Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

قتلِ برحق کی صورتیں اور ایک اہم تنبیہ:

            چند صورتیں ایسی ہیں کہ جن میں حاکمِ اسلام کیلئے مجرم کو قتل کرنے کی اجازت ہے جیسے قاتل کو قصاص میں ، شادی شدہ زانی کو رجم میں اور مرتد کو سزا کے طور پر قتل کرنا البتہ یہ یاد رہے کہ قتلِ برحق کی جو صورتیں بیان ہوئیں ان پر عام لوگ عمل نہیں کر سکتے بلکہ اس کی اجازت صرف حاکمِ اسلام کو ہے۔

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ  اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗۚ-وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِۚ-لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاۚ-وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰىۚ-وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْاؕ-ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَۙ(۱۵۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر بہت اچھے طریقے سے جب تک وہ اپنی جوانی کو پہنچے اور ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری کرو ہم کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتے مگر اس کے مقدور بھر اور جب بات کہو تو انصاف کی کہو اگرچہ تمہارے رشتہ دار کا معاملہ ہو اور اللہ ہی کا عہد پورا کرو یہ تمہیں تاکید فرمائی کہ کہیں تم نصیحت مانو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور یتیموں کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر بہت اچھے طریقہ سے حتّٰی کہ وہ اپنی جوانی (کی عمر )کو پہنچ جائے اور ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پورا کرو۔ ہم کسی جان پر اس کی طاقت کے برابر ہی بوجھ ڈالتے ہیں اور جب بات کرو تو عدل کرو اگرچہ تمہارے رشتے دار کا معاملہ ہو اور اللہ ہی کا عہد پورا کرو۔ (اللہ نے) تمہیں یہ تاکید فرمائی ہے تاکہ نصیحت حاصل کرو۔

{ وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ:اور یتیموں کے مال کے پاس نہ جاؤ۔} یعنی یتیم کے مال کے پاس اس طریقے سے جاؤ جس سے اس کا فائدہ ہو اور جب وہ اپنی جوانی کی عمر کو پہنچ جائے اس وقت اس کا مال اس کے سپرد کردو۔ اس حکم کی تفصیل اور یتیموں سے متعلق مزید احکام سورۂ نساء کی ابتدائی چند آیات میں گزر چکے ہیں۔

{ وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ:اور ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پورا کرو۔} یعنی ناپ تول میں کمی نہ کرو کیونکہ یہ حرام ہے ۔

ناپ تول میں کمی کرنے کی 2وَعِیدیں:

            ناپ تول میں کمی کرنے پر احادیث میں سخت وعید یں بیان کی گئی ہیں ، ان میں سے 2 وعیدیں درج ذیل ہیں :

(1)… حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے ،سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’اے تاجروں کے گروہ! دو ایسے کام تمہارے سپرد کئے گئے ہیں کہ جن کی وجہ سے تم سے پہلے لوگ ہلاک ہوئے، یہ ناپنا اور تولنا ہے۔ (شعب الایمان، الخامس والثلاثون من شعب الایمان، ۴ / ۳۲۸، الحدیث: ۵۲۸۸)

(2)… حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے ،رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اے مہاجرین کے گروہ! جب تم پانچ باتوں میں مبتلا کر دئیے جاؤ (تو اس وقت تمہاری کیا حالت ہو گی) اور میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے پناہ طلب کرتا ہوں کہ تم انہیں پاؤ۔

(۱)… جب کسی قوم میں اعلانیہ فحاشی عام ہو جائے گی تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں ظاہر ہو جائیں گی جو ان سے پہلوں میں کبھی ظاہر نہ ہوئی تھیں (جیسے آجکل ایڈز، Aids وغیرہ)

(۲)…جب لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگ جائیں گے تو قحط سالی، شدید تنگی اور بادشاہ کے ظلم کا شکار ہوجائیں گے۔

