Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

{ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ:بیشک تیرا رب خوب جانتا ہے ۔} یعنی کفار جو دوسروں سے فیصلہ کروانے کی بات کرتے ہیں یہ انتہائی نادان ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ لوگوں میں سے گمراہ کون ہے اور حق پر کون ہے اور یہ بھی وہی بہتر جانتا ہے کہ کفار اور مومنین میں سے گمراہی اور ہدایت پر کون ہے اور وہی ان میں سے ہر ایک کو وہ جزا دے گا جس کا وہ مستحق ہے۔ (بغوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۱۷، ۲ / ۱۰۳، روح البیان، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۱۷، ۳ / ۹۲، ملتقتاً)    یعنی مومن حق و ہدایت پر ہیں اور کفار باطل و ضلالت پر۔

فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ بِاٰیٰتِهٖ مُؤْمِنِیْنَ(۱۱۸)

ترجمۂ کنزالایمان:   تو کھاؤ اس میں سے جس پر اللہ کا نام لیا گیا اگر تم ا س کی آیتیں مانتے ہو ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اس میں سے کھاؤجس پر اللہکا نام لیا گیا اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو۔

{ فَكُلُوْا:تو کھاؤ۔} یعنی جو جانور اللہ تعالیٰ کے نام پر ذبح کیا گیا اسے کھاؤ اور جو اپنی موت مرا یا بتوں کے نام پر ذبح کیا گیا وہ حرام ہے۔ جانور کے حلال ہونے کا تعلق اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نام پر ذبح ہونے سے ہے ۔ شانِ نزول: مشرکین مسلمانوں پر اعتراض کرتے تھے کہ تم اپنا قتل کیا ہوا تو کھاتے ہو اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کا مارا ہوا یعنی جو اپنی موت مرے اس کو حرام جانتے ہو۔ اس کے جواب میں یہ آیت اتری (خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۱۸، ۲ / ۵۰) جس میں فرمایا گیا کہ جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نام پر ذبح کیا گیا وہ حلال ہے اور جو اس کے نام پر ذبح نہ ہوا وہ حرام ہے۔ اور کافروں کا اعتراض کہ ذبیحہ کو ہم مارتے ہیں اور جو خود مرے اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ مارتا ہے تو جو اللہ عَزَّوَجَلَّکا مارا ہوا ہو وہ حرام کیوں ؟ اس اعتراض کی بنیاد ہی غلط ہے کیونکہ جس جانور کو کوئی شخص مارے اور جو جانور خود مرے بہرحال دونوں کو موت دینے والا اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی ہے لہٰذا دونوں صورتوں میں یوں فرق کرنا ہی باطل ہے کہ ایک کو ہم نے مارا اور دوسرے کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے۔ اب رہا یہ کہ ایک حلال اور دوسرا حرام کیوں تو یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا حکم ہے اور وہ خالق و مالک ہے جو چاہے حکم فرمائے اور یہ اس کے نام کی تعظیم کی ایک صورت ہے کہ اس کے نام پر ذبح کردہ جانور حلال ہے اور اس کے علاوہ حرام ہے۔

قرآنِ مجید پر ایمان لانے کا تقاضا:

            اس سے معلوم ہو اکہ قرآنِ مجید کی آیات پر ایمان لانا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ نے حلال فرمایا اسے حلال سمجھا جائے اور اس پر عمل کیا جائے اور جسے حرام فرمایا اسے حرام مانا جائے اور ا س سے بچا جائے اور اللہ تعالیٰ کے حلال کئے ہوئے کو حرام قرار دینا یا حرام کئے ہوئے کو حلال سمجھنا دونوں قرآن پر ایمان کے منافی ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ قرآنِ کریم (اجمالی طور پر کلام کی) پانچ قسموں پر اترا: حلال، حرام، مُحکم، مُتَشابہ اور مثالیں لہٰذا حلال کو حلال جانو، حرام کو حرام مانو، محکم پر عمل کرو ، متشابہ پر ایمان لاؤ اور مثالوں سے عبرت پکڑو۔ (مشکاۃ المصابیح، کتاب الایمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، الفصل الثانی، ۱ / ۵۶، الحدیث: ۱۸۲)

