Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَۚ-فَاِنْ یَّكْفُرْ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدْ وَ كَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِهَا بِكٰفِرِیْنَ(۸۹)

ترجمۂ کنزالایمان: یہ ہیں جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تو اگر یہ لوگ اس سے منکر ہوں تو ہم نے اس کیلئے ایک ایسی قوم لگا رکھی ہے جو انکار والی نہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہی وہ ہستیاں ہیں جنہیں ہم نے کتاب اور حکمت اور نبوت عطا کی تو اگر کفار اِن چیزوں کا انکار کرتے ہیں تو ہم نے اس کیلئے ایسی قوم مقرر کررکھی ہے جو ان چیزوں کا انکار کرنے والی نہیں۔

{ اُولٰٓىٕكَ: یہی وہ ہستیاں ہیں۔} ارشاد فرمایا کہ جن انبیا ءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ذکر کیا گیا یہی وہ ہستیاں ہیں جنہیں ہم نے کتاب، حکمت اور نبوت عطا کی ہے تو اگر یہ کفارِ مکہ کتاب، حکمت اور نبوت کا انکار کرتے ہیں تو ہم نے ان تمام چیزوں کے حقوق ادا کرنے کیلئے ایسی قوم مقرر کررکھی ہے جو ان چیزوں کا انکار کرنے والی نہیں۔ اس قوم سے یا انصار مراد ہیں یا مہاجرین یا تمام صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم یاتاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر ایمان لانے والے وہ تمام مسلمان  جنہیں اللہ تعالیٰ خدمت ِدین کی توفیق بخشے جیسے مبلغین، علماء ،اولیاء سلاطین وغیرہا۔ اس آیت میں دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیٔ  کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نصرت فرمائے گا اور آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے دین کو قوت دے گا اور اس کو تمام اَدیان پر غالب کرے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا اور یہ غیبی خبر واقع ہو گئی۔(خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۸۹، ۲ / ۳۴)

اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْؕ-قُلْ لَّاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًاؕ-اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِیْنَ۠(۹۰)

ترجمۂ کنزالایمان: یہ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت کی تو تم انہیں کی راہ چلو تم فرماؤ میں قرآن پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا وہ تو نہیں مگر نصیحت سارے جہان کو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہی وہ (مقدس) ہستیاں ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت کی تو تم ان کی ہدایت کی پیروی کرو۔ تم فرماؤ: میں اس پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا ۔ یہ صرف سارے جہان والوں کے لئے نصیحت ہے۔

{ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ: تو تم ان کی ہدایت کی پیروی کرو۔}جلیلُ القدر انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تذکرے کے بعد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ آپ ان کی اِس ہدایت کی اقتدا کریں۔ علمائے دین نے اس آیت سے یہ مسئلہ ثابت کیا ہے کہسرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَتمام انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے افضل ہیں کیونکہ جو شرف و کمال اور خصوصیات و اوصاف جدا جدا انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو عطا فرمائے گئے تھے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے لئے سب کو جمع فرمادیا اور آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکو حکم دیا ’’ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ ‘‘ تو جب آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَتمام ا نبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے اوصافِ کمالیہ کے جامع ہیں تو بے شک سب سے افضل ہوئے ۔ (خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۹۰، ۲ / ۳۴)

{ ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِیْنَ: سارے جہان والوں کیلئے نصیحت۔}  اس آیت سے ثابت ہوا کہ ہمارے آقا و مولا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ تمام مخلوق کی طرف مبعوث ہیں اور آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی دعوت تمام مخلوق کو عام ہے اور کل جہان آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی اُمت ہے۔ (خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۹۰، ۲ / ۳۵)

