Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

            پھر اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اُس نے تورات میں دین کی کیا نعمتیں رکھی ہیں ؟ چنانچہ فرمایا کہ’’ ا س میں ہر چیز کی تفصیل ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اس میں دین کے تمام احکام عقائد اور مسائل کی تفصیل ہے، لہٰذا اس میں ہمارے نبی سیدنا محمد مصطفٰیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نبوت اور رسالت کا بیان اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نبوت کے تمام دلائل ہیں اور یہ ہدایت اور رحمت ہے تاکہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن کی ملاقات پر ایمان لے آئیں۔ (تفسیر کبیر، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۵۴، ۵ / ۱۸۶)

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۙ(۱۵۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور یہ برکت والی کتاب ہم نے اُتاری تو اس کی پیروی کرو اور پرہیزگاری کرو کہ تم پر رحم ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور یہ برکت والی کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے ، تو تم اس کی پیروی کرو اور پرہیزگار بنو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

{ وَ هٰذَا كِتٰبٌ:اور یہ کتاب۔} یعنی قرآن شریف جو کثیر خیر والا، کثیر نفع والا اور کثیر برکت والا ہے اور قیامت تک رہے گا اور تحریف و تبدیل و نَسخ سے محفوظ رہے گا۔ قرآن اس لئے مبارک ہے کہ مبارک فرشتہ اسے لایا، مبارک مہینے رمضان میں لایا، مبارک ذات پر اترا، خالق و مخلوق کے درمیان وسیلہ ہے، جس کام پر اس کی آیات پڑھ دی جائیں اس میں برکت ہو جائے اور سب سے بڑھ کر اس کی تعلیمات اور ہدایت برکت والی ہیں۔

{ فَاتَّبِعُوْهُ:تو تم اس کی پیروی کرو۔} یعنی قرآنِ کریم میں مذکور احکامات پر عمل کرو، ممنوعات سے باز آجاؤ اور اس کی مخالفت کرنے سے بچو تاکہ اس اتباع اور عمل کی برکت سے تم پر رحم کیا جائے۔

 امت پر قرآنِ مجید کا حق:

            اس سے معلوم ہو اکہ امت پر قرآنِ مجید کا ایک حق یہ ہے کہ وہ ا س مبارک کتاب کی پیروی کریں اور اس کے احکام کی خلاف ورزی کرنے سے بچیں۔ افسوس! فی زمانہ قرآنِ کریم پر عمل کے اعتبار سے مسلمانوں کا حال انتہائی ناگفتہ بہ ہے، آج مسلمانوں نے ا س کتاب کی روزانہ تلاوت کرنے کی بجائے اسے گھروں میں جزدان و غلاف کی زینت بنا کر اور دکانوں پر کاروبار میں برکت کے لئے رکھا ہوا ہے اور تلاوت کرنے والے بھی صحیح طریقے سے تلاوت کرتے ہیں اور نہ یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے رب عَزَّوَجَلَّنے اس کتاب میں ان کے لئے کیا فرمایا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب تک مسلمانوں نے اس مقدس کتاب کو سینے سے لگا کر حِرْزِ جاں بنائے رکھا اور اس کے دستور و قوانین اور احکامات پر سختی سے عمل پیرا رہے تب تک دنیا بھر میں ان کی شوکت کا ڈنکا بجتا رہا اور غیروں کے دل مسلمانوں کا نام سن کر دہلتے رہے اور جب سے مسلمانوں نے قرآنِ عظیم کے احکام پر عمل چھوڑ رکھا ہے تب سے وہ دنیا بھر میں ذلیل و خوار ہو رہے اور اغیار کے دست نگر بن کر رہ گئے ہیں۔

وہ ز مانے میں معزز تھے مسلماں ہوکر                اور ہم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر

            قرآنِ کریم کے احکام پر عمل نہ کرنے کا دنیوی نقصان تو اپنی جگہ، اخروی نقصان بھی انتہائی شدید ہے، چنانچہ

            حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ قرآن شفاعت کرنے والا ہے اور اس کی شفاعت مقبول ہے، جس نے (اس کے احکامات پر عمل کر کے) اسے اپنے سامنے رکھا تو یہ اسے پکڑ کر جنت کی طرف لے جائے گا اور جس نے (اس کے احکامات کی خلاف ورزی کر کے) اسے اپنے پیچھے رکھا تو یہ اسے ہانک کر جہنم کی طرف لے جائے گا۔( معجم الکبیر، ومن مسند عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، ۱۰ / ۱۹۸، الحدیث: ۱۰۴۵۰، ملتقطاً)

اَنْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰى طَآىٕفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَا۪-وَ اِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِیْنَۙ(۱۵۶)

ترجمۂ کنزالایمان: کبھی کہو کہ کتاب تو ہم سے پہلے دو گروہوں پر اُتری تھی اور ہمیں ان کے پڑھنے پڑھانے کی کچھ خبر نہ تھی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: (اس لئے اترا) تاکہ تم یہ (نہ) کہو کہ کتاب تو ہم سے پہلے دو گروہوں پر اُتری تھی اور ہمیں ان کے پڑھنے پڑھانے کی کچھ خبر نہ تھی۔

{ اَنْ تَقُوْلُوْا:کبھی کہو۔} یعنی یہ قرآن اس لئے نازل کیا ہے تاکہ تمہیں یہ کہنے کی گنجائش باقی نہ رہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی کتابیں جیسے تورات و انجیل تو ہم سے پہلے کے دوگروہوں پریعنی یہودیوں اور عیسائیوں پر اُتری تھیں، ہماری عرب کی سرزمین میں تونہ کوئی رسول آیا اور نہ کوئی کتاب۔ پھر جو کتابیں توریت و انجیل آئیں وہ ہماری زبان میں نہ تھیں اور نہ ہی ہمیں کسی نے ان کے معنی بتائے  پھر ہم ہدایت پر کیسے آتے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم نازل فرما کر بتادیا کہ اب تمہارا کوئی عذر باقی نہ رہا اور تم یہودو نصاریٰ کے محتاج نہ رہے۔

اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهْدٰى مِنْهُمْۚ-فَقَدْ جَآءَكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌۚ-فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ صَدَفَ عَنْهَاؕ-سَنَجْزِی الَّذِیْنَ یَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰیٰتِنَا سُوْٓءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یَصْدِفُوْنَ(۱۵۷)

ترجمۂ کنزالایمان: یا کہو کہ اگر ہم پر کتاب اُترتی تو ہم ان سے زیادہ ٹھیک راہ پر ہوتے تو تمہارے پاس تمہارے رب کی روشن دلیل اور ہدایت او ر رحمت آئی تو اس سے زیادہ ظالم کون جواللہ کی آیتوں کو جھٹلائے اور ان سے منہ پھیرے عنقریب وہ جو ہماری آیتوں سے منہ پھیرتے ہیں ہم انہیں برے عذاب کی سزا دیں گے بدلہ ان کے منہ پھیرنے کا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یا (تا کہ تم یہ نہ) کہو کہ اگر ہم پر کتاب اُترتی تو ہم ان سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے تو تمہارے پاس تمہارے رب کی روشن دلیل اور ہدایت او ر رحمت آگئی ہے تو اس سے زیادہ ظالم کون جو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے اور ان سے منہ پھیرے۔ عنقریب وہ لوگ جو ہماری آیتوں سے منہ پھیرتے ہیں ہم انہیں ان کے منہ پھیرنے کی وجہ سے برے عذاب کی سزا دیں گے۔

{ اَوْ تَقُوْلُوْا:یا کہو۔} شانِ نزول: کفارِ عرب کی ایک جماعت نے کہا تھا کہ یہود و نصارٰی پر توریت و انجیل نازل ہوئیں مگر وہ بے عقل ان کتابوں سے ہدایت حاصل نہ کر سکے ہم اُن کی طرح خفیفُ العقل اور نادان نہیں ہیں ہماری عقلیں صحیح ہیں اور ہماری عقل وذہانت اور فہم و فراست تو ایسی ہے کہ اگر ہم پر کتاب اُترتی تو ہم ان سے زیادہ سیدھے راہ پر ہوتے۔ ان کے جواب میں یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔ اور اس طرح ان کا یہ عذر بھی ختم فرما دیا گیا۔ (خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۵۷، ۲ / ۷۱)

 



Total Pages: 191

Go To