Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

کا اظہار کردیا اور اس کے بعد دینِ حق کا بیان فرمایا جو اگلی آیتوں میں آرہا ہے۔حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ستارے، چاند اور سورج کے بارے میں فرامین لوگوں کو سمجھانے کیلئے تھے اور معاذاللہ، اپنے بارے میں نہ تھے اس کی بہت واضح دلیل یہ بھی ہے کہ جب آپ عَلَیْہِ السَّلَام نےستارے، چاند اور سورج کے بارے یہ فرمایا تو کیا آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اس سے پہلے دن رات کے فرق کو اور سورج چاند کے غروب ہونے کو کبھی نہیں دیکھا تھا، ایسا تو ہرگز نہیں ہوسکتا ۔ تو معلوم ہوا کہ سورج چاند ستارے کے حوالے سے آپ کا کلام صرف قوم کو سمجھانے کیلئے تھا اور اس چیز کا اس سے بھی زیادہ صراحت کے ساتھ بیان خود نیچے آیت نمبر 83 میں موجود ہے۔

اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ(۷۹)

ترجمۂ کنزالایمان: میں نے اپنا منہ اس کی طرف کیا جس نے آسمان و زمین بنائے ایک اسی کا ہوکر اور میں مشرکوں میں نہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: میں نے ہر باطل سے جدا ہو کر اپنا منہ اس کی طرف کیا جس نے آسمان اور زمین بنائے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔

{ اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ :  میں نے اپنا منہ اس کی طرف کیا۔} حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے جھوٹے معبودوں سے بیزاری ظاہر کرنے کے بعد اپنا عقیدہ اور دینِ حق کا اعلان فرما دیا چنانچہ فرمایا کہ’’ میں نے ہر باطل سے جدا ہو کر اپنا منہ اس اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ کی طرف کیا جس نے آسمان اور زمین بنائے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ یعنی اسلام کے سوا باقی تمام ادیان سے جدا رہ کرمیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سامنے جھکنے والا ہوں۔

حنیف کے معنی:

            اس آیت میں حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے خود کو حنیف فرمایا۔ حنیف کے معنی ہیں ’’ تمام جھوٹے دینوں سے صاف اور ہرباطل سے جدا۔ ‘‘

دینِ حق کے اِستحکام کی صورت:

             اس سے معلوم ہوا کہ دینِ حق کا قیام واستحکام جب ہی ہوسکتا ہے جب کہ تمام باطل دینوں سے بیزاری اور دینِ حق پر پختگی ہو۔ دین کے معاملے میں پلپلے پن کا مظاہرہ کرنے ، سب کو اپنی اپنی جگہ درست ماننے اور سب مذاہب میں اتفاق اور اتحاد پیدا کرنے کی کوششیں کرنے سے دینِ حق کا استحکام ممکن نہیں۔

 نماز سے پہلے پڑھا جانے والاوظیفہ:

            حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نماز شروع کرنے سے پہلے ایک وظیفہ پڑھا کرتے تھے ، اس کے بارے میں حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں : تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَجب نماز شروع کرنے کے لئے کھڑے ہوتے تو یہ پڑھا کرتے تھے  ’’وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفًا  وَمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ  لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ‘‘ میں نے ہر باطل سے جدا ہو کر اپنا منہ اس کی طرف کیا جس نے آسمان اور زمین بنائے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ بیشک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کامجھے حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمان ہوں۔(مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا، باب الدعاء فی صلاۃ اللیل وقیامہ، ص۳۹۰، الحدیث: ۲۰۱(۷۷۱))

