Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

مخلوق کے شر سے بچنے کے لئے 3 وظائف:

            اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کا ذکر ہوا،ا س کی مناسبت سے ہم یہاں مخلوق کے شر سے بچنے کے تین وہ وظائف ذکر کرتے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کا ذکر ہے۔

(1)…حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  فرماتے ہیں : تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ حضرت حسن اور حضرت حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا پر چند کلمات پڑھ کر پھونکا کرتے اور فرماتے ’’ تمہارے جدِ امجد بھی حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر انہیں پڑھ کر دم کیا کرتے تھے ۔ (وہ کلمات یہ ہیں )’’اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللہِ التَّامَّۃِ مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ وَّہَامَّۃٍ ، وَمِنْ کُلِّ عَیْنٍ لَامَّۃٍ‘‘۔ (بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، ۱۱-باب، ۲ / ۴۲۹، الحدیث: ۳۳۷۱)

            شیطان کے شر اور نظر بد سے محفوظ رہنے کے لئے یہ وظیفہ انتہائی مفید ہے۔

(2)…حضرت خولہ بنتِ حکیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھا سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ جو شخص (سفر کے دوران) کسی جگہ اترے اور یہ کلمات کہے ’’اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ‘‘ تو اس مقام سے کوچ کرنے تک اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی۔ (ترمذی، کتاب الدعوات، باب ما جاء مایقول اذا نزل منزلًا، ۵ / ۲۷۵، الحدیث: ۳۴۴۸)

(3)…حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں : رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَسونے سے پہلے یہ کہا کرتے تھے ’’اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِوَجْہِکَ الْکَرِیْمِ وَکَلِمَاتِکَ التَّامَّۃِ مِنْ شَرِّ مَا اَنْتَ اٰخِذٌ بِنَاصِیَتِہٖ اَللّٰہُمَّ اَنْتَ تَکْشِفُ الْمَغْرَمَ وَالْمَاْثَمَ اَللّٰہُمَّ لَا یُہْزَمُ جُنْدُکَ وَلَا یُخْلَفُ وَعْدُکَ وَلاَ یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ‘‘  اے اللہ! عَزَّوَجَلَّ، میں تیری بزرگ ذات اور تیرے مکمل کلمات کی پناہ پکڑتا ہوں اس کے شر سے جسے تو پیشانی سے پکڑنے والاہے ۔اے اللہ! عَزَّوَجَلَّ، تو ہی قرض ادا کرواتا اور گناہوں کو معاف کرتا ہے۔ اے اللہ! عَزَّوَجَلَّ، تیرے لشکر کو شکست نہیں ہو گی اور تیرا وعدہ غلط نہیں ہو گا، تیرے سامنے کسی زور آور کا زور نہیں چلتا۔ تو پاک ہے اور سب تعریفیں تیرے لئے ہیں۔(ابو داؤد، کتاب الادب، باب مایقول عند النوم، ۴ / ۴۰۶، الحدیث: ۵۰۵۲)

وَ اِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ-اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ(۱۱۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اے سننے والے زمین میں اکثر وہ ہیں کہ تو ان کے کہے پر چلے تو تجھے اللہ کی راہ سے بہکا دیں وہ صرف گمان کے پیچھے ہیں اور نری اٹکلیں دوڑاتے ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور اے سننے والے! زمین میں اکثر وہ ہیں کہ تو ان کے کہے پر چلے تو تجھے اللہ کی راہ سے بہکا دیں ، یہ صرف گمان کی پیروی کرتے ہیں اور یہ صرف اندازے لگا رہے ہیں۔

{ وَ اِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ: اگر تو زمین میں موجود اکثر لوگوں کی اطاعت کرے۔} اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے شبہات کا جواب دیا پھر اللہ تعالیٰ نے نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نبوت کے درست ہونے کودلائل کے ساتھ بیان کیا اور اب بیان فرمایا جا رہا ہے کہ جب شبہات زائل ہو گئے اور دلائل بھی واضح ہو چکے تو اب کسی عقلمند کے لئے جائز نہیں کہ وہ جاہلوں کی گفتگو کی طرف توجہ کرے اور نہ ہی ان کے فاسد کلمات کی وجہ سے تشویش میں مبتلا ہو، لہٰذا اے سننے والے! اگر تو زمین میں موجود اکثر لوگوں یعنی کافروں کی غلط باتوں یعنی حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھنے میں ان کی پیروی کرے گا تو یہ تجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے راستے سے بھٹکا دیں گے۔ (تفسیر کبیر، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۱۶، ۵ / ۱۲۶)

