Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

کے سخت احکام ہم پر جاری نہیں۔

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍۚ-وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُهٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ(۱۴۷)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر اگر وہ تمہیں جھٹلائیں تو تم فرماؤ کہ تمہارا رب وسیع رحمت والا ہے اور اس کا عذاب مجرموں پر سے نہیں ٹالا جاتا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر اگر وہ تمہیں جھٹلائیں تو تم فرماؤ کہ تمہارا رب وسیع رحمت والا ہے اور اس کا عذاب مجرموں پر سے نہیں ٹالا جاتا۔

{ فَاِنْ كَذَّبُوْكَ:پھر اگر وہ تمہیں جھٹلائیں۔} یعنی اے محبوب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، ہم نے یہودیوں پر جن چیزوں کے حلال و حرام ہونے کی تمہیں خبر دی، اگریہودی اسے جھٹلائیں تو آپ فرما دو کہ’’ تمہارا رب عَزَّوَجَلَّ وسیع رحمت والا ہے اسی لئے وہ جھٹلانے والوں کو مہلت دیتا ہے اور عذاب میں جلدی نہیں فرماتا تاکہ انہیں ایمان لانے کا موقع ملے ورنہ بہرحال  جن پر عذاب ِ الہٰی کا فیصلہ ہوجاتا ہے تو ان سے ٹالا نہیں جاتا اور پھر عذاب اپنے وقت پر آہی جاتا ہے۔

سَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكْنَا وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ شَیْءٍؕ-كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتّٰى ذَاقُوْا بَاْسَنَاؕ-قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَاؕ-اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ(۱۴۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اب کہیں گے مشرک کہ اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے نہ ہمارے باپ دادا نہ ہم کچھ حرام ٹھہراتے ایسا ہی ان سے اگلوں نے جھٹلایا تھا یہاں تک کہ ہمارا عذاب چکھا تم فرماؤ کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے کہ اسے ہمارے لیے نکالو تم تو نرے گمان  کے پیچھے ہو اور تم یونہی تخمینے کرتے ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اب مشرک کہیں گے کہ اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اورنہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہی ہم کسی چیز کو حرام قرار دیتے۔ ان سے پہلے لوگوں نے بھی ایسے ہی جھٹلایا تھا یہاں تک کہ ہمارا عذاب چکھا۔ تم فرماؤ، کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے تو اسے ہمارے لئے نکالو۔ تم توصرف جھوٹے خیال کے پیروکار ہو اور تم یونہی غلط اندازے لگا رہے ہو۔

{ سَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا:اب مشرک کہیں گے۔} اس میں غیبی خبر ہے کہ مشرک جو آئندہ کہنے والے تھے ، اس سے پہلے ہی خبردار کر دیا۔ مشرکین پر جب حجت تمام ہو گئی اور ان سے کوئی دلیل نہ بن پڑی تو کہنے لگے: اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہی ہم کسی چیز بحیرہ و سائبہ وغیرہ کو حرام قرار دیتے۔ ہم نے جو کچھ کیا اور کرتے ہیں یہ سب اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مرضی سے ہوا یہ اس کی دلیل ہے کہ وہ اس سے راضی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا رد اس طرح فرمایا کہ اگر تمہاری یہ بات درست ہوتی کہ تمہارا شرک اور حلال کو حرام اور حرام کو حلال کہنے کا یہ رواج سب اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا و خوشی سے ہے تو ہونا یوں چاہئے تھا کہ ایسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا لطف و عنایت اور بڑی کرم نوازیاں ہوتیں حالانکہ تم سے پہلے جن لوگوں نے اس گمراہی کو اپنایا توان پراللہ عَزَّوَجَلَّ کا غضب نازل ہوا اور انہیں بعد والوں کے لئے نشانِ عبرت بنا دیا گیا، اب تم خودغور کرو کہ ایسی سنگین سزا مجرم اور نافرمان لوگوں کو دی جاتی ہے یا اطاعت گزار اور فرماں بردار افراد کو۔

قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُۚ-فَلَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ(۱۴۹)