                حضرت صہیب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ اس شخص کا قرآن پر ایمان نہیں جو اس کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال سمجھے۔ (ترمذی، کتاب فضائل القرآن، ۲۰-باب، ۴ / ۴۲۱، الحدیث: ۲۹۲۷)

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تَاْكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ قَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْهِؕ-وَ اِنَّ كَثِیْرًا لَّیُضِلُّوْنَ بِاَهْوَآىٕهِمْ بِغَیْرِ عِلْمٍؕ-اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیْنَ(۱۱۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور تمہیں کیا ہوا کہ اس میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا وہ تو تم سے مفصل بیان کرچکا جو کچھ تم پر حرام ہوا مگر جب تمہیں اس سے مجبوری ہو اور بیشک بہتیرے اپنی خواہشوں سے گمراہ کرتے ہیں بے جانے بیشک تیرا رب حد سے بڑھنے والوں کو خوب جانتا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تمہیں کیا ہے کہ تم اس میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے حالانکہ وہ تمہارے لئے وہ چیزیں تفصیل سے بیان کرچکا ہے جو اس نے تم پر حرام کی ہیں سوائے ان چیزوں کے جن کی طرف تم مجبور ہوجاؤ اور بیشک بہت سے لوگ لاعلمی میں اپنی خواہشات کی وجہ سے گمراہ کرتے ہیں۔ بیشک تیرا رب حد سے بڑھنے والوں کو خوب جانتا ہے۔

 { وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تَاْكُلُوْا:اور تمہیں کیا ہے کہ تم نہ کھاؤ۔}یعنی اس جانور کو کھانے سے کیا چیز تمہیں روک رہی ہے جسے اللہ تعالیٰ کے نام پر ذبح کیا گیا ہے حالانکہ جوچیزیں حرام تھیں وہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں تفصیل سے بیان فرما دی ہیں اور جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حرام نہیں فرمایا اسے حرام سمجھنا کیسی حماقت ہے۔

حرام چیزوں کا ذکر تفصیل کے ساتھ ہوتا ہے:

            اس سے معلوم ہوا کہ قانون یہ ہے کہ حرام چیزوں کا مفصل ذکر ہوتا ہے اور جس چیز کو حرام نہ فرمایا گیا ہو وہ حلال ہے۔ حرام چیزوں کا تفصیلی بیان متعدد سورتوں میں اور سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے فرامین میں موجود ہے۔ یونہی مجبوری کی حالت میں حرام چیز کھانے کا بیان قرآنِ پاک میں کئی جگہ موجود ہے۔

{ وَ اِنَّ كَثِیْرًا لَّیُضِلُّوْنَ:اور بیشک بہت سے لوگ گمراہ کرتے ہیں۔}کفار بحیرہ اور سائبہ بتوں پر چھوٹے ہوئے جانوروں کو تو حرام جانتے ہیں اور جو جانور غیرِ خدا کے نام پر ذبح ہوں یا خود مر جائیں انہیں حلال جانتے ہیں حالانکہ معاملہ اس کے بالکل بر عکس ہے لہٰذا ان جاہلوں کی بات نہ مانو۔

حلال چیزیں حرام قرار دینے والوں کو نصیحت:

            اس آیتِ کریمہ کو پڑھ کر وہ لوگ غور کریں جواپنی نفسانی خواہشات کی وجہ سے چیزوں کو حرام یا حلال قرار دے کر گمراہ کرتے ہیں ، شریعت سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا اسی طرح ان حضرات کو بھی غور کرنے کی حاجت ہے جو اس جانورکو حرام کی صف میں داخل کر دیتے ہیں کہ جسے ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لے کر ذبح کیا گیا اور اس سے مقصود کسی ولی یا بزرگ کو ثواب پہنچانا تھا۔

{ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیْنَ:بیشک تیرا رب حد سے بڑھنے والوں کو خوب جانتا ہے۔}یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ کا رب عَزَّوَجَلَّ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جنہوں نے اس چیز کو حرام قرار دے دیا جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حلال کیا اور جسے اس نے حرام کیا اسے حلا ل کہہ دیا،اللہ تعالیٰ انہیں ان کی حرکتوں کی سزا دے گا۔ (خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۱۹، ۲ / ۵۰-۵۱)

 



Total Pages: 191

Go To