Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

اور ایک درہم معصیت میں خرچ کرو تو وہ اسراف ہے۔ (خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۴۱، ۲ / ۶۲-۶۳)

وَ مِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَةً وَّ فَرْشًاؕ-كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ-اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور مویشی میں سے کچھ بوجھ اٹھانے والے اور کچھ زمین پر بچھے کھاؤ اس میں سے جو اللہ نے تمہیں روزی دی اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو بیشک وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور مویشیوں میں سے کچھ بوجھ اٹھانے والے اور کچھ زمین پر بچھے ہوئے جانور (پیداکئے)۔ اللہ نے تمہیں جو رزق عطا فرمایا ہے اس میں سے کھاؤ اور شیطان کے راستوں پر نہ چلو۔ بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

{ وَ مِنَ الْاَنْعَامِ:اور مویشی میں سے کچھ ۔} چوپائے دو طرح کے ہوتے ہیں کچھ بڑے جو بو جھ لادنے اور بار برداری کے کام میں آتے ہیں جیسے اونٹ، خچر اور گھوڑے وغیرہ اور کچھ چھوٹے جیسے بکری وغیرہ کہ جو اس قابل نہیں۔ ان میں سے جواللہ تعالیٰ نے حلال کئے انہیں کھاؤ اور اہلِ جاہلیت کی طرح اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حلال فرمائی ہوئی چیزوں کو حرام نہ ٹھہراؤ۔

ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍۚ-مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِؕ-قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِؕ- نَبِّـٴُـوْنِیْ بِعِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَۙ(۱۴۳)

ترجمۂ کنزالایمان: آٹھ نر اور مادہ ایک جوڑا بھیڑ کا اور ایک جوڑا بکری کا تم فرماؤ کیا اس نے دونوں نر حرام کیے یا دونوں مادہ یا وہ جسے دونوں مادہ پیٹ میں لیے ہیں کسی علم سے بتاؤ اگر تم سچے ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: (اللہ نے) آٹھ نر و مادہ جوڑے (پیدا کئے۔) ایک جوڑا بھیڑ سے اور ایک جوڑا بکری سے۔ تم فرماؤ، کیا اس نے دونوں نر حرام کیے یا دونوں مادہ یا وہ جسے دونوں مادہ جانور پیٹوں میں لئے ہوئے ہیں ؟ اگر تم سچے ہو تو علم کے ساتھ بتاؤ۔

{ ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ:آٹھ نر و مادہ۔} اس آیت میں جانوروں کے آٹھ جوڑے بیان کئے گئے یعنی نرومادہ اونٹ، گائے، بھیڑ، بکری کے جوڑے۔ جانور تو اس کے علاوہ بھی ہیں لیکن چونکہ اہلِ عرب کے سامنے زیادہ تریہی جانور ہوتے تھے اور حرام و حلال کے جو انہوں نے قاعدے بنائے تھے وہ بھی انہی جانوروں کے بارے میں تھے اس لئے بطورِ خاص انہی جوڑوں کا بیان کیا گیا چنانچہ فرمایا کہ کیا ان جانوروں کے صرف نر حرام ہیں یا صرف مادے یا نرومادہ دونوں ؟ اللہ تعالیٰ نے نہ تو بھیڑ بکری کے نَر حرام کئے اور نہ اُن کی مادائیں حرام کیں اور نہ اُن کی اولاد ۔ تمہارا یہ فعل کہ کبھی نر حرام ٹھہراؤ کبھی مادہ کبھی اُن  کے بچّے یہ سب تمہاری اپنی اِختراع ہے جس کی کوئی بنیاد نہیں۔

{ نَبِّـٴُـوْنِیْ بِعِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ:اگر تم سچے ہو تو علم کے ساتھ بتاؤ۔}یعنی ان جانوروں کو تم حرام مانتے ہو،اگر اس میں تم سچے ہو تو اس حرمت کی قطعی یقینی دلیل لاؤ۔

 دلیل دینا حرمت کا دعویٰ کرنے والے پر لازم ہے:

            اس سے معلوم ہوا کہ حلت کا دعویٰ کرنے والے سے دلیل نہ مانگی جائے گی بلکہ حرمت کا دعویٰ کرنے والے پر دلیل لانا لازم ہے۔ آج کل بدمذہب ہم سے ہر چیز کی حلت پر دلیل مانگتے ہیں اور خود حرمت کی دلیل نہیں پیش کرتے۔ یہ اصول قرآن کے صریح خلاف ہے۔ خود غور کر لیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کے حرام ماننے والوں سے دلیل مانگی ہے یا حلال سمجھنے والوں سے۔