ترجمۂ کنزالایمان:تم فرماؤ تو اللہ ہی کی حجت پوری ہے تو وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت فرماتا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:تم فرماؤ تو کامل دلیل اللہہی کی ہے تواگر وہ چاہتا توتم سب کو ہدایت دیدیتا۔

{ قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ:تم فرماؤ تو اللہ ہی کی حجت پوری ہے۔} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ایسی دلیل جو تمام تر شکوک و شبہات کو جڑ سے اکھاڑ دے وہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کے پا س ہے، اس آیت میں یہ تنبیہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّواحد ہے اس نے رسولوں کو دلائل اور معجزات دے کر بھیجا اور ہر مُکَلَّف پر اپنے احکام کو لازم کیا ہے اور ان کو مکلف کرنے کے لئے یہ کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کام کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیاہے یعنی انہیں بااختیار بنایا ہے۔ (قرطبی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۴۹، ۴ / ۹۳-۹۴، الجزء السابع)

            اور اللہ تعالیٰ کی حکمت یہی ہے کہ بندے اپنے اختیار سے ایمان لائیں اور اس کے احکام کی تعمیل کریں ورنہ اگر وہ چاہتا تو جبرا ًسب انسانوں کو مومن بنا دیتا لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت میں نہیں ہے ا س لئے ان کا یہ کہنا بالکل لَغْو ہے کہ اگر اللہ عَزَّوَجَلَّچاہتا تو ہم شرک کرتے نہ ہمارے باپ دادا، نہ وہ بحیرہ وغیرہ کو حرام قرار دیتے کیونکہ ا س قسم کا جَبری ایمان اللہ تعالیٰ کا مطلوب نہیں ہے ۔اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ لوگ اپنی عقل سے کام لیں ، حق اور باطل کو جانچیں ، کھرے کھوٹے کو پرکھیں ، انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تعلیمات اور شیطان کے وسوسوں میں فرق محسوس کریں اور اپنے اختیار سے برے کاموں اور بری باتوں کو ترک کریں اور شیطان کا انکار کر کے اللہ عَزَّوَجَلَّ پر ایمان لانے کو اختیار کریں ، وہ جس چیز کو اختیار کریں گے اللہ عَزَّوَجَلَّ اسی چیز کو پیدا کر دے گا، ان آیتوں میں یہ دلیل بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مجبورِ محض نہیں بنایا، مختار بنایا ہے اور اس میں جبریہ کا بھی رد ہے۔

قُلْ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ الَّذِیْنَ یَشْهَدُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ هٰذَاۚ-فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْۚ-وَ لَا تَتَّبِـعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ هُمْ بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ۠(۱۵۰)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ لاؤ اپنے وہ گواہ جو گواہی دیں کہ اللہ نے اسے حرام کیا پھر اگر وہ گواہی دے بیٹھیں تو تُو اے سننے والے ان کے ساتھ گواہی نہ دینا اور ان کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلنا جو ہماری آیتیں جھٹلاتے ہیں اور جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور اپنے رب کا برابر والا ٹھہراتے ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ، اپنے وہ گواہ لے آؤ جو گواہی دیں کہ اللہ نے اس چیز کو حرام کیا ہے (جسے تم حرام کہتے ہو) پھر اگر وہ گواہی دے بیٹھیں تو اے سننے والے! توان کے ساتھ گواہی نہ دینا اور ان لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلنا جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور وہ اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں۔

{ قُلْ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمْ:تم فرماؤ، اپنے گواہ لے آؤ۔} جب اللہ تعالیٰ نے کفار کی تمام حجتیں باطل فرما دیں تو اب بیان فرمایا کہ ان کے پاس اپنی بات پر کوئی گواہ بھی نہیں چنانچہ فرمایا: اے محبوب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ ان سے فرما دیجئے کہ اپنے وہ گواہ لے آؤ جو اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اُسے حرام کیا جسے تم اپنے لئے حرام قرار دیتے ہو اور کہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے



Total Pages: 191

Go To