Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

             جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے یہ آیت تلاوت فرمائی تو صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے عرض کی: اس کھولنے سے کیا مراد ہے؟ا رشاد فرمایا: ’’ اس سے مراد وہ نور ہے جو مومن کے دل میں ڈالا جاتا ہے جس سے اس کا دل کھل جاتا ہے۔ عرض کی گئی: کیا اس کی کوئی نشانی ہے جس سے اس کی پہچان ہو سکے؟ ارشاد فرمایا: ’’ہاں ، (اس کی تین علامتیں ہیں ) (1)آخرت کی طرف رغبت(2) دنیا سے نفرت ، اور (3) موت سے پہلے اس کی تیاری۔(مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الزہد، ما ذکر عن نبینا صلی اللہ علیہ وسلم فی الزہد، ۸ / ۱۲۶، الحدیث: ۱۴)

{ وَ مَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّهٗ:اور جسے گمراہ کرنا چاہتا ہے۔} جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کرنا چاہتا ہے تو اس کا سینہ تنگ، بہت ہی تنگ کردیتا ہے کہ اس میں علم اور دلائلِ توحید و ایمان کی گنجائش نہ رہے، تو اس کی ایسی حالت ہوتی ہے کہ جب اس کو ایمان کی دعوت دی جاتی ہے اور اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے تو وہ اس پر نہایت شاق ہوتا ہے اور اس کو بہت دشوار معلوم ہوتا ہیگویا کہ وہ زبردستی آسمان پر چڑھ رہا ہے۔

سینے کی تنگی کی علامت:

            اس سے معلوم ہوا کہ دینی کام بھاری معلوم ہونا اور دنیاوی کام آسان محسوس ہونا، سینے کی تنگی کی علامت ہے اور  سینے کی تنگی یہ ہے کہ اسباب ِ کفرجمع ہو جائیں اور اسلام کے اسباب نہ مہیا ہو سکیں۔اللہ عَزَّوَجَلَّ اس سے محفوظ فرمائے۔ بعض پر ایمان بھاری ہوتا ہے، بعض پر نیک اعمال بھاری اور بعض پر عشق اور وجدان بھاری ہے۔ خیال رہے کہ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ بندہ کفر کرنے پر مجبور ہے بلکہ وہ جو کفر و سرکشی کرتا ہے وہ اپنے اختیار سے کرتا ہے اور آدمی کی بد کرداریوں سے دل میں یہ حال پیدا ہوتا ہے جیسے لوہا زنگ لگ کر بیکار ہو جاتا ہے اسی طرح گناہوں کی وجہ سے دل زنگ آلود ہو کر حق قبول کرنے سے محروم ہو جاتا ہے۔

وَ هٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِیْمًاؕ-قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ(۱۲۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور یہ تمہارے رب کی سیدھی راہ ہے ہم نے آیتیں مفصل بیان کردیں نصیحت ماننے والوں کے لیے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور یہ تمہارے رب کی سیدھی راہ ہے بیشک ہم نے نصیحت ماننے والوں کے لیے تفصیل سے آیتیں بیان کردیں۔

{ وَ هٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِیْمًا:اور یہ تمہارے رب کی سیدھی راہ ہے۔} یعنی قرآنِ کریم یاحضور سیدُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی تعلیم وہ راستہ ہے جو بلا تَکَلُّف رب عَزَّوَجَلَّ تک پہنچا دیتا ہے جیسے سیدھا راستہ منزلِ مقصود تک پہنچاتا ہے اس لئے اسے’’ شریعت ‘‘کہتے ہیں یعنی وسیع اور سیدھا راستہ جس پر ہر شخص آسانی سے چل سکے۔ طریقت بھی رب عَزَّوَجَلَّ کا راستہ ہے مگر وہ ایسا تنگ اور پیچ دار ہے جس پر صرف واقف آدمی ہی چل سکتا ہے۔

لَهُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ هُوَ وَلِیُّهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۲۷)

ترجمۂ کنزالایمان: ان کے لیے سلامتی کا گھر ہے اپنے رب کے یہاں اور وہ ان کا مولیٰ ہے یہ ان کے کاموں کا پھل ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ان کے لیے ان کے اعمال کے بدلے میں ان کے رب کے حضور سلامتی کا گھر ہے اور وہ ان کا مددگار ہے۔

