Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

ان کی نسل سے تھا۔ (بغوی، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۲۷، ۳ / ۳۹۹-۴۰۰، خازن، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۲۷، ۳ / ۴۴۹)

            تفسیرِ قرطبی میں ہے ’’لَمْ یَبْعَثِ اللہُ نَبِیًّا مِنْ بَعْدِ اِبْرَاہِیْمَ اِلَّا مِنْ صُلْبِہٖ‘‘ اللہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے بعد تمام انبیاء ان کے صلب سے مبعوث فرمائے۔ (قرطبی، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۲۷، ۷ / ۲۵۵، الجزء الثالث عشر)

             تفسیرِ جلالین میں ہے ’’فَکُلُّ الْانبیاءِ بَعَدَ اِبْرَاہِیْمَ مِنْ ذُرِّیَّتِہٖ ‘‘ پس حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد تمام انبیاء ان کی اولاد میں سے تھے۔ (جلالین مع صاوی، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۲۷، ۴ / ۱۵۶۱)

            یاد رہے کہ سورۂ حدید کی آیت نمبر 26میں جو مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دونوں کی اولاد میں نبوت رکھی، اس کی تفسیر میں ابو حیان محمد بن یوسف اندلسی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامچونکہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی اولاد میں سے ہیں ا س لئے شرفِ نبوت ان دونوں کی اولاد میں ہونا صادق آیا۔ (البحر المحیط، الحدید، تحت الآیۃ: ۲۶، ۸ / ۲۲۶)اس سے یہ بھی معلوم ہو اکہ قادیانی نبی ہر گز نہیں کیونکہ اگر قادیانی نبی ہوتا تو حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں ہوتا۔

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًاؕ-وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ(۸۶) وَ مِنْ اٰبَآىٕهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ اِخْوَانِهِمْۚ-وَ اجْتَبَیْنٰهُمْ وَ هَدَیْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اسمٰعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو اور ہم نے ہر ایک کو اس کے وقت میں سب پر فضیلت دی۔ اور کچھ ان کے باپ دادا اور اولاد اور بھائیوں میں سے بعض کو اور ہم نے انہیں چن لیا اور سیدھی راہ دکھائی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اسماعیل اور یَسَع اور یونس اور لوط کو (ہدایت دی)اور ہم نے سب کو تمام جہان والوں پر فضیلت عطا فرمائی۔  اور ان کے باپ دادا اور ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے (بھی) بعض کو (ہدایت دی) اور ہم نے انہیں چن لیا اور ہم نے انہیں سیدھے راستے کی طرف ہدایت دی۔

{ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ:اور اسماعیل اوریَسَع۔} اس آیت اور اس سے اوپر والی دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے اٹھارہ انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا ذکر فرمایا اور ان کے ذکر میں جو ترتیب آیت میں موجود ہے وہ نہ توزمانہ کے اعتبار سے ہے اور نہ فضیلت کے اعتبار سے لیکن جس شان سے انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اسماء ذکر فرمائے گئے اس میں ایک عجیب لطیفہ ہے وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی ہر ایک جماعت کو ایک خاص طرح کی کرامت و فضیلت کے ساتھ ممتاز فرمایا ،جیسے حضرت نوح، ابراہیم ، اسحق اور یعقوب عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا پہلے ذکر کیا کیونکہ یہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اصول ہیں یعنی ان کی اولاد میں بکثرت انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہوئے جن کے نسب انہیں کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ پھر نبوت کے بعد عظیم مقامات و مراتب میں سے ملک و اختیار اور سلطنت واقتدار ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور سلیمان عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اس کا بہت بڑا حصہ عطا فرمایا اور اس شعبے کا زیادہ تر تعلق مقامِ شکر سے ہے۔ پھر اس کے بعد حضرت ایوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا تذکرہ ہے کیونکہ مراتبِ رفیعہ (بلند مراتب) میں سے مصیبت و بلاء پر صابر رہنا بھی ہے اور اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اس مرتبے کے ساتھ ممتاز فرمایا پھر ملک ا ور صبر کے دونوں مرتبے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو عنایت کئے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے شدت و بلاء پر مدتوں صبر فرمایا، پھر اللہ تعالیٰ نے نبوت کے ساتھ ملک مصر عطا کیا۔ پھرحضرت موسیٰ اور حضرت ہارون عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا تذکرہ ہے کیونکہ معجزات کی کثرت اور دلائل و براہین کی قوت بھی مراتبِ معتبرہ میں سے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونعَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اس کے ساتھ مشرف کیا۔ پھرزہد اور ترک ِدنیا بھی مراتبِ معتبرہ میں سے ہے اور حضرت زکریا ،حضرت یحییٰ، حضرت عیسیٰ اور حضرت الیاس عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو اس کے ساتھ مخصوص فرمایا پھر ان حضرات کے بعداللہ تعالیٰ نے ان انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا ذکر فرمایا کہ جن کے نہ پیروکار باقی رہے اورنہ ان کی شریعت جیسے حضرت اسمٰعیل، حضرت یَسع، حضرت یونس اور حضرت لوط عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام۔ (خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۸۶، ۲ / ۳۳)

                اس شان سے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا ذکر فرمانے میں ان کی کرامتوں اور خصوصیتوں کی ایک عجیب باریکی نظر آتی ہے۔

{ وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَ:اور ہم نے سب کو تمام جہان والوں پر فضیلت عطا فرمائی۔} اِس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام فرشتوں سے افضل ہیں کیونکہ عالَم یعنی جہان میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا تمام موجودات داخل ہیں تو فرشتے بھی اس میں داخل ہیں اور جب تمام جہان والوں پر فضیلت دی تو فرشتوں پر بھی فضیلت ثابت ہوگئی۔ (خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۸۶، ۲ / ۳۳)

ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖؕ-وَ لَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزالایمان: یہ اللہ کی ہدایت ہے کہ اپنے بندوں میں جسے چاہے دے اور اگر وہ شرک کرتے تو ضرور ان کا کیا اکارت جاتا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ اللہ کی ہدایت ہے وہ اپنے بندوں میں جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور اگر وہ (بھی بالفرض) شرک کرتے تو ضرور ان کے تمام اعمال ضائع ہوجاتے۔

{ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ:یہ اللہ کی ہدایت ہے۔}یہاں ہدایت سے مراد ا س چیز کی معرفت ہے کہ اللہ تعالیٰ واحد ویکتا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور ا س معرفت کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اپنے دین ، اپنی طاعت اور لوگوں کی طرف سے ٹھہرائے گئے اللہ تعالیٰ کے شریکوں سے بیزاری کا اظہار کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔ (خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۸۸، ۲ / ۳۴)

{ وَ لَوْ اَشْرَكُوْا: اور اگر وہ(بھی بالفرض) شرک کرتے۔}اس آیت میں عوام و خواص سب لوگوں کو ڈرایا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے بے خوف نہ ہوں کیونکہ جب فضیلت اور بلند مقام رکھنے والے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام

 کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرما دیا ہے کہ اگر وہ (بھی بالفرض) شرک کرتے تو ضرور ان کے تمام اعمال ضائع ہوجاتے۔ تو ان کے مقابلے میں اور لوگوں کا حال کیا ہو گا ۔ (روح البیان، الانعام، تحت الآیۃ: ۸۸، ۳ / ۶۲)

 



Total Pages: 191

Go To