Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم پھیر دیتے ہیں ان کے دلوں اور آنکھوں کو جیسا وہ پہلی بار اس پرایمان نہ لائے تھے اور انہیں چھوڑ دیتے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکا کریں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم ان کے دلوں اوران کی آنکھوں کوپھیردیں گے جیسا کہ یہ پہلی باراس پر ایمان نہ لائے تھے اور انہیں ان کی سرکشی میں بھٹکتے ہوئے چھوڑ دیں گے۔

{ وَ نُقَلِّبُ: اور ہم پھیر دیں گے۔}ارشاد فرمایا کہ جس طرح پہلے ان لوگوں کے سامنے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے دستِ اقدس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نشانیاں ظاہر ہوئی تھیں جیسے چاند کا دو ٹکڑے ہوجانا اور اسی طرح کے دیگر عظیم معجزات لیکن یہ ان پر ایمان نہیں لائے تھے اسی طرح یہ اب بھی ایمان نہیں لائیں گے اور ان کے ایمان لانے کے سب وعدے جھوٹے ہیں۔

 

 

خبیث نفس کا حال

علامہ علی بن محمد خازن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: ’’ نفس جب خبیث ہوتا ہے تو اسے حق قبول کرنے سے بہت دوری ہوجاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر سننے سے اس کی سختی اور دل کا غبار بڑھتا ہے اور جیسے سورج کی گرمی سے موم نرم ہوتا ہے اور نمک سخت ہو تا ہے ایسے ہی اللہ تعالیٰ کے ذکر سے مومنین کے دل نرم ہوتے ہیں اور کافروں کے دِلوں کی سختی اور بڑھتی ہے۔‘‘(خازن ،الزمر،تحت الآیۃ:۲۲،۴ / ۵۳)

 

 

 

زیادہ گفتگو کرنے کا نقصان

حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھُمَا سے روایت ہے، حضور پُر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا:’’اللہ تعالیٰ کے ذکر کے سوا زیادہ گفتگو نہ کیا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے علاو زیادہ گفتگو دل کی سختی ہے، اور لوگوں میں اللہ تعالیٰ سے زیادہ دوروہ ہوتا ہے جس کا دل سخت ہو۔‘‘ (ترمذی، کتاب الزھد،۶۲۔باب منہ،۴ / ۱۸۴،الحدیث: ۲۴۱۹)


 

 



Total Pages: 191

Go To