Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

(3)… نبی کا معصوم ہونا ضروری ہے اور یہ عصمت نبی اور فرشتے کا خاصہ ہے کہ نبی اور فرشتہ کے سوا کوئی معصوم نہیں۔ اماموں کو انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرح معصوم سمجھنا گمراہی و بد دینی ہے۔  عصمتِ انبیا کے یہ معنی ہیں کہ اُن کے لیے اللہتعالیٰ کی طرف سے حفاظت کا وعدہ ہو چکا، جس کے سبب اُن سے گناہ کاصادر ہونا شرعاً محال ہے، جبکہ ائمہ و اکابر اولیا کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حفاظت کا کوئی وعدہ نہیں ، ہاں اللہ عَزَّوَجَلَّ اُنھیں محفوظ رکھتا ہے کہ اُن سے گناہ ہوتا نہیں اور اگر ہو تو شرعاً محال بھی نہیں۔

(4) انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام شرک و کفر اور ہر ایسے کام سے جو لوگوں کے لیے باعثِ نفرت ہو، جیسے جھوٹ ، خیانت اور جہل وغیرہ مذموم صفات  سے، نیز ایسے افعال سے جو وجاہت اور مُروّت کے خلاف ہیں ، نبوت سے پہلے اور نبوت کے بعد بالاجماع معصوم ہیں اور کبیرہ گناہوں سے بھی مطلقاً معصوم ہیں اور حق یہ ہے کہ جان بوجھ کر صغیرہ گناہ کرنے سے بھی نبوت سے پہلے اور نبوت کے بعد معصوم ہیں۔(بہار شریعت، حصہ اول، عقائد متعلقۂ نبوت، ۱ / ۳۶-۳۹، ملخصاً)

            نوٹ:مزید تفصیل کے لئے بہار شریعت جلد 1کے پہلے حصے کا مطالعہ کیجئے۔

{ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ:اللہ خوب جانتا ہے جہاں اپنی رسالت رکھے۔}یعنی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ رسالت کا مستحق کون ہے کہ اسے یہ شرفِ عظیم عطا فرمائے اور اسے بھی خوب جانتا ہے جو اس کا مستحق نہیں ،اور اے کفارِ مکہ! تم ا س لائق ہی نہیں کہ تمہیں نبوت جیسے عظیم مرتبہ سے نوازا جائے اور نہ ہی نبوت مطالبہ کرنے پر ملتی ہے خصوصاً وہ شخص کہ جو حسد، دھوکہ، بدعہدی وغیرہ برے افعال اور گھٹیا اوصاف میں مبتلا ہو، نبوت جیسے منصبِ عالی کے لائق کیسے ہو سکتا ہے۔( خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۲۴، ۲ / ۵۳)

عظمتِ مصطفٰی اور عظمتِ صحابہ:

            حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’اللہ تعالیٰ نے بندوں کے دلوں میں نظر فرمائی تو سب کے دلوں سے بہتر محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے دل کو پایا تو انہیں اپنے لئے چن لیا اور اپنی رسالت کے ساتھ انہیں مبعوث فرمایا ۔محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے دل کے بعد بندوں کے دلوں میں نظر فرمائی تو ان کے صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے دلوں کو دیگر لوگوں کے دلوں سے بہتر پایا تو انہیں اپنے نبی کا وزیر بنادیا، یہ لوگ ان کے دین کی حمایت میں جنگ کرتے ہیں۔ پس جس چیز کو مسلمان اچھا سمجھیں تو وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک بھی اچھی ہے اور جسے مسلمان برا سمجھیں تو وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک بھی بری ہے۔ (مسند امام احمد، مسند عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ، ۲ / ۱۶، الحدیث:  ۳۶۰۰)

فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِۚ-وَ مَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّهٗ یَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَیِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِؕ-كَذٰلِكَ یَجْعَلُ اللّٰهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ(۱۲۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جسے اللہ راہ دکھانا چاہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے گمراہ کرنا چاہے اس کا سینہ تنگ خوب رکا ہوا کر دیتا ہے گویا کسی کی زبردستی سے آسمان پر چڑھ رہا ہے۔ اللہ یونہی عذاب ڈالتا ہے ایمان نہ لانے والوں کو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جسے اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے تو اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے گمراہ کرنا چاہتا ہےاس کا سینہ تنگ، بہت ہی تنگ کردیتا ہے گویا کہ وہ زبردستی آسمان پر چڑھ رہا ہے۔ اسی طرح اللہ ایمان نہ لانے والوں پر عذاب مسلط کردیتا ہے۔

{ فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ:اور جسے اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے۔} اللہ تعالیٰ نے ازل سے ہی اپنی مخلوق کی دو قسمیں بنائیں (1) شقی (2) سعید، اور ہر ایک کیلئے نشانی بنائی کہ جس سے اس کی پہچان ہو۔ سعادت کی نشانی اسلام کے لئے سینہ کھلنا اور ایمان قبول کرنا جبکہ شقاوت کی نشانی سینہ کی تنگی اور اسلام قبول نہ کرناہے۔ اور ہر گروہ کے لئے آخرت میں ایک گھر بنایا جس میں وہ لوگ رہیں گے۔ سعادت مند جنت اور اس کی نعمتوں میں رہیں گے اور شقاوت والوں کو جہنم کی آگ میں رہنا اور اس کا عذاب سہنا پڑے گا۔ حدیث میں ہے ’’اللہ تعالیٰ نے ایک مخلوق کو پیدا فرمایا اور ارشاد فرمایا: یہ جنت کے لئے ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ، اور ایک مخلوق کو پید افرمایا اور فرمایا: یہ جہنم کے لئے ہیں اور مجھے کچھ پرواہ نہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی مخلوق کی نشانی بیان فرمائی ہے،لہٰذا جب اللہ تعالیٰ بندے کو شرحِ صدر کی توفیق دے اور اسے حلاوتِ ایمان سے بھر دے تو وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے عظیم نعمت عطا فرمائی ہے۔(صاوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۲۵، ۲ / ۶۲۷)

            امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’جسے جنت کے لیے پیدا کیا گیا اس کے لیے عبادت کے اسباب آسان کردیئے جاتے ہیں اور جسے جہنم کے لیے پیدا کیا گیا اس کے لیے گناہ کے اسباب آسان کردیئے جاتے ہیں اور اس کے دل میں شیطان کا حکم مُسلَّط کیا جاتا ہے کیونکہ وہ طرح طرح کی باتوں سے بیوقوف لوگوں کو دھوکہ دیتا ہے وہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ رحمت والا ہے لہٰذا تمہیں کوئی پرواہ نہیں کرنی چاہیے، تمام لوگ اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے لہٰذا تم ان کی مخالفت نہ کرو، زندگی بہت طویل ہے لہٰذا انتظار کرو کل توبہ کرلینا، جیساکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’ یَعِدُهُمْ وَ یُمَنِّیْهِمْؕ-وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا ‘‘(نساء :۱۲۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:شیطان انہیں وعدے دیتا ہے اور آرزوئیں دلاتا ہے اور شیطان انہیں صرف فریب کے وعدے دیتا ہے۔

            یعنی وہ ان کو توبہ کا وعدہ دیتا اور مغفرت کی تمنا دلاتا ہے اور ان حیلوں سے اِذنِ خداوندی سے ان کوہلاک کردیتا ہے، اس کے دل کو دھوکے کی قبولیت کے لیے کشادہ اور قبولِ حق سے تنگ کردیتا ہے اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قضا اور تقدیر سے ہوتا ہے۔ ہدایت و گمراہی کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے، وہ جو چاہے کرتا ہے اور جو ارادہ فرمائے حکم دیتا ہے اس کے حکم کو کوئی رد نہیں کرسکتا اور نہ کوئی اس کے فیصلے کو مؤخر کرسکتا ہے اس نے جنت اور اہلِ جنت کو پیدا کیا اور ان کو عبادت پر لگایا نیز جہنم اور اہلِ جہنم کو پید اکیا اور ان کو گناہوں پر لگادیا۔ (احیاء علوم الدین، کتاب شرح عجائب القلب، بیان سرعۃ تقلب القلب۔۔۔ الخ، ۳ / ۵۹)

سینہ کھلنے سے کیا مراد ہے؟:

            شرح کا اصلی معنی ہے ’’وسیع کرنا‘‘ جبکہ یہاں اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کے دل میں روشنی پیدا فرماتا ہے یہاں تک کہ اس کا ہر عمل اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہو جاتا ہے۔ (صاوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۲۵، ۲ / ۶۲۷)

 



Total Pages: 191

Go To