Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

بعد عابد سے کہا جائے گا کہ تو جنت میں داخل ہو جا اور عالم کو حکم ہو گا کہ تم ابھی ٹھہرو اور لوگوں کی شفاعت کرو۔(شعب الایمان، السابع عشر من شعب الایمان ۔۔۔ الخ، فصل فی فضل العلم وشرف مقدارہ، ۲ / ۲۶۸، الحدیث: ۱۷۱۷)

(4)… حضرت ابو موسیٰ اَشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مرفوعاً روایت ہے کہ’’ حاجی کی شفاعت اس کے خاندان کے چار سو افراد کے حق میں قبول کی جائے گی۔(مسند البزار، مسند ابی موسی رضی اللہ عنہ، ۸ / ۱۶۹، الحدیث: ۳۱۹۶)

وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗؕ-مَا عَلَیْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ مَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَیْهِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ(۵۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور دور نہ کرو انہیں جو اپنے رب کو پکارتے ہیں صبح اور شام اس کی رضا چاہتے تم پر ان کے حساب سے کچھ نہیں اور ان پر تمہارے حساب سے کچھ نہیں پھر انہیں تم دور کرو تو یہ کام انصاف سے بعید ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اوران لوگوں کو دور نہ کرو جو صبح و شام اپنے رب کو اس کی رضا چاہتے ہوئے پکارتے ہیں۔آپ پر ان کے حساب سے کچھ نہیں اور ان پر تمہارے حساب سے کچھ نہیں۔ پھر آپ انہیں دور کریں تو یہ کام انصاف سے بعید ہے ۔

{ وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ : اور ان لوگوں کو دور نہ کرو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں۔} اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ کفار کی ایک جماعت نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خدمت میں آئی، اُنہوں نے دیکھا کہ تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکے اِردگرد غریب صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  کی ایک جماعت حاضر ہے جو ادنیٰ درجہ کے لباس پہنے ہوئے ہیں۔ یہ دیکھ کر وہ کہنے لگے کہ ہمیں ان لوگوں کے پاس بیٹھتے شرم آتی ہے، اگر آپ انہیں اپنی مجلس سے نکال دیں تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں اور آپ کی خدمت میں حاضر رہیں۔ حضورِ اقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے اس بات کو منظور نہ فرمایا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب مجالسۃ الفقراء، ۴ / ۴۳۵، الحدیث: ۴۱۲۷، تفسیر بغوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۵۲، ۲ / ۸۱) اور فرمایا گیا کہ اِن مخلص وغریب صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو اپنی بارگاہ سے دور نہ کرو جو صبح و شام اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو اس کی رضا چاہتے ہوئے پکارتے ہیں۔ ان غریب صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا رزق آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر نہیں کہ غربت کی وجہ سے انہیں دور کردیا جائے اور نہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی ذمہ داری ان پر ہے۔ سب کا حساب اللہ عَزَّوَجَلَّ پر ہے، وہی تمام خلق کو روزی دینے والا ہے اور اس کے سوا کسی کے ذمہ کسی کا حساب نہیں۔

            اس آیت کادوسرا معنیٰ یہ بیان کیا گیا ہے کہ کفار نے غریب صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم پر طعن مراد لیا تھا کہ یہ تو غربت کی وجہ سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکے پاس بیٹھے ہوئے ہیں کہ یہاں کچھ روزی روٹی کا انتظام ہوجاتا ہے ، یہ مخلص نہیں ہیں۔ اس پر پہلے تو صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے اِخلاص کا بیان فرمایا کہ یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا چاہتے ہوئے دن رات اس کی عبادت کرتے ہیں پھر فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَآپ پر ان کے احوال کی تفتیش لازم نہیں کہ یہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے ساتھ مخلص ہیں یا نہیں ؟ (تفسیر کبیر، الانعام، تحت الآیۃ: ۵۲، ۴ / ۵۴۲ ملتقطاً)بلکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ان کو اپنے فیضِ صحبت سے نوازتے رہیں اور خلاصہ کلام یہ ہے کہ وہ ضعیف فقراء جن کا اوپر ذکر ہوا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے دربار میں قرب پانے کے مستحق ہیں انہیں دور نہ کرنا ہی بجا ہے۔

وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ  لِّیَقُوْلُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنْۢ بَیْنِنَاؕ-اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِیْنَ(۵۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور یونہی ہم نے ان میں ایک کودوسرے کے لئے فتنہ بنایا کہ مالدار کافر محتاج مسلمانوں کو دیکھ کر کہیں کیا یہ ہیں جن پر اللہ نے احسان کیا ہم میں سے کیا اللہ خوب نہیں جانتا حق ماننے والوں کو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور یونہی ہم نے ان میں بعض کی دوسروں کے ذریعے آزمائش کی کہ یہ کہیں : کیا یہ لوگ ہیں جن پرہمارے درمیان میں سے اللہ نے احسان کیا ؟کیا اللہ شکر گزاروں کو خوب نہیں جانتا؟

{ وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ: اور یونہی ہم نے ان میں بعض کی دوسروں کے ذریعے آزمائش کی۔} پہلی آیت کے حوالے سے یہاں فرمایا گیا کہ غریبوں کے ذریعے امیروں کی آزمائش ہوتی رہتی ہے اور گزشتہ انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے صحابہ کے ساتھ بھی یہ ہوتا تھا کہ مالدار کافر غریب مسلمانوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے اور ان کا مذاق اُڑاتے  اور ہمیشہ سے کفار کا یہ دستور رہا ہے کہ مسلمانوں کے فقر کو دیکھ کر اسلام کی حقانیت کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر اسلام سچا اور کفر جھوٹا ہے تو مسلمان فقیر اور کفار مالدار کیوں ہیں ؟

غریبوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے نصیحت:

     اس سے معلوم ہوا کہ امیری و غریبی کو حق کا پیمانہ قرار نہیں دیا جاسکتا،نیز سابقہ آیت کے شانِ نزول اور اِس آیت کے درس سے بہت سے مذہبی لوگوں اور خود امیروں کو بھی درس حاصل کرنا چاہیے کیونکہ ہمارے زمانے میں بھی یہ رحجان موجود ہے کہ اگر امیر آتا ہے تو اس کی تعظیم کی جاتی ہے جبکہ غریب کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ غریب کی دل شکنی کی جاتی ہے اور امیر کے آگے بچھے بچھے جاتے ہیں اور خود امیروں کی یہ تمنا ہوتی ہے کہ ہمیں ذرا ہٹ کر ڈِیل کیا جائے اور ہمارے لئے اسپیشل وقت نکالا جائے اور ہمارے آنے پر مولوی آدمی ساری مصروفیت چھوڑ کر اس کے پیچھے پھرتا رہے۔ غریب آدمی پاس بیٹھ جائے تو امیر اپنے سٹیٹس کے خلاف سمجھتا ہے ، اُسے غریب کے کپڑوں سے بُو آتی ہے ، غریب کا پاس بیٹھنا اُس کی طبیعت خراب کردیتا ہے، غریب سے ہاتھ ملانا اُس امیر کے ہاتھ پر جراثیم چڑھا دیتا ہے۔ الغرض یہ سب باتیں غرور وتکبر کی ہیں ، ان سے بچنا لازم وضروری ہے۔

اعلٰی حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اور ایک مغرور امیر:

             ایک صاحب اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے اور اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِبھی کبھی کبھی ان کے یہاں تشریف لے جایا کرتے



Total Pages: 191

Go To