وَ مِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِؕ-قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِؕ-اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ وَصّٰىكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَاۚ-فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْرِ عِلْمٍؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠(۱۴۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ایک جوڑا اونٹ کا اور ایک جوڑا گائے کا تم فرماؤ کیا اس نے دونوں نر حرام کیے یا دونوں مادہ یا وہ جسے دونوں مادہ پیٹ میں لیے ہیں کیا تم موجود تھے جب اللہ نے تمہیں یہ حکم دیا تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے کہ لوگوں کو اپنی جہالت سے گمراہ کرے بیشک اللہ ظالموں کو راہ نہیں دکھاتا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور (اللہ نے نر اور مادہ کا) ایک جوڑا اونٹ سے اور ایک جوڑا گائے سے (پیدا فرمایا۔) تم فرماؤ، کیا اس نے دونوں نر حرام کیے یا دونوں مادہ یا وہ جسے دونوں مادہ جانور اپنے پیٹوں میں لئے ہوئے ہیں ؟کیا تم اس وقت موجود تھے جب اللہ نے تمہیں یہ حکم دیا؟ تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے؟ تاکہ لوگوں کو اپنی جہالت سے گمراہ کرے۔ بیشک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔

{ وَ مِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ:اور ایک جوڑا اونٹ کا۔}اس آیتِ کریمہ میں دور ِجاہلیت کے ان لوگوں کا رد ہے جو اپنی طرف سے حلال چیزوں کوحرام ٹھہرا لیا کرتے تھے جن کا ذکر اُوپر کی آیات میں آچکا ہے۔ شانِ نزول جب اسلام میں احکام کا بیان ہوا تو انہوں نے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے جھگڑا کیا اور ان کا خطیب مالک بن عوف حشمی سیّد ِدوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا کہ’’ یا محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ) ہم نے سُنا ہے آپ اُن چیزوں کو حرام کرتے ہیں جو ہمارے باپ دادا کرتے چلے آئے ہیں۔ تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’تم نے بغیر کسی اصل کے چوپایوں کی چند قسمیں حرام کرلیں جبکہاللہ تعالیٰ نے آٹھ نرو مادہ اپنے بندوں کے کھانے اور ان کے نفع اٹھانے کے لئے پیدا کئے۔ تم نے کہاں سے انہیں حرام کیا؟ ان میں حرمت نر کی طرف سے آئی یا مادہ کی طرف سے۔ مالک بن عوف یہ سن کر ساکِت اور مُتَحیر رہ گیا اور کچھ نہ بول سکا۔ نبیٔ  اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے فرمایا: ’’ بولتے کیوں نہیں ؟ کہنے لگا :آپ فرمائیے میں سنوں گا۔ سُبْحَانَ اللہ، قرآنِ پاک کی دلیل کی قوت اور زور نے اہلِ جاہلیت کے خطیب کو ساکت و حیران کردیا اور وہ بول ہی کیا سکتا تھا ؟اگر کہتا کہ نر کی طرف سے حرمت آئی تو لازم ہوتا کہ تمام نر حرام ہوں ، اگر کہتا کہ مادہ کی طرف سے تو ضروری ہوتا کہ ہر ایک مادہ حرام ہو اور اگر کہتا جو پیٹ میں ہے وہ حرام ہے تو پھر سب ہی حرام ہوجاتے کیونکہ جو پیٹ میں رہتا ہے وہ نر ہوتا ہے یا مادہ ۔ وہ جو تخصیص قائم کرتے تھے اور بعض کو حلال اور بعض کو حرام قرار دیتے تھے اس حجت نے ان کے اس دعویٔ تحریم کو باطل کردیا۔

{ اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ:کیا تم موجود تھے۔} یعنی اللہ تعالیٰ نے تم سے براہ ِراست تو بیان فرمایا نہیں اور نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکے ذریعے ان جانوروں کی حرمت آئی نہیں تو اب ان جانوروں کے حرام ہونے کی کیا صورت باقی رہی۔ لہٰذا جب یہ بات نہیں ہے تو حرمت کے ان احکام کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا جھوٹ، باطل اور خالص بہتان ہے اور جو اللہ عَزَّوَجَلَّ پر بہتان



Total Pages: 191

Go To