Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

{ وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً: اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی اُتارا۔} سُبْحَانَ اللہ، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنی قدرت کی کیسی عظیم دلیل بیان فرمائی کہ دیکھو پانی ایک ہے اور جس زمین سے سب کچھ اگ رہا ہے وہ ایک ہے لیکن اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس سے جو چیزیں اگائیں وہ قسم قسم اور رنگارنگ کی ہیں توجو ربِ عظیم عَزَّوَجَلَّ ایک پانی سے اتنی قسم کی سبزیاں پیدا فرمانے پر قادر ہے تو وہ ایک صور کی پھونک سے سارے عالم کو مارنے اور زندہ کرنے پر بھی قادر ہے لہٰذا قیامت بر حق ہے۔

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ الْجِنَّ وَ خَلَقَهُمْ وَ خَرَقُوْا لَهٗ بَنِیْنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیْرِ عِلْمٍؕ-سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَصِفُوْنَ۠(۱۰۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اللہ کا شریک ٹھہرایا جنوں کو حالانکہ اسی نے ان کو بنایا اور اس کے لیے بیٹے اور بیٹیاں گڑھ لیں جہالت سے پاکی اور برتری ہے اس کو ان کی باتوں سے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور لوگوں نے جنوں کواللہ کا شریک بنا لیا حالانکہ اللہ نے توان جنوں کو پیدا کیا ہے اور لوگوں نے اللہ کے لئے جہالت سے بیٹے اور بیٹیاں گڑھ لیں حالانکہ اللہ ان کی بیان کی ہوئی چیزوں سے پاک اور بلند ہے۔

{ وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ الْجِنَّ: اور لوگوں نے جنوں کواللہ کا شریک گڑھ لیا۔} ارشاد فرمایا کہ سابقہ آیات میں بیان کردہ دلائلِ قدرت اور عجائبِ حکمت اور اِس انعام و اکرام اور اِن نعمتوں کے پیدا کرنے اور عطا فرمانے کاتقاضا یہ تھا کہ اس کریم کار ساز پر ایمان لاتے لیکن اِس کی بجائے بُت پرستوں نے یہ ستم کیا کہ جنوں کو خدا عَزَّوَجَلَّکا شریک قرار دیا کہ ان کی اطاعت کرکے بُت پرست ہوگئے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ  کیلئے معاذاللہ بیٹے اور بیٹیاں گھڑلیں حالانکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کی بیان کی ہوئی چیزوں سے پاک اور بلند ہے اور یہ چیزیں اس کی شان کے لائق ہی نہیں۔

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-اَنّٰى یَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌؕ-وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍۚ-وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ(۱۰۱)ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْۚ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوْهُۚ-وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ(۱۰۲)

ترجمۂ کنزالایمان: بے کسی نمو نے کے آسمانوں اور زمین کا بنانے والا اس کے بچہ کہاں سے ہو حالانکہ اس کی عورت نہیں اور اس نے ہر چیز پیدا کی اور وہ سب کچھ جانتا ہے۔ یہ ہے اللہ تمہارا رب اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں ہر چیز کا بنانے والا تو اسے پوجو اور وہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ بغیر کسی نمو نے کے آسمانوں اور زمین کا بنانے والا ہے۔ اس کے لئے اولاد کیسے ہوسکتی ہے؟ حالانکہ اس کی بیوی (ہی) نہیں ہے اور اس نے ہر شے کو پیدا کیا ہے اور وہ ہرشے کو جاننے والا ہے۔یہ اللہ تمہارا رب ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، ہر شے کو پیدا فرمانے والا ہے تو تم اس کی عبادت کرو اور وہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔

{ بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:وہ بغیر کسی نمو نے کے آسمانوں اور زمین کا بنانے والا ہے۔} اِس آیت میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عظمت و شان اور اس کی پاکی کا بیان ہے چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی شان یہ ہے کہ وہ بغیر کسی نمو نے اور مثال کے آسمانوں اور زمین کا بنانے والا ہے۔ اس کی دوسری شان یہ ہے کہ وہ اولاد سے پاک ہے کیونکہ اس کی اولاد کیسے ہوسکتی ہے؟ حالانکہ اس کی بیوی ہی نہیں ہے اور عورت کے بغیر اولاد نہیں ہوتی اور زوجہ اس کی شان کے لائق نہیں کیونکہ کوئی شے اس کی مثل نہیں اور اولاد نہ ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ اس نے ہر شے کو پیدا کیا ہے تو جو کچھ ہے وہ سب اُس کی مخلوق ہے اور مخلوق اولاد نہیں ہوسکتی تو کسی مخلوق کو اولاد بتانا باطل ہے اور پھر اگلی آیت میں فرمایا کہ یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہارا رب ہے  جس کی صفات ذکر کی گئیں اور جس کی یہ صفات ہوں وہی مستحق عبادت ہے لہٰذا تم صرف اسی کی عبادت کرو۔

لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ٘-وَ هُوَ یُدْرِكُ الْاَبْصَارَۚ-وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ(۱۰۳)

ترجمۂ کنزالایمان: آنکھیں اسے احاطہ نہیں کرتیں اور سب آنکھیں اس کے احاطہ میں ہیں اور وہی ہے نہایت باطن پورا خبردار۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: آنکھیں اس کا احاطہ نہیں کرسکتیں اور وہ تمام آنکھوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور وہی ہر باریک چیز کو جاننے والا، بڑا خبردار ہے۔

{ لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ: آنکھیں اس کا احاطہ نہیں کرسکتیں۔} اِس آیت کا مفہوم سمجھنا نہایت ضروری ہے کیونکہ عقائد کے متعلق بہت سے مسائل کا دارومدار اِسی پر ہے۔

آخرت میں اللہ تعالٰی کے دیدار سے متعلق اہلسنّت کا عقیدہ :

            یاد رکھیں کہ اہلِ سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ مومنوں کو آخرت میں اللہ تعالیٰ کا دیدارہوگا۔اہلِ سنت کا یہ عقیدہ قرآن و حدیث، اجماعِ صحابہ اور اکابر بزرگانِ دین کے کثیردلائل سے ثابت ہے۔

دیدارِ الٰہی کے قرآنِ پاک سے تین دلائل:

(1)… ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’ وُجُوْهٌ یَّوْمَىٕذٍ نَّاضِرَةٌۙ(۲۲) اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ‘‘ (القیامہ:۲۳،۲۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:کچھ چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے، اپنے رب کو دیکھتے ہوں گے۔

(2)…اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:

’’ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌ ‘‘ (یونس :۲۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بھلائی والوں کے لئے بھلائی ہے اور اس سے بھی زائد۔

            صحاحِ ستہ کی بہت حدیثیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ اس آیت میں زیادت سے دیدارِ الہٰی مراد ہے ۔

(3)… حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی’’رَبِّ اَرِنِیۡۤ اَنۡظُرْ اِلَیۡکَ‘‘ اے میرے رب مجھے اپنا دیدار دکھا کہ میں تجھے دیکھوں۔ اس پر انہیں جواب ملا ’’لَنْ تَرٰىنِیْ‘‘ تو مجھے ہر گز نہ دیکھ سکے گا ۔ (اعراف: ۱۴۳) اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ میرا دیدار ناممکن ہے کیونکہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام عارِف باللہ ہیں ، اگر دیدارِ الہٰی ممکن نہ ہوتا تو آپ ہر گز سوال نہ فرماتے، اس



Total Pages: 191

Go To