(۳)… جب زکوٰۃ کی ادائیگی چھوڑ دیں گے تو آسمان سے بارش روک دی جائے گی اور اگر چوپائے نہ ہوتے تو ان پر کبھی بارش نہ برستی۔

(۴)… جب لوگ اللہ اور اس کے رسول کا عہد توڑنے لگیں گے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ ان پر دشمن مسلَّط کر دے گا جو ان کا مال وغیرہ سب کچھ چھین لے گا ۔

(۵)… جب حکمران اللہ عَزَّوَجَلَّکے قانون کو چھوڑ کر دوسرا قانون اور اللہ تعالیٰ کے احکام میں سے کچھ لینے اور کچھ چھوڑنے لگ جائیں گے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کے درمیان لڑائی جھگڑا ڈال دے گا۔‘‘(ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب العقوبات، ۴ / ۳۶۷، الحدیث: ۴۰۱۹)

            اس روایت کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے موجودہ حالات پر غور کریں کہ آج ہم میں خطرناک اور جان لیوا بیماریوں کا پھیلاؤ ، قحط سالی، شدید تنگی اور حکمرانوں کے ظلم کاسامنا، دشمن کا تَسَلُّط اور مال واسباب کا لٹ جانا، تَعَصُّب اور ہمارے لسانی ،قومی اختلافات یہ سب ہمارے کن اعمال کا نتیجہ ہیں۔

دیکھے ہیں یہ دن اپنی ہی غفلت کی بدولت                       شکوہ ہے زمانے کا نہ قسمت سے گلا ہے

جو کچھ بھی ہے سب اپنے ہی ہاتھوں کے ہیں کرتوت         سچ ہے کہ برے کام کا انجام برا ہے

اللہ تعالٰی کے خوف سے حرام کام چھوڑنے کی فضیلت:

             حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، حضورِ اقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص حرام پر قادر ہو پھر اسے اللہ تعالیٰ کے خوف سے چھوڑ دے تواللہ تعالیٰ آخرت سے پہلے دنیا میں ہی بہت جلد اُس کا ایسا بدل عطا فرماتا ہے جو حرام سے کہیں بہتر ہو۔ (تفسیر طبری، الاسراء، تحت الآیۃ: ۳۵، ۸ / ۷۹)

{ وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا:اور جب بات کہو تو انصاف کی کہو۔} یعنی خوا ہ گواہی دو یا فتویٰ دویا حاکم بن کر فیصلہ کر و کچھ بھی ہو انصاف سے ہو اس میں قرابت یا وجاہت کا لحاظ نہ ہو کیونکہ اس سے مقصود شرعی حکم کی پیروی اور اللہ تعالیٰ کی رضا طلب کرنا ہوتا ہے اور اس میں اجنبی اور قرابت دار کے درمیان کوئی فرق نہیں۔(روح البیان، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۵۲، ۳ / ۱۱۹)

{ وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا:اور اللہ ہی کا عہد پورا کرو۔} یعنی صرف اللہ عَزَّوَجَلَّکے عہد پورے کرو اور اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کسی کے عہد پورے نہ کرو، اگر تم نے غلطی سے کسی سے ناجائز عہد کر لیا تو فوراً توڑ دو، مثلاً اگرکسی سے وعدہ کیا بلکہ قسم کھائی کہ اس کے ساتھ شراب پئیں گے یا چوری کریں گے تو یہ وعدہ توڑ دو اور قسم کا کفارہ دے دو۔ آیت میں ’’عَہْد اللہ‘‘ سے مراد وہ عہد ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے بندوں پر لازم فرمایا یعنی وہ احکام جو نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکے ذریعے ملے یا وہ عہد مراد ہے جو انسان اپنے اوپر لازم کر لے جیسے منت وغیرہ، ان سب کو پورا کرنے کا حکم ہے۔ (خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۵۲، ۲ / ۶۹)

 عہد شکنی پر وعید :

 



Total Pages: 191

Go To