Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

بھلادی حیران ہے اس کے رفیق اسے راہ کی طرف بلا رہے ہیں کہ ادھر آ تم فرماؤ کہ اللہ ہی کی ہدایت ہدایت ہے اور ہمیں حکم ہے کہ ہم اس کے لیے گردن رکھ دیں جو رب ہے سارے جہان کا۔اور یہ کہ نماز قائم رکھو اور اس سے ڈرو اور وہی ہے جس کی طرف تمہیں اٹھنا ہے۔ اور وہی ہے جس نے آسمان و زمین ٹھیک بنائے اور جس دن فنا ہوئی ہر چیز کو کہے گا ہو جا وہ فوراً ہوجائے گی ۔اس کی بات سچ ہی ہے اور اسی کی سلطنت ہے جس دن صور پھونکا جائے گا ہر چھپے اور ظاہر کا جاننے والا اور وہی ہے حکمت والا خبردار۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ، کیا ہم اللہ کے سوا اس کی عبادت کریں جونہ ہمیں نفع دے سکتا ہے اور نہ ہمیں نقصان پہنچا سکتا ہے ؟ اور کیااس کے بعد ہم الٹے پاؤں پھر جائیں جب کہ ہمیں اللہ نے ہدایت دی ہے اس شخص کی طرح (الٹے پاؤں پھر جائیں ) جسے شیطانوں نے زمین میں راستہ بھلا دیا ہو وہ حیران ہے، اُس کے ساتھی اسے راستے کی طرف بلا رہے ہیں کہ ادھر آؤ۔ تم فرماؤ کہ اللہ کی ہدایت ہی ہدایت ہے اور ہمیں حکم ہے کہ ہم اس کے لیے گردن رکھ دیں جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے۔ اور یہ کہ نماز قائم رکھو اور اس سے ڈرو اور وہی ہے جس کی طرف تمہیں اٹھایا جائے گا۔ اور وہی ہے جس نے حق کے ساتھ آسمان و زمین بنائے اور جس دن فنا کی ہوئی ہر چیز کو وہ فرمائے گا: ’’ہو جا‘‘ تو وہ فوراً ہوجائے گی۔ اس کی بات سچی ہے جس دن صور میں پھونکا جائے گا اس دن اسی کی سلطنت ہے (وہ) ہر چھپے اور ظاہر کو جاننے والا ہے اور وہی حکمت والا، خبردار ہے۔

{قُلْ: تم فرماؤ۔}اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے مصطفٰی کریم ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، جو اپنے باپ دادا کے دین کی دعوت دیتے ہیں اُن مشرکین سے فرماؤ کہ کیا ہم اللہ تعالیٰ کے سوا اس کی عبادت کریں جونہ ہمیں نفع دے سکتا ہے اور نہ ہمیں نقصان پہنچا سکتا ہے  اور اس میں کوئی قدرت نہیں اور کیااس کے بعد ہم الٹے پاؤں پھر جائیں جب کہ ہمیں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ہدایت دی ہے اور اسلام اور توحید کی نعمت عطا فرمائی ہے اور بت پرستی کے بدترین وبال سے بچایاہے۔

{ وَ نُرَدُّ عَلٰۤى اَعْقَابِنَا: اور کیا ہم الٹے پاؤں پھرجائیں۔}اس آیت میں حق اور باطل کی دعوت دینے والوں کی ایک تمثیل بیان فرمائی گئی کہ جس طرح مسافر اپنے رفیقوں کے ساتھ تھا، جنگل میں بھوتوں اور شیطانوں نے اس کو راستہ بہکا دیا اور کہا منزلِ مَقصُود کی یہی راہ ہے اور اس کے رفیق اس کو راہِ راست کی طرف بلانے لگے، وہ حیران رہ گیاکہ کدھر جائے ۔ اس کاانجام یہی ہوگا کہ اگر وہ بھوتوں کی راہ پر چل پڑا تو ہلاک ہوجائے گا اور رفیقوں کا کہا مانا تو سلامت رہے گا اور منزل پر پہنچ جائے گا ۔یہی حال اس شخص کا ہے جو طریقہ اسلام سے بہکا اور شیطان کی راہ چلا ،مسلمان اس کو راہِ راست کی طرف بلاتے ہیں اگر اُن کی بات مانے گا راہ پائے گا ورنہ ہلاک ہوجائے گا۔ (خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۷۱، ۲ / ۲۶-۲۷)

{ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى: اللہ کی ہدایت ہی ہدایت ہے۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، تم فرماؤ کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ہدایت ہی ہدایت ہے۔جو طریقہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے واضح فرمایا اور جو دینِ اسلام اُن کے لئے مقرر کیا وہی ہدایت و نور ہے اور جو اِس کے سوا ہے وہ دینِ باطل ہے اور ہمیں حکم ہے کہ ہم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لیے گردن رکھ دیں اور اسی کی اطاعت و فرمانبرداری کریں اور خاص اسی کی عبادت کریں۔

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِهَةًۚ-اِنِّیْۤ اَرٰىكَ وَ قَوْمَكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ(۷۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور یاد کرو جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا کیا تم بتوں کو خدا بناتے ہو بیشک میں تمہیں اور تمہاری قوم کو کھلی گمراہی میں پاتا ہوں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور یاد کرو جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے فرمایا، کیا تم بتوں کو (اپنا) معبود بناتے ہو۔ بیشک میں تمہیں اور تمہاری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھ رہا ہوں۔

 { وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ: اور یاد کرو جب ابراہیم نے اپنے باپ سے فرمایا۔} یہ آیت مشرکینِ عرب پر حجت ہے جو حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو قابلِ تعظیم جانتے تھے اور اُن کی فضیلت کے معترف تھے انہیں دکھایا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بت پرستی کو کتنا بڑا عیب اور گمراہی بتاتے ہیں اور اپنے چچا آزر سے فرما رہے ہیں کہ کیا تم بتوں کو اپنا معبود بناتے ہو؟ بیشک میں تمہیں اور تمہاری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھ رہا ہوں۔ تو جب حضرت ابراہیم  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بتوں سے اس قدر نفرت کرتے ہیں تو اے اہلِ مکہ! اگر تم ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کومانتے ہو تو تم بھی بت پرستی چھوڑ دو۔

آزر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا چچا تھا یا باپ:

            یہاں آیت میں آزر کیلئے ’’اَبْ‘‘ کا لفظ ذکر کیا گیا ہے۔ اس کا ایک معنی ہے ’’باپ‘‘ اور دوسرا معنی ہے ’’چچا‘‘  اور یہاں اس سے مراد چچا ہے، جیسا کہ قاموس میں ہے : آزر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے چچا کا نام ہے۔ (القاموس المحیط، باب الراء، فصل الہمزۃ، ۱ / ۴۹۱، تحت اللفظ: الازر)

            اور امام جلال الدین سیوطی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے ’’مَسَالِکُ الْحُنَفَاء ‘‘ میں بھی ایسا ہی لکھا ہے۔ نیزچچا کو باپ کہنا تمام ممالک میں معمول ہے بالخصوص عرب میں اور قرآن و حدیث میں بھی چچا کو باپ کہنے کی مثالیں موجود ہیں ، جیساکہ قرآنِ کریم میں ہے

’’ نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَ اِلٰهَ اٰبَآىٕكَ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا‘‘(بقرہ:۱۳۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:ہم آپ کے معبود اور آپ کے آباؤ و اجداد ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق کے معبود کی عبادت کریں گے جو ایک معبود ہے۔

            اس میں حضرت اسمٰعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے آباء میں ذکر کیا گیا ہے حالانکہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے چچا ہیں۔ اور حدیث شریف میں ہے، نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ رُدُّوْاعَلَیَّ اَبِیْ‘‘ میرے باپ کو میرے پاس لوٹا دو۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب المغازی، حدیث فتح مکۃ، ۸ / ۵۳۰، الحدیث:۳) یہاں ’’اَبِی ْ‘‘ سے حضرت عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مراد ہیں جو کہ حضورِا قدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے چچا ہیں۔

وَ كَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لِیَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ(۷۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اسی طرح ہم ابراہیم کو دکھاتے ہیں ساری بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور اس لیے کہ وہ عینُ الیقین والوں میں ہوجائے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی عظیم سلطنت دکھاتے ہیں اور اس لیے کہ وہ عینُ الیقین والوں میں سے ہوجائے۔

 



Total Pages: 191

Go To