Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

سے ثابت ہوا کہ دیدارِ الہٰی ممکن ہے۔

دیدارِ الہٰی کے احادیث سے 3دلائل:

             احادیث بھی اس بارے میں بکثرت ہیں ، ان میں سے 3 احادیث درج ذیل ہیں :

(1)… مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ جنتیوں کے جنت میں داخل ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’’کیا تم چاہتے ہو کہ تم پر اور زیادہ عنایت کروں ؟ وہ عرض کریں گے: یارب! عَزَّوَجَلَّ کیا تو نے ہمارے چہرے سفید نہیں کئے؟ کیا تو نے ہمیں جنت میں داخل نہیں فرمایا ؟ کیا تو نے ہمیں دوزخ سے نجات نہیں دی ؟ رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’ پھرپردہ اٹھا دیا جائے گا تو دیدارِ الہٰی انہیں ہر نعمت سے زیادہ پیارا ہوگا۔ (مسلم، کتاب الایمان، باب اثبات رؤیۃ المؤمنین فی الآخرۃ ربہم سبحانہ وتعالی، ص۱۱۰، الحدیث: ۲۹۷(۱۸۱))

(2)…حضرت جریر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’ہم سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر تھے کہ رات کے وقت آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے چاند کی طرف دیکھ کر فرمایا: ’’عنقریب تم اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو دیکھو گے جیسے اس چاندکو دیکھتے ہو اور اسے دیکھنے میں کوئی دقت محسوس نہ کرو گے۔ (بخاری، کتاب مواقیت الصلاۃ، باب فضل صلاۃ العصر، ۱ / ۲۰۳، الحدیث: ۵۵۴)

(3)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمنے عرض کی: یا رسول اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو دیکھیں گے؟ ارشاد فرمایا: کیا دوپہر کے وقت جب بادل نہ ہوں تو سورج کو دیکھنے میں تمہیں کوئی تکلیف ہوتی ہے؟ عرض کی: نہیں۔ ارشاد فرمایا: چودھویں رات کو جب بادل نہ ہوں تو کیا تمہیں چاند دیکھنے سے کوئی تکلیف ہوتی ہے؟ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمنے عرض کی: نہیں ، ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، تمہیں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو دیکھنے میں صرف اتنی تکلیف ہو گی جتنی تکلیف تم کو سورج یا چاند دیکھنے سے ہوتی ہے۔(مسلم، کتاب الزہد والرقائق، ص۱۵۸۷، الحدیث: ۱۶(۲۹۶۸))

             ان دلائل سے ثابت ہوگیا کہ آخرت میں مؤمنین کے لئے دیدارِ الہٰی شرع میں ثابت ہے اور اس کا انکار گمراہی۔ گمراہ لوگ اِس آیت کے ذریعے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دیدار کا انکار کرتے ہیں ، ہم یہاں آیت کا مفہوم بیان کرتے ہیں اس سے سارا معاملہ واضح ہوجائے گا۔آیت کے مفہوم کو کافی آسان کیا ہے لیکن پھر بھی اسے مکمل طور پر علماء ہی سمجھ سکتے ہیں لہٰذا عوام کی خدمت میں یہی عرض ہے کہ اوپر تک جو بیان ہوا وہی ان کیلئے کافی ہے اور نیچے کی بحث پر زیادہ دماغ نہ لڑائیں اور اگر ضرور ہی سمجھنا ہے تو کسی صحیح العقیدہ ، ماہرسنی عالم سے سمجھیں۔

 آیت’’ لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ‘‘ کا مفہوم:

            اِدراک کے معنیٰ ہیں کہ دیکھی جانے والی چیز کی تمام طرفوں اور حدوں پر واقف ہونا کہ یہ چیز فلاں جگہ سے شروع ہو کر فلاں جگہ ختم ہوگئی جیسے انسان کو ہم کہیں کہ سر سے شروع ہوکر پاؤں پر ختم ہوگیا، اِسی کو اِحاطہ (گھیراؤ) کہتے ہیں۔ اِدراک کی یہی تفسیر حضرت سعید بن مُسیَّبْ اور حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے منقول ہے اور جمہور مفسرین اِدراک کی تفسیر اِحاطہ سے فرماتے ہیں اور اِحاطہ اسی چیز کا ہوسکتا ہے جس کی حدیں اور جہتیں ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے لئے حد اور جہت محال ہے تو اس کا ادراک واحاطہ بھی ناممکن ۔یہی اہلِ سنت کامذہب ہے۔ خارجی اور معتزلہ وغیرہ گمراہ فرقے اِدراک اور رُویت میں فرق نہیں کرتے، اس لئے وہ اس گمراہی میں مبتلا ہوگئے کہ انہوں نے دیدارِ الہٰی کو محالِ عقلی قرار دے دیا، حالانکہ اگر یہ کہا جائے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کو دیکھا نہیں جاسکتا تو اس سے یہ لازم آتا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کو جانا بھی نہیں جاسکتا اور جیسے کائنات میں موجود تمام چیزوں کے برخلاف کیفیت وجہت کے بغیر اللہ عَزَّوَجَلَّ کو جانا جاسکتا ہے ایسے ہی دیکھا بھی جاسکتا ہے کیونکہ اگر دوسری موجودات بغیر کیفیَّت و جہت کے دیکھی نہیں جاسکتیں تو جانی بھی نہیں جاسکتیں۔ اس کلام کی بنیاد یہ ہے کہ دیکھنے کے معنی یہ ہیں کہ بصر (دیکھنے کی قوت) کسی شے کو جیسی وہ ہو ویسا جانے تو جو شے جہت والی ہوگی، اس کا دیکھا جانا جہت میں ہوگا اور جس کے لئے جہت نہ ہوگی اس کا دیکھا جانا بغیر جہت کے ہوگا۔

قَدْ جَآءَكُمْ بَصَآىٕرُ مِنْ رَّبِّكُمْۚ-فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِهٖۚ-وَ مَنْ عَمِیَ فَعَلَیْهَاؕ-وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ(۱۰۴)

ترجمۂ کنزالایمان: تمہارے پاس آنکھیں کھولنے والی دلیلیں آئیں تمہارے رب کی طرف سے تو جس نے دیکھا تو اپنے بھلے کو اور جو اندھا ہوا تو اپنے برُے کو اور میں تم پر نگہبان نہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے آنکھیں کھولنے والی دلیلیں آگئیں تو جس نے (انہیں ) دیکھ لیا تو اپنے فائدے کے لئے ہی (کیا) اور جو (دیکھنے سے) اندھا رہا تویہ بھی اسی پر ہے اور میں تم پر نگہبان نہیں۔

{ قَدْ جَآءَكُمْ: بیشک تمہارے پاس آگئیں۔} یعنی اے حبیب !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ لوگوں سے فرما دیں کہ تمہارے پاس تمہارے رب عَزَّوَجَلَّکی طرف سے توحید ،نبوت، مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور حساب و جزاء سے متعلق دل کی آنکھیں کھول دینے والی دلیلیں آگئیں تو جس نے دل کی آنکھ سے حق کو دیکھا اور ا س پر ایمان لے آیا تو اس میں اس کا اپنا فائدہ ہے اور جو حق ظاہر ہونے کے باوجود اسے دیکھنے سے اندھا رہا اور ا س پر ایمان نہ لایا تو اس میں نقصان بھی اس کا اپنا ہے اور میں تم پر نگہبان نہیں کہ تمہارے اعمال اور افعال کی نگہبانی کرتا پھروں بلکہ میں تمہاری طرف تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کا رسول ہوں تاکہ اس کاپیغام تم تک پہنچا دوں جبکہ اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے ،اس سے تمہارے اعمال اور احوال میں سے کچھ بھی چھپا ہوا نہیں ہے اور وہی تمہیں تمہارے اعمال کی جزاء دے گا۔(روح البیان، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۰۴، ۳ / ۸۱، خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۰۴، ۲ / ۴۴، ملتقطاً)

وَ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ وَ لِیَقُوْلُوْا دَرَسْتَ وَ لِنُبَیِّنَهٗ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ(۱۰۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم اسی طرح آیتیں طرح طرح سے بیان کرتے ہیں اور اس لیے کہ کافر بول اٹھیں کہ تم تو پڑھے ہو اور اس لیے کہ اسے علم والوں پر واضح کردیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم اسی طرح بار بارآیتیں بیان کرتے ہیں اور اس لیے تا کہ کافر بول اٹھیں کہ تم نے پڑھ لیا ہے اور اس لیے تاکہ ہم اسے علم والوں کے لئے واضح کردیں۔

{ وَ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ:اور ہم اسی طرح بار بار آیتیں بیان کرتے ہیں۔} آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ہم بار بار اپنی آیتیں بیان کرتے ہیں تاکہ لوگ عبرت حاصل کریں نیزان پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حجت قائم ہوجائے لیکن کافروں کی حالت یہ ہے کہ وہ اس سے عبرت حاصل نہیں کرتے بلکہ اِن آیات کے نازل ہونے کا نتیجہ کافروں کے حق میں یہ نکلتا ہے کہ وہ بول اٹھتے کہ اے محمد ! صَلَّی اللہُ



Total Pages: 191

Go To