Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَسے محبت رکھتا ہوں۔ ارشاد فرمایا ’’تم ان کے ساتھ ہو جن سے محبت رکھتے ہو۔ حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :ہمیں اتنا کسی چیزنے خوش نہیں کیا جتنا حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکے اس فرمان نے کیا کہ تم اس کے ساتھ ہو گے جس سے محبت کرتے ہو۔ میں نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے اور حضرت ابو بکر، حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے محبت کرتا ہوں لہٰذا میں امیدوار ہوں کہ ان کی محبت کے باعث میں ان کے ساتھ رہوں گا اگرچہ میرے اعمال ان جیسے نہیں۔(بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم، باب مناقب عمر بن الخطاب۔۔۔ الخ، ۲ / ۵۲۷، الحدیث: ۳۶۸۸)

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ اَكٰبِرَ مُجْرِمِیْهَا لِیَمْكُرُوْا فِیْهَاؕ-وَ مَا یَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِهِمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ(۱۲۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں اس کے مجرموں کے سرغنہ کیے کہ اس میں داؤں کھیلیں اور داؤں نہیں کھیلتے مگر اپنی جانوں پر اور انہیں شعورنہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ویسے ہی ہم نے ہر بستی میں اس کے مجرموں کو (ان کا) سردار بنادیا تاکہ اس میں وہ اپنی سازشیں کریں اور وہ صرف اپنے خلاف سازشیں کر رہے ہیں اور انہیں شعور نہیں۔

{ وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا:اور اسی طرح ہم نے بنا دئیے۔} ارشاد فرمایا کہ جیسے کفارِ مکہ دیگر کافروں کے سردار ہیں ویسے ہی ہم نے ہر بستی میں اس بستی کے مجرموں کو ان کا سردار بنا دیا تاکہ اس بستی میں وہ اپنی سازشیں کریں اور طرح طرح کے حیلوں ، فریبوں اور مکاریوں سے لوگوں کو بہکانے اور باطل کو رواج دینے کی کوشش کریں۔ ان سے یہ افعال اس لئے سرزد ہوئے کہ یہ رئیس تھے اور اللہ تعالیٰ کا طریقہ یہ رہا ہے کہ’’ ا س نے ہر بستی میں غریب لوگوں کو رسولوں کی پیروی کرنے والا اور نافرمانوں کو بستی کا سردار بنایا۔ (خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۲۳، ۲ / ۵۳)

پیشواؤں کے بگڑنے کا نقصان اور سنبھلنے کا فائدہ:

            ا س سے معلوم ہوا کہ قوم کے سرداروں کا بگڑنا قوم کو ہلاک کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’ وَ اِذَاۤ اَرَدْنَاۤ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْیَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِیْهَا فَفَسَقُوْا فِیْهَا فَحَقَّ عَلَیْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِیْرًا‘‘ (بنی اسرائیل:۱۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں توہم اس کے خوشحال لوگوں کو (اپنے رسولوں کے ذریعے اپنی اطاعت کا)حکم دیتے ہیں پھر وہ لوگ اس بستی میں نافرمانی کرتے ہیں تو اس بستی پر (عذابِ الہٰی کی) بات پکی ہوجاتی ہے تو ہم اسے تباہ وبرباد کردیتے ہیں۔

            اسی طرح پیشواؤں کا سنبھل جانا قوم کو سنبھالا دینا ہے۔

{ لِیَمْكُرُوْا فِیْهَا:تاکہ اس میں وہ اپنی سازشیں کریں۔} مکہ مکرمہ آنے والے ہر راستے پر کفارِ مکہ نے چار چار افراد بٹھا دئیے تاکہ وہ لوگوں کو نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَپر ایمان لانے سے روکیں ، چنانچہ جو شخص بھی مکہ میں حاضر ہوتا یہ لوگ اس سے کہتے کہ ’’تم اس شخص سے بچنا یہ کاہن، ساحر اور کذاب ہے۔ ان کے بارے میں فرمایا گیا کہ درحقیقت یہ صرف اپنے خلاف سازشیں کررہے ہیں ، ان سازشوں کا وبال انہی پر پڑے گا اور انہیں اس کا شعور نہیں۔ (بغوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۲۳، ۲ / ۱۰۶)

