Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

اور نقصانوں سے بچنے کیلئے پہلے سے انتظام کرلیں۔کبھی کہتے ہمیں قیامت کا وقت بتادیں کہ کب آئے گی؟ کبھی کہتے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کیسے رسول ہیں جو کھاتے پیتے بھی ہیں اور نکاح بھی کرتے ہیں۔اُن کی اِن تمام باتوں کا اِس آیت میں جواب دیا گیا کہ تمہارا یہ کلام نہایت بے محل اور جاہلانہ ہے کیونکہ جو شخص کسی چیز کا دعویٰ کرتا ہو اُس سے وہی باتیں دریافت کی جاسکتی ہیں جو اُس کے دعوے سے تعلق رکھتی ہوں ، غیر متعلق باتوں کا دریافت کرنا اور اُن کو اُس کے دعوے کے خلاف دلیل وحجت بنانا انتہا درجے کی جہالت ہے۔ اس لئے ارشاد ہوا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ فرما دیجئے کہ میرا دعویٰ یہ تو نہیں کہ میرے پاس اللہ عَزَّوَجَلَّکے خزانے ہیں جو تم مجھ سے مال و ودلت کا سوال کرو اور اگرمیں تمہاری مرضی کے مطابق تمہارا دعویٰ پورا نہ کروں تو تم رسالت کے منکر ہوجاؤ اورنہ میرا دعویٰ ذاتی غیب دانی کا ہے کہ اگر میں تمہیں گزشۃ یا آئندہ کی خبریں نہ بتاؤں تو میری نبوت ماننے میں بہانہ کرسکو ۔ نیز نہ میں نے فرشتہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے کہ کھانا پینا اورنکاح کرنا قابلِ اعتراض ہو تو جن چیزوں کا دعویٰ ہی نہیں کیا، اُن کا سوال کرنا ہی بے موقع محل ہے اور ایسے سوال کو پورا کرنا بھی مجھ پر لازم نہیں۔ میرا دعویٰ تونبوت و رسالت کا ہے اور جب اس پر زبردست دلیلیں اور قوی بُرہانیں قائم ہوچکیں تو غیر متعلق باتیں پیش کرنا کیا معنی رکھتا ہے۔

نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے علمِ غیب کا انکار کرنے والوں کا رد:

             اس سے صاف واضح ہوگیا کہ اس آیتِ کریمہ کوتاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکے غیب پر مطلع کئے جانے کی نفی کے لئے سند بنانا ایسا ہی بے محل ہے جیسا کفار کا ان سوالات کو انکارِ نبوت کی دستاویز بنانا بے محل تھا ۔ مذکورہ بالاکلام کو پڑھنے کے بعد اب دوبارہ آیت کا ترجمہ پیش کیا جاتا ہے ، اسے پڑھیں اور غور کریں کہ کیا واقعی آیت میں یہی بیان نہیں کیا گیا ،فرمایا: (اے حبیب!) تم فرمادو :میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہکے خزانے ہیں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں خود غیب جان لیتا ہوں اور نہ تم سے یہ کہتاہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف اس وحی کا پیروکار ہوں جو میری طرف آتی ہے اور یہی نبی کا کام ہے لہٰذا میں تمہیں وہی دوں گا جس کی مجھے اجازت ہوگی اور وہی بتاؤں گا جس کی اجازت ہوگی اوروہی کروں گا جس کا مجھے حکم ملا ہو۔ اس آیت سے حضور پرنورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے علمِ عطائی کی نفی کسی طرح مراد ہی نہیں ہوسکتی کیونکہ اس صورت میں آیتوں میں تَعارُض کا قائل ہونا پڑے گا اور وہ بالکل باطل ہے۔(خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۵۰، ۲ / ۱۷، مدارک، الانعام، تحت الآیۃ: ۵۰، ص۳۲۲، جمل ، الانعام، تحت الآیۃ: ۵۰، ۲ / ۳۵۳، ملتقطاً)

