Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

جنات نے انسانوں کوبرے راستے دکھائے اور بدعملیوں کو ان کے لئے آسان کیا اور جنات نے انسانوں سے اس طرح فائدہ اٹھایا کہ’’ انسانوں نے ان کی پوجا کی اور ان کے مطیع و فرماں بردار بنے۔ وہ حسرت سے کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم نے ایک دوسرے سے فائدہ اٹھایا اور افسوس کہ آج ہم اپنی اس مدت کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر فرمائی تھی۔ ہائے وقت گزر گیا اور قیامت کا دن آگیا اب صرف حسرت و ندامت ہی باقی رہ گئی ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ فرشتوں کی زبانی ان سے فرمائے گا: آگ تمہارا ٹھکانا ہے، تم ہمیشہ اس میں رہو گے۔

{ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ:مگر جسے خدا چاہے۔} اِس استثناء کے دو معنی ہیں (1) وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے لیکن قبر سے حشر تک کے زمانے اور میدانِ حشر میں حساب کتاب سے لے کر جہنم میں داخل ہونے تک جہنم میں نہ رہیں گے۔ (2) اس سے مراد وہ اوقات ہیں جن میں انہیں ایک عذاب سے دوسرے عذاب میں منتقل کیا جائے گا، جہنمی جب دوزخ کی آگ کی شدت سے فریاد کریں گے تو انہیں زَمْھَرِیرْ یعنی سخت ٹھنڈے اور برفانی طبقے میں ڈال دیا جائے گا اور جب زَمْھَرِیرْ کی ٹھنڈک سے گھبرا کر فریاد کریں گے تو انہیں پھر نارِ جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ جمہور مفسرین نے حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے ایک روایت یہ بھی نقل کی ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں رب تعالیٰ کے علم میں ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کیا اور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی تصدیق کی، تو انہیں آگ سے نکال لیا جائے گا۔ (خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۲۸، ۲ / ۵۶)

وَ كَذٰلِكَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ۠(۱۲۹)

ترجمۂ کنزالایمان:اور یونہی ہم ظالموں میں ایک کو دوسرے پر مسلط کرتے ہیں بدلہ ان کے کیے کا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور یونہی ہم ظالموں میں ایک کو دوسرے پر ان کے اعمال کے سبب مسلط کردیتے ہیں۔

{ وَ كَذٰلِكَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًا:اور یونہی ہم ظالموں میں ایک کو دوسرے پر مسلط کرتے ہیں۔} یعنی جس طرح ہم نے جنوں اور انسانو ں کو رسوا کیا یہاں تک کہ انہوں نے ایک دوسرے سے فائدہ اٹھایا اسی طرح ہم ظالموں میں سے ایک کو دوسرے پر ان کے اعمال کی وجہ سے مسلط کردیتے ہیں اور ظالم کی ظالم کے ذریعے پکڑ فرماتے ہیں۔ (روح البیان، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۲۹، ۳ / ۱۰۴)

ظلم کرنے والوں کو عبرت انگیز نصیحت:

             اس آیتِ مبارکہ میں ظلم کرنے والوں کے لئے بڑی نصیحت ہے، چنانچہ حضرت ابوعبداللہ محمد بن احمد قرطبی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ اس آیت میں ظلم کرنے والوں کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ اگر وہ اپنے ظلم سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ ان پر دوسرا ظالم مسلط کر دے گا جو انہیں ذلیل و خوار اور تباہ و برباد کر دے گا۔ اس آیت میں ہر قسم کے ظالم داخل ہیں ، وہ شخص جو گناہ کر کے اپنی جان پر ظلم کرتا ہے، جو حاکم یا افسر اپنی رعایا اور ماتحت لوگوں پر ظلم کرتا ہے، جو تاجر جعلی اشیاء اور ملاوٹ والی چیزیں فروخت کر کے خریداروں پر ظلم کرتا ہے، اسی طرح جو چور اور ڈاکو مسافروں اور شہریوں سے لوٹ مار کر کے ان پر ظلم کرتے ہیں یہ سب ظالم کی صف میں شامل ہیں ، ان تمام پر اللہ تعالیٰ کوئی ان سے بڑا ظالم مسلط کر دیتا ہے۔ (قرطبی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۲۹، ۴ / ۶۲، الجزء السابع)

            حضرت عبداللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  فرماتے ہیں : اللہ عَزَّوَجَلَّ جب کسی قوم کی بھلائی چاہتا ہے تو اچھوں کو ان پر مقرر کرتا ہے اور کسی سے برائی کا ارادہ فرماتا ہے تو بروں کو ان پر مقرر فرماتا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ جو قوم ظالم ہوتی ہے اس پر ظالم بادشاہ مقرر کیا جاتا ہے تو جو اس ظالم کے پنجۂ ظلم سے رہائی چاہیں انہیں چاہئے کہ ظلم چھوڑ دیں۔(خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۲۹، ۲ / ۵۶)

            لہٰذاایسے حضرات کو چاہئے کہ درج ذیل روایات اور ایک قول کا بغور مطالعہ کر کے عبرت حاصل کریں اوراللہ ربُّ العالمین کی بارگاہ میں اپنے ظلم سے سچی توبہ کر کے مظلوموں سے معافی کی کوئی صورت بنائیں۔

(1)…حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’اے لوگو! اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو، خدا کی قسم! جو مومن دوسرے مومن پر ظلم کرے گا توقیامت کے دن اللہ عَزَّوَجَلَّ اس ظالم سے انتقام لے گا۔ (کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، الظلم والغضب، ۲ / ۲۰۲، الحدیث: ۷۶۲۱، الجزء الثالث)

(2)…حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا:’’جس نے کسی ظالم کی اس کے ظلم پر مدد کی وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کی پیشانی پر لکھا ہو گا یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے مایوس ہے۔ (مسند الفردوس، باب المیم، ۳ / ۵۸۳، الحدیث: ۵۸۲۳)

(3)…حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے، سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’مظلوم کی بد دعا سے بچو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ سے اپنا حق مانگتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی حقدار کو اس کے حق سے منع نہیں کرتا۔ (کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، الظلم والغضب، ۲ / ۲۰۰، الحدیث: ۷۵۹۴، الجزء الثالث)

(4)…حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: جو ظالم کی مدد کرے گا اللہ تعالیٰ اسی ظالم کو اس پر مسلط کر دے گا۔ (ابن عساکر، حرف البائ، ذکر من اسمہ عبد الباقی،۳۴  / ۴)

(5)… حضرت فضیل بن عیاض رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’جب تو ایک ظالم کودوسرے ظالم سے انتقام لیتا ہوا دیکھے تو پھر ٹھہر جا اور تعجب سے یہ تماشا دیکھ (قرطبی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۲۹، ۴ / ۶۲، الجزء السابع)۔[1]

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَاؕ-قَالُوْا شَهِدْنَا عَلٰۤى اَنْفُسِنَا وَ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ(۱۳۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اے جنوں اور آدمیوں کے گروہ کیا تمہارے پاس تم میں کے رسول نہ آئے تھے تم پر میری آیتیں پڑھتے اور تمہیں یہ دن دیکھنے سے ڈراتے کہیں گے ہم نے اپنی جانوں پر گواہی



[1]    ظلم سے متعلق نصیحت انگیز معلومات حاصل کرنے کے لئے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا رسالہ’’ظلم کا انجام‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ کرنا بہت مفید ہے۔



Total Pages: 191

Go To