Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

{ شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ:انسانوں اور جنوں کے شیطان۔} اس کی تفسیر میں علما ء کے دو قول ہیں (1) جنوں میںبھی شیطان ہوتے ہیں اور انسانوں میں بھی کیونکہ شیطان ہر سرکش و نافرمان کو کہتے ہیں چاہے وہ انسان ہو یا جن۔ (2) جنوں اور انسانوں کے شیطان سے مراد ابلیس کی اولاد ہے۔ ابلیس نے اپنی اولاد کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ایک گروہ انسانوں کو وسوسہ ڈالتا ہے اور ایک گروہ جنوں کو وسوسہ ڈالتا ہے۔ (خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۱۲، ۲ / ۴۸) خفیہ بات سے مراد وسوسے اور فریب کی باتیں ہیں۔

مسلمانوں کو چاہئے کہ انسانی شیطانوں سے بچیں:

            اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ جو گمراہ کن شخص کسی کو شریعت کے خلاف کام کی ترغیب دے وہ انسانی شیطان ہے اگرچہ وہ اپنے عزیزوں میں سے ہو یا عالم کے لباس میں ہو، نیز اس میں وہ تمام لوگ داخل ہیں جو آزاد خیالی یا روشن خیالی کے نام پر شرعی کاموں کے خلاف پلاننگ کرتے اور منصوبے بناتے اور اس کیلئے تنظیمیں بناتے ہیں۔ سب مسلمانوں پر لاز م ہے کہ وہ ایسے انسانی شیطانوں سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں۔ یہاں ایک نہایت اہم چیز کے بارے میں عرض کرنی ہے کہ ہمارے دور میں یہ وبا عام ہوتی جارہی ہے کہ بھائی ہر ایک کی سنو اور تحقیق کرو خواہ کہنے والا قرآن کے خلاف کہے یا حدیث کے یا اسلام کے۔ گویا معاذاللہ، تحقیق، مطالعہ کے نام پر ہر گمراہی سننے ، پڑھنے کی ترغیب دی جا رہی ہے اور اس چیز کو باہمی رواداری، ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش، ایک دوسرے کے نکتہ نظر پر مطلع ہونا، اپنے اپنے خیالات دوسروں سے شیئر کرنا وغیرہ وغیرہ کے بڑے دلچسپ نام دئیے جاتے ہیں لیکن کیا قرآن، حدیث، دین، ایمان، اسلام میں بھی اس چیز کی گنجائش ہے یا نہیں ، اس کی طرف کوئی نہیں دیکھتا۔ لہٰذا یہاں پر ہم قرآن و حدیث کی روشنی میں ایسی باطل تحقیق و مطالعہ کا حکمِ شرعی بیان کرتے ہیں اور ہمیں اُن جاہلوں کی کوئی پرواہ نہیں جو قرآن و حدیث کے ان احکام کو اپنی جہالت و کوتاہ نظر سے تنگ نظری اور نجانے کیا کیا نام دیں گے۔ چنانچہ کفار و اسلام دشمن لوگوں کے لیکچرز سننے کے حوالے سے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے سوال ہوا تو آپ نے بڑے احسن انداز میں جواب ارشاد فرمایا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ’’ آج کل ہمارے عوام بھائیوں کی سخت جہالت یہ ہے کہ کسی آریہ نے اشتہار دیا کہ اسلام کے فلاں مضمون کے رَد میں فلاں وقت لیکچر دیا جائے گا، یہ سننے کیلئے دوڑ ے جاتے ہیں۔ کسی پادری نے اعلان کیا کہ نصرانیت کے فلاں مضمون کے ثبوت میں فلاں وقت ندا ہوگی، یہ سننے کیلئے دوڑے جاتے ہیں۔ بھائیو! تم اپنے نفع نقصان کو زیادہ جانتے ہو یا تمہارا رب عَزَّوَجَلَّ اور تمہارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، اُن کا حکم تو یہ ہے کہ شیطان تمہارے پاس وسوسہ ڈالنے آئے تو سیدھا جواب یہ دے دو کہ تو جھوٹا ہے نہ یہ کہ تم آپ دوڑ دوڑ کے اُن کے پاس جاؤ اور اپنے رب عَزَّوَجَلَّ، اپنے قرآن اور اپنے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی شان میں ملعون کلمات سنو۔ تم قرآنِ مجید کی اسی آیت کا آخری حصہ اور ا س کے مُتَّصل کی آیاتِ کریمہ تلاوت کرتے جاؤ اور دیکھو کہ قرآنِ عظیم تمہاری اس حرکت کی کیسی کیسی شناعتیں بتاتا اور اُن ناپاک لکچروں نداؤں کی نسبت تمہیں کیا کیا ہدایت فرماتا ہے، چنانچہ اس آیت کے آخر میں ارشاد ہوتا ہے:

’’ وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ‘‘(الانعام:۱۱۲)