وَ حَآجَّهٗ قَوْمُهٗؕ-قَالَ اَتُحَآجُّوْٓنِّیْ فِی اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنِؕ-وَ لَاۤ اَخَافُ مَا تُشْرِكُوْنَ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ رَبِّیْ شَیْــٴًـاؕ-وَسِعَ رَبِّیْ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًاؕ-اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ(۸۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ان کی قوم ان سے جھگڑنے لگی کہا کیا اللہ کے بارے میں مجھ سے جھگڑتے ہو وہ تو مجھے راہ بتا چکا اور مجھے ان کا ڈر نہیں جنہیں تم شریک بتاتے ہو ہاں جو میرا ہی رب کوئی بات چاہے میرے رب کا علم ہر چیز کو محیط ہے تو کیا تم نصیحت نہیں مانتے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ان کی قوم ان سے جھگڑنے لگی( ابراہیم نے) فرمایا: کیاتم اللہ کے بارے میں مجھ سے جھگڑتے ہو حالانکہ وہ تو مجھے ہدایت عطا فرما چکا اور مجھے ان کا (کوئی) ڈر نہیں جنہیں تم شریک بتاتے ہو البتہ یہ کہ میرا رب کوئی بات چاہے۔میرے رب کا علم ہر چیز کو محیط ہے تو کیا تم نصیحت نہیں مانتے ؟

{ وَ حَآجَّهٗ قَوْمُهٗ :اور ان کی قوم ان سے جھگڑنے لگی۔} جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اعلانِ حق فرمایا، جھوٹے معبودوں کا رد کیااور توحید ِ باری تعالیٰ کو بیان فرمانا شروع کیا تو قوم آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے جھگڑنے لگی اور کہنے لگی کہ’’ اے ابراہیم! بتوں سے ڈرو، اُنہیں برا کہنے سے خوف کھاؤ، کہیں آپ کو کچھ نقصان نہ پہنچ جائے۔ ان کے جواب میں حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا: کیا تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بارے میں مجھ سے جھگڑتے ہو؟ حالانکہ وہ تو مجھے اپنی توحید و معرفت کیہدایت عطا فرما چکا اور مجھے اُن بتوں کا کوئی ڈر نہیں جنہیں تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شریک بتاتے ہو ،کیونکہ وہ بت بے جان ہیں ، نہ نقصان دے سکتے ہیں اور نہ نفع پہنچاسکتے ہیں ،اُن سے کیا ڈرنا۔ مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا سوائے اس کے  کہ میرا رب عَزَّوَجَلَّ کوئی بات چاہے تو وہ ہوسکتی ہے، کیونکہ میرا رب عَزَّوَجَلَّ قادرِ مُطْلَق ہے نہ یہ کہ تمہارے بتوں کے چاہنے سے کچھ ہو۔(خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۸۰، ۲ / ۳۱-۳۲، مدارک، الانعام، تحت الآیۃ: ۸۰، ص۳۳۰، ملتقطاً)

            سُبْحَانَ اللہ، حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ایسے خطرناک موقعہ پر بھی ایمان نہ چھپایا بلکہ اپنے ایمان کا اعلان فرما دیا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ پیغمبرعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دل میں مخلوق کی ایسی ہیبت نہیں آسکتی جو انہیں فرائض کی ادائیگی سے روک دے۔

وَ كَیْفَ اَخَافُ مَاۤ اَشْرَكْتُمْ وَ لَا تَخَافُوْنَ اَنَّكُمْ اَشْرَكْتُمْ بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًاؕ-فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِۚ-اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۘ(۸۱)

 ترجمۂ کنزالایمان:اور میں تمہارے شریکوں سے کیونکر ڈروں اور تم نہیں ڈرتے کہ تم نے اللہ کا شریک اس کو ٹھہرایا جس کی تم پر اس نے کوئی سند نہ اتاری تو دونوں گروہوں میں امان کا زیادہ سزا وار کون ہے اگر تم جانتے ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور میں تمہارے شریکوں سے کیوں ڈروں ؟ اور تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم نے اللہ کا شریک اس کو ٹھہرایا جس کی کوئی دلیل اللہ نے تم پرنہیں اتاری تو دونوں گروہوں میں امان کا زیادہ حقدار کون ہے؟ اگر تم جانتے ہو۔

 



Total Pages: 191

Go To