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖۤ اِذْ قَالُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍؕ-قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِیْ جَآءَ بِهٖ مُوْسٰى نُوْرًا وَّ هُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَهَا وَ تُخْفُوْنَ كَثِیْرًاۚ-وَ عُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنْتُمْ وَ لَاۤ اٰبَآؤُكُمْؕ-قُلِ اللّٰهُۙ-ثُمَّ ذَرْهُمْ فِیْ خَوْضِهِمْ یَلْعَبُوْنَ(۹۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور یہود نے اللہ کی قدر نہ جانی جیسی چاہیے تھی جب بولے اللہ نے کسی آدمی پر کچھ نہیں اتارا  تم فرماؤ کس نے اُتاری وہ کتاب جو موسیٰ لائے تھے روشنی اور لوگوں کے لیے ہدایت جس کے تم نے الگ الگ کاغذ بنالیے ظاہر کرتے ہو اور بہت سا چھپالیتے ہو اور تمہیں وہ سکھایا جاتا ہے جو نہ تم کو معلوم تھا نہ تمہارے باپ دادا کو اللہ کہو پھر انہیں چھوڑ دو ان کی بیہودگی میں کھیلتا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور یہودیوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا اس کی قدر کرنے کا حق تھا جب انہوں نے کہا : اللہ نے کسی انسان پر کوئی چیز نہیں نازل کی۔ تم فرماؤ: وہ کتاب کس نے اتاری تھی جسے موسیٰ لے کر آئے تھے؟ نور اور لوگوں کے لیے ہدایت تھی، جس کے تم نے الگ الگ کاغذ بنالیے تھے، کچھ ظاہر کرتے ہواور بہت کچھ چھپالیتے ہواور تمہیں وہ سکھایا جاتا ہے جو نہ تم کو معلوم تھا اورنہ تمہارے باپ دادا کو۔ تم کہو: ’’اللہ ‘‘پھر انہیں ان کی بیہودگی میں کھیلتے ہوئے چھوڑ دو۔

{ وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ:اور یہودیوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا اس کی قدر کرنے کا حق تھا۔} اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت اپنے حِبْرُالاحْبار یعنی سب سے بڑے عالم مالک ابنِ صیف کو لے کرنبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے بحث کرنے آئی۔ تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے اس سے فرمایا، میں تجھے اُس پر وردگار کی قسم دیتا ہوں جس نے حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر توریت نازل فرمائی ،کیا توریت میں تو نے یہ دیکھا ہے؟ ’’ اِنَّ اللہَ یُبْغِضُ الْحِبْرَ السَّمِیْنَ‘‘ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّکو موٹا عالم ناپسند ہے۔ وہ کہنے لگا، ’’ہاں ، یہ توریت میں ہے‘‘۔ حضورِ اقدس  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے فرمایا:’’ تو موٹا عالم ہی تو ہے ۔اس پروہ غضبناک ہو کر کہنے لگاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے کسی آدمی پر کچھ نہیں اُتارا۔اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور اس میں فرمایا گیا : وہ کتاب کس نے اُتاری جو موسیٰ لائے تھے؟ تو وہ لاجواب ہوگیا اور یہودی اُس پر برہم ہوگئے اور اس کو جھڑکنے لگے اور اس کو اُس کے عہدے سے معزول کردیا۔ (تفسیر بغوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۹۱، ۲ / ۹۴، مدارک، الانعام، تحت الآیۃ: ۹۱، ص۳۳۱-۳۳۲، ملتقطاً)

            مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ خیال رہے کہ موٹے پادری سے مراد وہ پادری تھے جو حرام خوری کرکے خوب موٹے تازے ہو جاتے تھے۔اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ یہودیوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ویسی قدر نہ کی جیسا اس کی قدر کرنے کا حق تھا اور اس کی معرفت سے محروم رہے اور بندوں پر اللہ تعالیٰ کے رحم و کرم کو نہ جانا۔ انہوں نے کہا : اللہ عَزَّوَجَلَّ نے کسی انسان پر کوئی چیز نہیں نازل کی۔ اے حبیب !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، تم انہیں جواب دو کہ اگراللہ عَزَّوَجَلَّ نے کوئی کتاب نہیں اتاری تو وہ کتاب کس نے اتاری تھی جسے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاملے کر آئے تھے؟ جو سراپا نور اور لوگوں کے لیے ہدایت تھی اور جس کے تم نے الگ الگ کاغذ بنالیے تھے اور ان میں سے کچھ کو ظاہر کرتے ہو جس کا اظہار اپنی خواہش کے مطابق سمجھتے ہو جبکہ محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَاور ان کے دین کے بارے میں بہت کچھ چھپالیتے ہو اور اے یہودیو! تمہیں محمد مصطفٰی  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی تعلیم اور قرآنِ کریم کے ذریعے وہ کچھ سکھایا جاتا ہے جو نہ تم کو معلوم تھا اور نہ تمہارے باپ دادا کو۔ مزید فرمایا کہ پھر یہودی اگر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے سوال کا جواب نہ دے سکیں توتم خود جواب دے



Total Pages: 191

Go To