Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

تھے ۔ ایک مرتبہ آپ  رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  اُن کے یہاں تشریف فرما تھے کہ ان کے محلے کا ایک بے چارہ غریب مسلمان ٹوٹی ہوئی پرانی چارپائی پر جو صحن کے کنارے پڑی تھی جھجکتے ہوئے بیٹھا ہی تھا کہ صاحبِ خانہ نے نہایت کڑوے تیوروں سے ا س کی طرف دیکھنا شروع کیا یہاں تک کہ وہ ندامت سے سر جھکائے اٹھ کر چلا گیا۔ اعلیٰ حضرت  رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو صاحبِ خانہ کی اس مغرورانہ روش سے سخت تکلیف پہنچی مگر کچھ فرمایا نہیں ، کچھ دنوں بعد وہ صاحب اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے یہاں آئے تو آپ نے اسے اپنی چارپائی پر جگہ دی۔ وہ بیٹھے ہی تھے کہ اتنے میں کریم بخش حجام اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا خط بنانے کے لئے آئے، وہ اس فکر میں تھے کہ کہاں بیٹھوں ؟ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا: بھائی کریم بخش! کیوں کھڑے ہو؟ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور ان صاحب کے قریب بیٹھنے کا اشارہ فرمایا۔ کریم بخش حجام ان کے ساتھ بیٹھ گئے ۔ اب ان صاحب کے غصہ کی یہ کیفیت تھی کہ جیسے سانپ پھنکاریں مارتا ہو اور فوراً اٹھ کر چلے گئے پھر کبھی نہ آئے۔ (حیاتِ اعلیٰ حضرت، ۱ / ۱۰۸ملخصًا)

                        اپنی عادتوں پر غور کرکے ایک مرتبہ پھر اس آیت کا ترجمہ دیکھ لیں ، فرمایا: اور یونہی ہم نے ان میں بعض کی دوسروں کے ذریعے آزمائش کی تاکہ یہ (مالدار کافر غریب مسلمانوں کو دیکھ کر) کہیں : کیا یہ لوگ ہیں جن پرہمارے درمیان میں سے اللہ نے احسان کیا ؟کیا اللہ شکر گزاروں کو خوب نہیں جانتا؟

وَ اِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَۙ-اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْٓءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۵۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جب تمہارے حضور وہ حاضر ہوں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے فرماؤ تم پر سلام تمہارے رب نے اپنے ذمہ کرم پر رحمت لازم کرلی ہے کہ تم میں جو کوئی نادانی سے کچھ برائی کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرے اور سنور جائے تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب آپ کی بارگاہ میں وہ لوگ حاضر ہوں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے فرماؤ: ’’ تم پر سلام‘‘ تمہارے رب نے اپنے ذمہ کرم پر رحمت لازم کرلی ہے کہ تم میں سے جو کوئی نادانی سے کوئی برائی کر لے پھر اس کے بعد توبہ کرے اور اپنی اصلاح کرلے تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

{ وَ اِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا:اور جب آپ کی بارگاہ میں وہ لوگ حاضر ہوں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں۔} ارشاد فرمایا کہ اے پیارے حبیب !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، جب آپ کی بارگاہ میں وہ لوگ حاضر ہوں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو آپ ان کی عزت افزائی کرتے ہوئے ان کے ساتھ سلام کی ابتداء فرمائیں اور انہیں یہ بشارت دیں کہ تمہارے رب عَزَّوَجَلَّنے فضل و احسان کرتے ہوئے اپنے ذمہ کرم پر رحمت لازم کرلی ہے کہ تم میں سے جو کوئی نادانی سے کوئی برائی کر لے، پھر اس کے بعد توبہ کرے اور اپنی اصلاح کرلے تو بیشک اللہ تعالیٰ اس کے گناہ بخشنے والا اور اس پر مہربانی فرمانے والا ہے۔ (مدارک، الانعام، تحت الآیۃ: ۵۴، ص۳۲۳، روح البیان، الانعام، تحت الآیۃ: ۵۴، ۳ / ۳۸-۳۹، ملتقطاً)

نیک مسلمانوں کا احترام کرنا چاہئے:

        اس سے معلوم ہوا کہ نیک مسلمانوں کا احترام اور ان کی تعظیم کرنی چاہئے اور ہر ایسی بات سے بچنا چاہئے جو انکی ناراضی کا سبب بنے کیونکہ انہیں ناراض کرنا اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب ہے ، جیساکہ حضرت عائذ بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :حضرت سلمان، حضرت صہیب اور حضرت بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے سامنے حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ان کے مزاج کے خلاف کوئی بات کہہ دی پھر حضرت ابو بکر صدیق نے حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر آپ کو ا س کی خبر دی۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’اے ابو بکر! رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ، شاید تم نے انہیں ناراض کر دیا ،اگر تم نے انہیں ناراض کر دیا تو اپنے ربعَزَّوَجَلَّ کو ناراض کر دیا۔ پھر حضرت ابو بکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ان کے پاس گئے اور کہا: اے میرے بھائیو! میں نے تم کو ناراض کر دیا؟ انہوں نے کہا : نہیں اے بھائی ! اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے(مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ رضی اللہ تعالی عنہم، باب من فضائل سلمان وصہیب وبلال، ص۱۳۵۹، الحدیث: ۱۷۰ (۲۵۰۴))۔[1]

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۠(۵۵)

ترجمۂ کنزالایمان:اور اسی طرح ہم آیتوں کو مفصل بیان فرماتے ہیں اور اس لیے کہ مجرموں کا رستہ ظاہر ہوجائے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اسی طرح ہم آیتوں کو مفصل بیان فرماتے ہیں اور اس لیے کہ مجرموں کا راستہ واضح ہوجائے ۔

{ وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ:اور اسی طرح ہم آیتوں کو مفصل بیان فرماتے ہیں۔}یعنی اے حبیب !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، جس طرح ہم نے آپ کے سامنے ا س سورت میں اپنی وحدانیت کے دلائل تفصیل کے ساتھ بیان کئے ہیں ہم اسی طرح اپنی حجتوں اور دلائل کومفصل بیان فرماتے ہیں اور ہم قرآنِ مجید میں اطاعت گزاروں ،گناہ کے بعد توبہ کر لینے والوں کے اوصاف اور گناہ پر اڑے رہنے والوں کی صفات بیان کرتے ہیں تاکہ حق ظاہر ہو جائے اور اس پر عمل کیا جائے اور اس لئے یہ چیزیں بیان کرتے ہیں کہ مجرموں کاراستہ اور ان کا طریقہ واضح ہو جائے تاکہ ا س سے بچا جائے ۔( خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۵۵، ۲ / ۲۰، روح البیان، الانعام، تحت الآیۃ: ۵۵، ۳ / ۳۹، ملتقطاً)

اخروی کامیابی تک پہنچانے و الے راستے پر چلنے کی ترغیب:

            اس سے معلوم ہو اکہ آدمی کو چاہئے کہ وہ فلاح و کامیابی کے راستے پر چلے اور وہاں تک پہنچے جہاں نیک لوگ پہنچے اور اس کا سب سے بہترین راستہ فوری طور ر اپنے سابقہ گناہوں سے توبہ و استغفار کرنا اور آئندہ کے لئے نیک اعمال کرنا ہے۔امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’زندگی کی ہر گھڑی بلکہ ہر سانس ایک نفیس جوہر ہے جس کا کوئی بدل نہیں ،وہ اس بات کی صلاحیت رکھتا ہے کہ تجھے ابدی سعادت تک پہنچا دے اور دائمی بدبختی سے بچا لے ا س لئے ا س سے زیادہ نفیس جوہر اور کیا ہو سکتا ہے، اگر تم اسے غفلت میں ضائع کر دو گے توواضح نقصان اٹھاؤ گے اور اگر اسے گناہ میں صرف کرو گے تو واضح طور پر ہلاک ہو جاؤ گے۔ اب اگر تم ا س مصیبت پر نہیں روتے تو یہ تمہاری جہالت ہے اور جہالت کی مصیبت تمام مصیبتوں سے بڑ ھ کر ہے۔ (افسوس) لوگ



[1]    مسلمانوں کے احترام سے متعلق مفید معلومات حاصل کرنے کے لئے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کارسالہ’’احترام مسلم‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) مطالعہ فرمائیں۔



Total Pages: 191

Go To