             علامہ نظامُ الدین حسن بن محمد نیشا پوری رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اسی آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں ’’ ارشاد ہوا کہ’’ اے نبی! فرمادو کہ میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں ‘‘یہاں یہ نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے خزانے بلکہ یہ فرمایا کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں ) تاکہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کے خزانے حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے پاس ہیں مگر حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ لوگوں سے ان کی سمجھ کے قابل باتیں فرماتے ہیں (اس لئے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ان سے ایسا فرمایا) اور وہ خزانے ’’تمام اشیاء کی حقیقت و ماہیت کا علم‘‘ ہیں ، حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے اسی کے ملنے کی دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی۔ پھر فرمایا ’’میں نہیں جانتا یعنی تم سے نہیں کہتا کہ مجھے غیب کا علم ہے، ورنہ حضورِا قدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ تو خود فرماتے ہیں ’’مجھے ماکان و مایکون کا علم ملا یعنی جو کچھ ہو گزرا اور جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے سب کاعلم مجھے عطا کیا گیا۔ (تفسیر نیشاپوری، الانعام، تحت الآیۃ: ۵۰، ۳ / ۸۳)

            اس آیت کے آخر میں فرمایا کہ کیا اندھا اور دیکھنے والا برابر ہیں ؟اس سے مراد یہ ہے کہ کیا مؤمن و کافر اور عالم و جاہل برابر ہیں یعنی ہرگز برابر نہیں ہیں۔

وَ اَنْذِرْ بِهِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ لَیْسَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ(۵۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اس قرآن سے انہیں ڈراؤ جنہیں خوف ہو کہ اپنے رب کی طرف یوں اٹھائے جائیں کہ اللہ کے سوا نہ ان کا کوئی حمایتی ہو نہ کوئی سفارشی اس امید پر کہ وہ پرہیزگار ہوجائیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اس قرآن سے ان لوگوں کو ڈراؤ جواس بات سے ڈرتے ہیں کہ انہیں ان کے رب کی طرف یوں اٹھایا جائے گا کہ اللہ کے سوا نہ ان کا کوئی حمایتی ہو گا اور نہ کوئی سفارشی۔(انہیں)اس  امید پر( ڈراؤ) کہ یہ پرہیزگار ہوجائیں۔

{ وَ اَنْذِرْ بِهِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ:اور اس قرآن سے انہیں ڈراؤ جنہیں خوف ہو۔}اس سے پہلے یہ بیان ہو اکہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کامنصب بشارت دینا اور ڈر سنانا ہے اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکوحکم دیا کہ وہ بھی لوگوں کوڈر سنائیں ، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے حبیب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ اس قرآن میں ذکر کئے گئے عذابات سے ان لوگوں کو ڈرائیں جو اس بات سے ڈرتے ہیں کہ انہیں ان کے رب کی طرف یوں اٹھایا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ان کاکوئی حمایتی اور سفارشی نہ ہو گا۔آپ لوگوں کو اس امید پر ڈرائیں کہ یہ کفر اور گناہوں کو چھوڑ کر پرہیز گار بن جائیں۔ (تفسیر کبیر، الانعام، تحت الآیۃ: ۵۱، ۴ / ۵۳۹، روح البیان، الانعام، تحت الآیۃ: ۵۱، ۳ / ۳۴-۳۵، ملتقطاً)

قیامت کے دن شفاعت:

            یاد رہے کہ قیامت کے دن اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مقابلے میں کوئی کسی کا حمایتی اور سفارشی نہ ہوگا ہاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اجازت سے حمایتی و سفارشی ہوں گے جیسے انبیاء، اولیاء، شہداء، صلحاء، علماء اور حجاجِ کرام وغیرہا ،یہ سب اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اِذن اور ا س کی اجازت سے لوگوں کی حمایت اور سفارش کریں گے۔ انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاءِ عظام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْکی شفاعت تو واضح ہے۔ تبرکاً ،دیگر حضرات کی شفاعت سے متعلق 4احادیث پیش کی جاتی ہیں۔

(1) حضرت عثمان بن عفان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن تین جماعتیں شفاعت کریں گی۔ انبیاء پھر علماء پھر شہید لوگ۔ (ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب ذکر الشفاعۃ، ۴ / ۵۲۶، الحدیث: ۴۳۱۳)

(2)…حضرت ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ شہید کے ستر اہلِ خانہ کے حق میں اس کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ (ابوداؤد، کتاب الجہاد، باب فی الشہید یشفع، ۳ / ۲۲، الحدیث: ۲۵۲۲)

(3)… حضرت جابر بن عبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: عالم اور عابد دونوں کو(قیامت کے دن) دوبارہ زندہ کیاجائے گا ، اس کے



Total Pages: 191

Go To