبوب تمہیں ان سے کچھ علا قہ نہیں ان کا معاملہ اللہ ہی کے حوالے ہے پھر وہ انہیں بتا دے گا جو کچھ وہ کرتے تھے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک وہ لوگ جنہوں نے اپنے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے اور خود مختلف گروہ بن گئے اے حبیب! آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا معاملہ صرف اللہ کے حوالے ہے پھر وہ انہیں بتادے گا جو کچھ وہ کیاکرتے تھے۔

{ اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ:بیشک وہ لوگ جنہوں نے اپنے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے۔} اپنا دین ٹکڑے ٹکڑے کرنے والوں سے کون لوگ مراد ہیں ، اس بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں ، ان میں سے دو قول درج ذیل ہیں :

(1)… حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’ان لوگوں سے مراد یہودی اور عیسائی ہیں۔رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی بعثت سے پہلے وہ ایک دوسرے سے ا ختلاف کرتے تھے اور بعد میں مختلف فرقوں میں تقسیم ہو گئے۔ (تفسیر ابن ابی حاتم، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۵۹، ۵ / ۱۴۳۰)

(2)… حضرت حسن بصری رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ان سے تمام مشرکین مراد ہیں کیونکہ ان میں سے بعض نے بتوں کی پوجا کی اور کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہماری سفارش کریں گے۔ بعض نے فرشتوں کی عبادت کی اور کہا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں اور بعض نے ستاروں کی پرستش کی، تو یہ ان کی دین میں تفریق ہے۔ (خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۵۹، ۲ / ۷۲)

فرقہ بندی کا سبب اور حق پر کون؟:

            حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  فرماتے ہیں ’’اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جماعت کے ساتھ وابستہ رہنے کا حکم دیا ہے اور انہیں اختلاف اور فرقہ بندی سے منع فرمایا ہے اور یہ خبر دی ہے کہ ان سے پہلے لوگ اللہ عَزَّوَجَلَّکے دین میں جھگڑنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔ (تفسیر ابن ابی حاتم، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۵۹، ۵ / ۱۴۳۰)

            خلاصہ یہ کہ اس آیت میں مسلمانوں کو ایک نظریے پر متفق ہونے، دین میں فرقہ بندی اور بِدعات اختیار کرنے سے بچنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ فی زمانہ بعض لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اسلام میں فرقہ بندی کیوں ہے اور ان میں حق پر کون ہے؟ اس سلسلے میں چند باتیں ذہن نشین کر لیجئے،اِنْ شَآءَ اللہ! آپ پر خود ہی واضح ہو جائے گا کہ فرقہ بندی کا اصل سبب کیا ہے اور مختلف فرقوں میں سے حق پر کونسا فرقہ ہے

            پہلی بات : یہ امت کبھی گمراہی پر جمع نہ ہو گی۔حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’اِنَّ اُمَّتِیْ لَا تَجْتَمِعُ عَلٰی ضَلَالَۃٍ فَاِذَارَاَیْتُمْ اِخْتِلَافًا فَعَلَیْکُمْ بِالسَّوَادِ الْاَعْظَمِ‘‘میری امت گمراہی پر جمع نہ ہوگی، جب تم اختلاف دیکھو تو سب سے بڑی جماعت کو لازم پکڑ لو۔ (ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب السواد الاعظم،۴ / ۳۲۷، الحدیث:۳۹۵۰)

            دوسری بات: حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے صدیوں پہلے ہی اس اختلاف اور فرقہ بندی کے بارے میں پیشین گوئی فرما دی تھی، چنانچہ حضرت عوف بن مالک سے روایت ہے، رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے

 ارشاد فرمایا: ’’وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ لَتَفْتَرِقَنَّ اُمَّتِیْ عَلٰی ثَلَا ثٍ وَسَبْعِیْنَ فِرْقَۃً، وَاحِدَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ وَثِنْتَانِ وَسَبْعُوْنَ فِی النَّارِ، قِیْلَیا رسول اللہ مَنْ ہُمْ قَالَ اَلْجَمَاعَۃُ‘‘اس ذات کی قسم !جس کے دستِ قدرت میں محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ) کی جان ہے، میری امت 73 فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی (ان میں سے) ایک جنت میں جائے گا اور 72جہنم میں جائیں گے۔ عرض کی گئی: یا رسول اللہ ! (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ) وہ جنتی کون ہوں گے ؟ارشاد فرمایا :وہ جماعت ہے۔( ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب افتراق الامم،۴ / ۳۵۲، الحدیث: ۳۹۹۲)

            واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے اختلافِ امت کے بارے میں جو کچھ فرمایا وہ عین حق اور صواب پر مبنی تھا۔

            تیسری بات:یہ بات انتہائی قابلِ غور ہے کہ اس دورِ اختلاف میں حق پسند اور نجات پانے والے گروہ کا پتا کیسے چلے گا، کس طرح معلوم ہو گا کہ موجودہ فرقوں میں حق پر کون ہے۔ اس کی رہنمائی بھی حدیث پاک میں کر دی گئی ہے کہ ’’اِذَا رَاَیْتُمْ اِخْتِلَافًا فَعَلَیْکُمْ بِالسَّوَادِ الْاَعْظَمْ‘‘جب تم اختلاف دیکھو تو سب سے بڑی جماعت کو لازم پکڑ لو۔ (ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب السواد الاعظم،۴ / ۳۲۷، الحدیث: ۳۹۵۰)

            اس روایت میں اختلاف سے مراد اصولی اختلاف ہیں جس میں ’’کفر و ایمان‘‘ اور ’’ہدایت وضلالت ‘‘ کا فرق پایا جائے، فروعی اختلاف ہر گز مراد نہیں کیونکہ وہ تو رحمت ہے جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے ’’اِخْتِلَافُ اُمَّتِیْ رَحْمَۃٌ‘‘ میری امت کا (فروعی) اختلاف رحمت ہے۔( کنز العمال، کتاب العلم، قسم الاقوال، ۵ / ۵۹، الحدیث: ۲۸۶۸۲، الجزء العاشر)

            اس تفصیل کو ذہن میں رکھ کر موجودہ اسلامی فرقوں میں اس بڑے فرقے کو تلاش کیجئے جو باہم اصولوں میں مختلف نہ ہوں اور جس قدر اسلامی فرقے اس کے ساتھ اصولی اختلاف رکھتے ہوں وہ ان سب میں بڑا ہو۔ آپ کو اہلسنّت و جماعت کے سوا کوئی نہ ملے گا جس میں حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، قادری، چشتی، سہروردی، نقشبندی، اشعری ، ماتریدی سب شامل ہیں یہ سب اہلسنّت ہیں اور ان کے مابین کوئی ایسا اصولی اختلاف نہیں جس میں کفر و ایمان یا ہدایت و ضَلال کا فرق پایا جائے لہٰذا اس پر فتن دور میں حدیثِ مذکور کی رُو سے سوادِ اعظم اہلسنّت و جماعت ہے اور اس کا حق پر ہونا بھی ثابت ہوا۔

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَاۚ-وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۰)

ترجمۂ کنزالایمان: جو ایک نیکی لائے تو اس کے لیے اس جیسی دس ہیں اور جو برائی لائے تو اسے بدلہ نہ ملے گا مگر اس کے برابر اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جو ایک نیکی لائے تو اس کے لیے اس جیسی دس نیکیاں ہیں اور جو کوئی برائی لائے تو اسے صرف اتنا ہی بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیاجائے گا۔

{ مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ:جو ایک نیکی لائے۔} یعنی ایک نیکی کرنے والے کو دس نیکیوں کی جزا اور یہ کوئی انتہائی مقدار نہیں بلکہ یہ تو فضل الہٰی کی ابتدا ہے۔ اللہ تعالیٰ جس کے لئے جتنا چاہے اس کی



Total Pages: 191

Go To