اور تیرا رب چاہتا تو وہ یہ دھوکے بناوٹ کی باتیں نہ بناتے پھرتے تو تو انہیں اور اُن کے بہتانوں کو یک لخت چھوڑ دے۔

            دیکھو! اس آیت میں اللہ تعالٰی نے اُنہیں اور اُن کی باتوں کو چھوڑنے کا حکم فرمایا یا اُن کے پاس سننے کے لئے دوڑنے کا۔ اور سنئے، اس کے بعد کی آیت میں فرماتا ہے:

’’ وَ لِتَصْغٰۤى اِلَیْهِ اَفْـٕدَةُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ لِیَرْضَوْهُ وَ لِیَقْتَرِفُوْا مَا هُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ ‘‘(الانعام:۱۱۳)

اور اس لئے کہ ایسے لوگوں کے دل اس کی طرف کان لگائیں جنہیں آخرت پر ایمان نہیں اور اُسے پسند کریں اور جو کچھ ناپاکیاں وہ کر رہے ہیں یہ بھی کرنے لگیں۔

            دیکھو اُن (کفار و نافرمان لوگوں ) کی باتوں کی طرف کان لگانا اُن (لوگوں ) کا کام بتایا جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور اس کا نتیجہ یہ فرمایا کہ وہ ملعون باتیں ان پر اثر کر جائیں اور یہ بھی اُن جیسے ہوجائیں۔ لوگ اپنی جہالت سے گمان کرتے ہیں کہ ہم اپنے دل سے مسلمان ہیں ہم پر اُن کا کیا اثر ہوگا حالانکہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں ’’جو دجال کی خبر سنے اُس پر واجب ہے کہ اُس سے دور بھاگے کہ خدا کی قسم آدمی اس کے پاس جائے گا اور یہ خیال کرے گا کہ میں تومسلمان ہوں یعنی مجھے اس سے کیا نقصان پہنچے گا وہاں اس کے دھوکوں میں پڑکر اس کا پیرو ہو جائے گا۔ (ابو داؤد، اول کتاب الملاحم، باب ذکر خروج الدجال، ۴ / ۱۵۷، الحدیث: ۴۳۱۹)

            کیا دجال ایک اُسی اخبث دجال کو سمجھتے ہو جو آنے والا ہے، ایسا ہر گز نہیں ہے بلکہ تمام گمراہوں کے داعی منادی سب دجال ہیں اور سب سے دُور بھاگنے ہی کا حکم فرمایا اور اُس میں یہی اندیشہ بتایا ہے۔ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں ’’آخر زمانے میں دجال کذاب لوگ ہوں گے کہ وہ باتیں تمہارے پاس لائیں گے جو نہ تم نے سنیں نہ تمہارے باپ دادا نے، توان سے دور رہو اور انہیں اپنے سے دور رکھو کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں کہیں تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں۔(مسلم، باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء۔۔۔ الخ، ص۹، الحدیث: ۷(۷))

اور سنئے، اس کے بعد کی آیات میں فرماتا ہے:

’’ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِیْ حَكَمًا وَّ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ اِلَیْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًاؕ-وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ(۱۱۴)وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّ عَدْلًاؕ- لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖۚ-وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(۱۱۵)وَ اِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ-اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ(۱۱۶)اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ مَنْ یَّضِلُّ عَنْ سَبِیْلِهٖۚ-وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ(۱۱۷) ‘‘ (الانعام:۱۱۴-۱۱۷)

تو کیا اللہ کے سوا کوئی اور فیصلہ کرنے والا ڈھونڈوں حالانکہ اُس نے مفصل کتاب تمہاری طرف اُتاری اور اہلِ کتاب خوب جانتے ہیں کہ وہ تیرے رب کے پاس سے حق کے ساتھ اُتری تو خبردار تو شک نہ کرنا اور تیرے رب کی بات سچ اور انصاف میں کامل ہے کوئی اُس کی باتوں کا بدلنے والا نہیں اور وہ شنوا و دانا ہے اور زمین والوں میں زیادہ وہ ہیں کہ تو ان کی پیروی کرے تو وہ تجھے خدا کی راہ سے بہکا دیں وہ تو گمان کے پیرو ہیں اور نری اٹکلیں دوڑاتے ہیں بیشک تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بہکے گا اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت پانے والوں کو۔‘‘

            یہ تمام آیاتِ کریمہ انہیں مطالب کے سلسلہ بیان میں ہیں گویا ارشاد ہوتا ہے تم جو اُن شیطان آدمیوں کی باتیں سننے جاؤ کیا تمہیں یہ تلاش ہے کہ دیکھیں اس مذہبی اختلاف میں یہ لکچرار یا یہ منادی کیا فیصلہ کرتا ہے، ارے خدا سے بہتر فیصلہ کس کا! اُس نے مفصل کتاب قرآنِ عظیم تمہیں عطا فرما دی اُس کے بعد تم کو کسی لکچر، ندا کی کیا حاجت ہے لکچر والے جو کسی دینی کتاب کا نام نہیں



Total Pages: 191

Go To