Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

باتوں کے وسوسے ڈالتے ہیں ، اب اس کی مزید وجوہات بیان فرمائی جا رہی ہیں کہ وہ ایک دوسرے کو بناوٹی باتوں کے وسوسے اس لئے ڈالتے ہیں تاکہ آخرت پر ایمان نہ لانے والوں کے دل ان بناوٹی باتوں کی طرف مائل ہوجائیں ، وہ ان کی بناوٹی باتوں کو پسند کر لیں اور اسی گناہ کا ارتکاب کریں جس کے یہ خود مرتکب ہوئے ہیں۔

دل اپنے ہم جنس کی طرف جھکتا ہے:

            ا س سے معلوم ہوا کہ ہر ایک کادل اپنے ہم جنس کی طرف جھکتا ہے، لہٰذا اگر کسی آدمی کا دل گناہگاروں ، گمراہوں کی طرف زیادہ جھکتا ہے تو اسے غور کرنا چاہیے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس کے دل میں بھی گمراہی اور برائی کی محبت بیٹھی ہوئی ہے۔

اَفَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِیْ حَكَمًا وَّ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ اِلَیْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًاؕ-وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ(۱۱۴)

ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا اللہکے سوا میں کسی اور کا فیصلہ چاہوں اور وہی ہے جس نے تمہاری طرف مفصل کتاب اُتاری اور جن کو ہم نے کتاب دی وہ جانتے ہیں کہ یہ تیرے رب کی طرف سے سچ اترا ہے تو اے سننے والے تو ہر گز شک والوں میں نہ ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیا میں اللہ کے سوا کسی کو حاکم بنالوں ؟ حالانکہ وہی ہے جس نے تمہاری طرف مفصل کتاب اُتاری اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی وہ جانتے ہیں کہ یہ تیرے رب کی طرف سے حق کے ساتھ نازل شدہ ہے تو اے سننے والے تو ہر گز شک والوں میں نہ ہو۔

{ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِیْ حَكَمًا: توکیا میں اللہ کے سوا کسی کوحاکم بنالوں ؟} شانِ نزول:  کفارِ مکہ نے سیّدِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سی عرض کیا تھا کہ یہود و نصاریٰ کے پوپ پادریوں کو ہم اور آپ پنچ بنا لیں جو یہ فیصلہ کریں کہ ہم حق پر ہیں یا آپ۔ تب یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔ (روح البیان، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۱۴، ۳ / ۹۰)

             اس آیتِ مبارکہ کا خلاصہ یہ ہے کہ اس سے پہلے کفار کے بارے میں بیان ہو اکہ انہوں نے قسمیں کھا کر کہا کہ اگر ان کی مطلوبہ نشانیاں انہیں دکھا دی جائیں تو وہ ایمان لے آئیں گے، اس پرانہیں جواب دیا گیا کہ ان نشانیوں کو ظاہر کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اگر ان کی مطلوبہ نشانیاں ظاہر کر دے تو بھی وہ لوگ اپنے کفر پر قائم ہی رہیں گے۔ اب اس آیتِ مبارکہ میں بیان فرمایا جا رہا ہے کہ نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نبوت پرد لالت کرنے والی نشانیاں تو مکمل طور پر ظاہر ہو چکی ہیں ، ایک نشانی تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر مفصل کتاب اتاری جس میں امرونہی ،وعدہ و وعید اور حق و باطل کا فیصلہ اور تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے صدق کی شہادت اور کفار کے افتراء کا بیان ہے اور دوسری نشانی یہ ہے کہ تورات و انجیل میں رسولِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے رسولِ برحق ہونے اور قرآن پاک کے اللہ تعالیٰ کی کتاب ہونے پر دلالت کرنے والی نشانیاں موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے  جنہیں آسمانی کتاب کی سچی سمجھ نصیب کی جیسے حضرت عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ وغیرہ نیزعام علماء اہلِ کتاب ان دلائل کی وجہ سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو حق جانتے ہیں اگرچہ کسی دنیاوی وجہ سے اس کا اقرار نہ کریں۔ لہٰذا اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، تم ان مشرکین سے فرما دوکہ کیا میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کسی اور کو حاکم و قاضی بنالوں جو میرے اور تمہارے درمیان فصلہ کرے؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے میری نبوت کے حق ہونے کا فیصلہ فرما دیا ہے کہ جب اس نے عاجز کر دینے والی کتاب یعنی قرآنِ پاک مجھ پر نازل فرما دیا تو میری نبوت کے درست ہونے کا فیصلہ بھی ہو گیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فیصلے سے بڑھ کر اور کسی کا فیصلہ نہیں ، لہٰذا اب میری نبوت کا اقرار کرنا ضروری ہے۔( تفسیر کبیر، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۱۴، ۵ / ۱۲۳-۱۲۴)

 { فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ:تو اے سننے والے تو ہر گز شک والوں میں نہ ہو۔} ایک قول یہ ہے کہ یہاں خطاب نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے ہے، اس صورت میں معنی یہ ہوا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ اس بات پر شک کرنے والوں میں نہ ہونا کہ اہلِ کتاب کے علماء جانتے ہیں کہ یہ قرآن حق ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ اے حبیب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ اس بات پر شک کرنے والوں میں نہ ہو نا کہ ہم نے آپ کو جو بیان کیا ہے وہ حق ہے یا نہیں۔ یاد رہے کہ اس کا تعلق ان باتوں سے ہے جو کسی کوا بھارنے کے لئے کی جاتی ہیں ورنہ حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ  تو شک کر ہی نہیں سکتے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ بظاہر اگرچہ خطاب   سرکارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے ہے لیکن مراد ان کا غیر ہے۔ اب معنی یہ ہوا کہ’’ اے قرآنِ پاک کوسننے والے انسان! تو اس بات میں شک نہ کرنا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے کیونکہ یہ ایسا عاجز کر دینے والا کلام ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور اس جیسا کلام پیش کرنے پر قادر ہی نہیں۔(خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۱۴، ۲ / ۴۹)

وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّ عَدْلًاؕ-لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖۚ-وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(۱۱۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور پوری ہے تیرے رب کی بات سچ اور انصاف میں اس کی باتوں کا کوئی بدلنے والا نہیں اور وہی ہے سنتا جانتا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور سچ اور انصاف کے اعتبار سے تیرے رب کے کلمات کامل ہیں۔ اس کے کلمات کو کوئی بدلنے والا نہیں اور وہی سننے والا، جاننے والا ہے۔

{ وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ:اور پوری ہے تیرے رب کی بات۔} رب کی بات سے مراد وہ فیصلۂ الہٰی ہے جو کفار ومومن کے متعلق ہو چکایا اس سے تمام آسمانی کتابیں مراد ہیں یا قرآن شریف ، الغرض جو کچھ بھی مراد ہو مقصود بالکل ظاہر ہے۔

قرآنِ مجید کی 4شانیں :

             اس آیتِ کریمہ میں قرآنِ پاک کی چار شانیں بیان کی گئی ہیں :

(1)…قرآنِ پاک مکمل ہے اس کا کوئی پہلو ناتمام نہیں۔

(2)…قرآنِ پاک میں بتائی گئی تمام باتیں حق اور سچائی پر مَبنی ہیں۔

(3)…جو شرعی احکام قرآنِ پاک میں ہیں وہ ہر اعتبار سے عدل وانصاف پر مشتمل ہیں۔

(4)…قرآنِ پاک ہمیشہ کیلئے ہر طرح کی تبدیلی اور تحریف سے محفوظ ہے۔

 



Total Pages: 191

Go To