            اس آیت میں سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ سردارانِ مکہ کی دشمنی سے پریشان نہ ہوں ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَسے پہلے جو انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامگزرے وہ جس شہر میں مبعوث ہوئے وہاں کے سرداروں نے ان کی اسی طرح مخالفت کی تھی۔ (البحر المحیط، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۲۳، ۴ / ۲۱۷)

وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰهِ ﲪ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗؕ-سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا كَانُوْا یَمْكُرُوْنَ(۱۲۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آئے کہتے ہیں ہم ہر گز ایمان نہ لائیں گے جب تک ہمیں بھی ویسا ہی نہ ملے جیسا اللہ کے رسولوں کو ملا اللہ خوب جانتا ہے جہاں اپنی رسالت رکھے عنقریب مجرموں کو اللہ کے یہاں ذلت پہنچے گی اور سخت عذاب بدلہ ان کے مکر کا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آئے تو کہتے ہیں کہ ہم ہر گز ایمان نہ لائیں گے جب تک ہمیں بھی ویسا ہی نہ ملے جیسا اللہ کے رسولوں کو دیا گیا۔ اللہ اسے خوب جانتا ہے جہاں وہ اپنی رسالت رکھے۔ عنقریب مجرموں کو ان کے مکرو فریب کے بدلے میں اللہ کے ہاں ذلت اور شدید عذاب پہنچے گا۔

{ وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ:اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آئے۔}  شانِ نزول: ولید بن مغیرہ نے رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَسے کہا: ’’ اگر نبوت حق ہے تو میں آپ سے زیادہ اس کا مستحق ہوں کیونکہ میں عمر میں بڑا ہوں اور آپ سے زیادہ مالدار ہوں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی ،ابو جہل نے کہا کہ’’ہم نے عبدِ مناف کی اولاد سے سرداری میں مزاحمت کی۔ اور اب وہ کہتے ہیں کہ ہم میں ایک نبی ہے جس کی طرف وحی نازل ہوتی ہے۔ اللہ کی قسم! ہم اس پر ایمان لائیں گے نہ کبھی اس کی پیروی کریں گے یہاں تک کہ ہمارے پاس بھی ویسے ہی وحی آئے جیسے اس کے پاس آتی ہے۔ (تفسیر بغوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۲۴، ۲ / ۱۰۶)

عقیدۂ نبوت کے بارے میں چند اہم باتیں :

            اس سے معلوم ہوا کہ نبوت کا چناؤ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے ۔ اعمال، قومیت یا مال کی وجہ سے نبوت نہیں ملتی۔ عقیدۂ نبوت سے متعلق چند اہم باتیں یاد رکھنے کی ہیں :

(1)…نبوت کسبی نہیں کہ آدمی عبادت و ریاضت کے ذریعے کوشش کر کے اسے حاصل کر سکے بلکہ محض اللہ تعالیٰ کی عطا ہے کہ جسے چاہتا ہے اسے اپنے فضل سے نبوت عطا فرماتا ہے، ہاں دیتا اسی کو ہے جسے اس عظیم منصب کے قابل بناتا ہے، جو نبوت کا منصب ملنے سے پہلے ہر طرح کے برے اور مذموم اخلاق سے پاک اور اچھے اور قابلِ تعریف تمام اخلاق سے مزین ہو کر ولایت کے جملہ مَدارج طے کر چکتا ہے، اور اپنے نسب و جسم، قول وفعل، حرکات و سکنات میں ہرایسی بات سے پاک و صاف ہوتا ہے جو باعثِ نفرت ہو، اُسے عقلِ کامل عطا کی جاتی ہے، جو اوروں کی عقل سے بدرجہا زائد ہے، کسی حکیم اور کسی فلسفی کی عقل اُس کے لاکھویں حصہ تک نہیں پہنچ سکتی۔ اور جو اِسے کسبی مانے کہ آدمی اپنے کسب و ریاضت سے منصب ِنبوت تک پہنچ سکتا ہے، کافر ہے۔

(2)… جو شخص نبی سے نبوت کا زوال ممکن مانے وہ کافر ہے۔

 



Total Pages: 191

Go To