{ لَهُمْ دَارُ السَّلٰمِ:ان کیلئے سلامتی کا گھر ہے۔} دارُالسلام کے دو معنی ہیں (1) سلام اللہ تعالی کا نام ہے، تو ’’دار السلام‘‘ کا معنی ہوا وہ گھر جس کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے اور یہ اضافت تشریف اور عزت افزائی کے لئے ہے جیسے بَیْتُ اللہ اور نَاقَۃُ اللہ میں ہے۔ (2) اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ’’ سلام‘‘ دار کی صفت ہے یعنی یہ سلامتی کا گھر ہے اور جنت کو ’’ دارُالسلام‘‘ اس لئے فرمایا ہے کہ جنت میں ہر قسم کے عیوب، تکلیفوں اور مشقتوں سے سلامتی ہے۔ (تفسیر کبیر، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۲۷، ۵ / ۱۴۶) جنت کو دارُ السلامکہنے کی تیسری وجہ یہ ہے کہ جنتیوں کو جنت میں دخول کے وقت سلام کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے، فرشتوں کی طرف سے اور اہلِ اعراف کی طرف سے ان کو سلام پیش کیا جائے گا اور جنتی بھی ایک دوسرے کو سلام کریں گے ۔ (بغوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۲۷، ۲ / ۱۰۷)

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًاۚ-یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِۚ-وَ قَالَ اَوْلِیٰٓؤُهُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّ بَلَغْنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِیْۤ اَجَّلْتَ لَنَاؕ-قَالَ النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُؕ-اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ(۱۲۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جس دن اُن سب کو اٹھائے گا اور فرمائے گا اے جن کے گروہ تم نے بہت آدمی گھیرلیے اور ان کے دوست آدمی عرض کریں گے اے ہمارے رب ہم میں ایک نے دوسرے سے فائدہ اٹھایا اور ہم اپنی اس میعاد کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر فرمائی تھی فرمائے گا آگ تمہارا ٹھکانا ہے ہمیشہ اس میں رہو مگر جسے خدا چاہے اے محبوب بیشک تمہارا رب حکمت والا علم والا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور (یاد کرو) وہ دن جب وہ اُن سب کواٹھائے گا (اور فرمائے گا) اے جنوں کے گروہ! تم نے بہت سے لوگوں کو اپنا تابع بنالیا اور انسانوں میں سے جو ان کے دوست ہوں گے وہ کہیں گے : اے ہمارے رب! ہم نے ایک دوسرے سے فائدہ اٹھایا اور ہم اپنی اس مدت کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر فرمائی تھی۔ اللہ فرمائے گا: آگ تمہارا ٹھکانا ہے ، تم ہمیشہ اس میں رہو گے مگر جسے خدا چاہے ۔ بیشک تمہارا رب حکمت والا، علم والا ہے۔

{ وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًاۚ-یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ:اور جس دن وہ اُن سب کواٹھائے گا اور فرمائے گا اے جنوں کے گروہ!۔} قیامت میں اولاً سب اکٹھے ہوں گے اس لئے اسے’’ حشر‘‘ کہتے ہیں ، بعد میں اچھے بروں کی چھانٹ ہو جائے گی اس لئے اسے’’ یَوْمُ الْفَصْل‘‘ کہا جاتا ہے۔ سب کو اٹھانے سے مراد یا یہ ہے کہ مومن و کافر کو اکٹھا  اٹھائے گایا انسان و جن کو اکٹھااٹھائے گایا سعید و شقی کو اکٹھا اٹھائے گا۔ اس آیت میں ان سرکش جِنّات سے خطاب ہے جنہوں نے بہت سے انسانوں کو بہکایا جبکہ مومن جنات تو اللہ تعالی ٰکی رحمت میں ہوں گے۔

{ وَ قَالَ اَوْلِیٰٓؤُهُمْ مِّنَ الْاِنْسِ:اور انسانوں میں سے ان کے دوست کہیں گے۔} انسانوں میں سے جو جنات کے دوست ہوں گے اور دونوں نے ایک دوسرے سے فائدہ اٹھایا ہو گا اس طرح کہ’’



Total Pages: 191

Go To