            ایک قول یہ ہے کہ اس سے جاہل اور نفسانی خواہشات کے پیچھے چلنے والے لوگوں کی پیروی مراد ہے۔ (بیضاوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۱۶، ۲ / ۴۴۶)

اسلامی لبادے میں ملبوس اسلام دشمنوں سے بچا جائے:

             اس آیت میں یہ پہلو بھی داخل ہے کہ عوام ایسے لوگوں سے بھی محتاط رہیں جو اسلام کا لبادہ اوڑھ کر ،اسلامی تعلیمات کی اشاعت کو اپنی ڈھال بنا کر اسلام ہی کی بنیادیں کھوکھلی کرنے میں مصروف ہیں ان کے بارے میں علمائے حق سے معلومات حاصل کر کے ان سے بچنے کی کوشش کریں ، دین کے مُسَلَّمہ امور میں ان کی قیاس آرائیاں ، حق کو باطل اور باطل کو حق ظاہر کرنے میں ان کی صرف کی ہوئی توانائیاں کسی کام کی نہیں ، ان کی پیروی دنیا و آخرت کے عظیم خسارے کا سبب بن سکتی ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ دینی امور میں صر ف اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی پیروی کریں ، ان کے مقابلے میں کسی کی بھی پیروی نہ کریں۔ اہلِ حق علماء اور مجتہدین کی پیروی درحقیقت اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی ہی پیروی ہے کہ یہ حضرات ان ہی کے احکام سناتے ہیں۔

{ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ: یہ صرف گمان کی پیروی کرتے ہیں۔} یعنی یہ کفار جو آپ سے آپ کے دین اور مذہب کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں انہیں تو اپنے مذہب کے درست ہونے کا بھی یقین نہیں۔ اپنے مذہب کو درست ثابت کرنے کیلئے ان کے پاس دلیل صرف اپنے جاہل اور گمراہ باپ دادا کی تقلید کرنا ہے، یہ لو گ بصیرت و حق شناسی سے محروم ہیں اور دین کے بارے میں غلط اندازے لگا رہے ہیں کہ یہ حلال ہے یہ حرام۔ اٹکل سے کوئی چیز حلال یاحرام نہیں ہوتی جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے حلال کیا وہ حلال ہے اور جسے حرام کیا وہ حرام ہے۔ اکثر مفسرین کے نزدیک اس آیت میں ’’ظن ‘‘سے مراد کفار کا اپنے مذہب کو ثابت کرنے میں اپنے اسلاف کی تقلید کرنا ہے، مجتہد کے قیاس سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔(تفسیر کبیر، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۱۶، ۵ / ۱۲۷)

قرآن وحدیث کے مقابلے میں آباؤ اجداد کی پیروی مشرکوں کا طریقہ ہے:

            اس سے معلوم ہوا کہ قرآن و حدیث کے مقابل اپنے باپ دادوں کی پیروی کرنا مشرکوں کا طریقہ ہے۔ فی زمانہ حالت بھی کچھ ایسی ہی ہے کہ اگر کوئی کسی غلط بات پر عمل پیرا ہو اور اسے سمجھایا جائے تو جواب یہی ملتا ہے کہ ہم تو عرصۂ دراز سے یونہی کرتے چلے آ رہے ہیں ،ہم نے تو آج تک کسی کو اس بارے میں کوئی کلام کرتے نہیں سنا، ہمارے بڑے بوڑھے بھی تو یہی کرتے آئے ہیں تم نے دو لفظ کیا پڑھ لئے اب ہمیں بھی سمجھانے لگ گئے، ایسے حضرات کو چاہئے کہ اس آیتِ کریمہ کو سامنے رکھ کر خودغور کرلیں کہ وہ کن کی رَوِش اختیار کئے ہوے ہیں۔

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ مَنْ یَّضِلُّ عَنْ سَبِیْلِهٖۚ-وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ(۱۱۷)

ترجمۂ کنزالایمان: تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون بہکا اس کی راہ سے اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت والوں کو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور وہ ہدایت والوں کو (بھی) خوب جانتا ہے۔

 



Total Pages: 191

Go To