Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

كَیْفَ كَذَبُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ(۲۴)

ترجمۂ کنزالایمان:اور جس دن ہم سب کو اٹھائیں گے پھر مشرکوں سے فرمائیں گے کہاں ہیں تمہارے وہ شریک جن کا تم دعویٰ کرتے تھے۔ پھر ان کی کچھ بناوٹ نہ رہی مگر یہ کہ بولے ہمیں اپنے رب اللہ کی قسم کہ ہم مشرک نہ تھے۔ دیکھو کیسا جھوٹ باندھا خود اپنے اوپر اور گم گئیں ان سے جو باتیں بناتے تھے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جس دن ہم سب کو اٹھائیں گے پھر مشرکوں سے کہیں گے ، تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جنہیں تم (خدا کا شریک) گمان کرتے تھے؟ پھر ان کی اس کے سوا کوئی معذرت نہ ہوگی کہ کہیں گے ،ہمیں اپنے رب اللہ کی قسم کہ ہم ہرگز مشرک نہ تھے۔اے حبیب! دیکھو اپنے اوپر انہوں نے کیسا جھوٹ باندھا ؟اور ان سے غائب ہوگئیں وہ باتیں جن کا یہ بہتان باندھتے تھے۔

{ ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ :پھر ان کی کوئی معذرت نہ ہوگی۔} قیامت کے دن کافروں کے پاس اپنے کفر و شرک سے معذرت کی کوئی صورت نہ ہوگی سوائے اس کے کہ شرک سے صاف انکار کردیں گے کہ ہم تو مشرک تھے ہی نہیں۔ ان کے متعلق اگلی آیت میں فرمایا گیا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، دیکھو اپنے اوپر انہوں نے کیسا جھوٹ باندھا کہ عمر بھر کے شرک ہی سے مکر گئے۔ مشرکین شروع میں تو اپنے جرموں کا انکار کریں گے پھر دوسرے وقت اقرار کریں گے اور پھر ایک دوسرے پر الزام تراشی کریں گے کہ ہمیں تو ہمارے بڑوں نے گمراہ کیا تھا۔

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَۚ-وَ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًاؕ-وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَاؕ-حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْكَ یُجَادِلُوْنَكَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ(۲۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ان میں کوئی وہ ہے جو تمہاری طرف کان لگاتا ہے اور ہم نے ان کے دلوں پر غلاف کردیے ہیںکہ اسے نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں ٹینٹ اور اگر ساری نشانیاں دیکھیں تو ان پر ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ جب تمہارے حضور تم سے جھگڑتے حاضر ہوں تو کافر کہیں یہ تو نہیں مگر اگلوں کی داستانیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ان میں سے کوئی وہ ہے جو تمہاری طرف کان لگاکر سنتا ہے اور ہم نے ان کے دلوں پر غلاف کردئیے ہیں کہ اس کو نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں بوجھ ڈال دیا ہے اور اگر ساری نشانیاں (بھی) دیکھ لیں تو ان پر ایمان نہ لائیں گے حتّٰی کہ جب تمہارے پاس تم سے جھگڑتے ہوئے آتے ہیں تو کافر کہتے ہیں یہ تو پہلے لوگوں کی داستانیں ہیں۔

 { وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ:اور ان میں سے کوئی وہ ہے جو تمہاری طرف کان لگاکر سنتا ہے۔}ایک مرتبہ ابوسفیان، ولید، نضر اور ابوجہل وغیرہ جمع ہو کر رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی تلاوتِ قرآن پاک سننے لگے تو نضرسے اس کے ساتھیوں نے کہا کہ محمد ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ) کیا کہتے ہیں ؟ کہنے لگا: میں نہیں جانتا ،زبان کو حرکت دیتے ہیں اور پہلوں کے قصے کہہ رہے ہیں جیسے میں تمہیں سنایا کرتا ہوں۔ ابوسفیان نے کہا کہ ان کی باتیں مجھے حق معلوم ہوتی ہیں۔ ابوجہل نے کہا کہ اس کا اِقرار کرنے سے مرجانا بہتر ہے۔ اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی۔ (خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۲۵، ۲ / ۱۰) کافر وں کے قرآنِ پاک کو پرانے قصے کہنے سے مقصد کلامِ پاک کا وحیِ الہٰی ہونے کا انکار کرنا ہے۔

وَ هُمْ یَنْهَوْنَ عَنْهُ وَ یَنْــٴَـوْنَ عَنْهُۚ-وَ اِنْ یُّهْلِكُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ(۲۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور وہ اس سے روکتے اور اس سے دور بھاگتے ہیں اور ہلاک نہیں کرتے مگر اپنی جانیں اور انہیں شعور نہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہ (دوسروں کو) اس سے روکتے اور خود اس سے دور بھاگتے ہیں اور وہ اپنے آپ ہی کو ہلاکت میں ڈالتے ہیں اور انہیں شعور نہیں۔

{ وَ هُمْ یَنْهَوْنَ عَنْهُ:اور وہ (دوسروں کو) اس سے روکتے ہیں۔}یعنی مشرکین لوگوں کو قرآن شریف سے یارسولِ کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَسے اور آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر ایمان لانے اور آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی اتباع کرنے سے دوسروں کوروکتے ہیں اور خود بھی دور رہتے ہیں۔ یہ آیت کفارِ مکہ کے بارے میں نازل ہوئی جو لوگوں کوسرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر ایمان لانے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی مجلس میں حاضر ہونے اور قرآنِ کریم سننے سے روکتے تھے اور خود بھی دور رہتے تھے کہ کہیں کلامِ مبارک اُن کے دل میں اثر نہ کرجائے۔ (خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۲۶، ۲ / ۱۰)

            حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ یہ آیت تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے چچا ابوطالب کے حق میں نازل ہوئی جو مشرکین کو تو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی ایذا رسانی سے روکتے تھے اور خود ایمان لانے سے بچتے تھے۔( قرطبی، الانعام، تحت الآیۃ: ۲۶، ۳ / ۲۵۱، الجزء السادس) لیکن بظاہر پہلا قول ہی صحیح ہے کیونکہ یہاں جمع کا صیغہ بیان ہوا ہے۔

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلَى النَّارِ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُكَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ(۲۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور کبھی تم دیکھو جب وہ آگ پر کھڑے کئے جائیں گے تو کہیں گے کاش کسی طرح ہم واپس بھیجے جائیں اور اپنے رب کی آیتیں نہ جھٹلائیں اور مسلمان ہوجائیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر آپ دیکھیں جب انہیں آگ پر کھڑا کیا جائے گا پھر یہ کہیں گے اے کاش کہ ہمیں واپس بھیج دیا جائے اور ہم اپنے رب کی آیتیں نہ جھٹلائیں اور مسلمان ہوجائیں۔

{ وَ لَوْ تَرٰى: اور اگر آپ دیکھیں۔}اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کافروں کی حالت دیکھیں جب انہیں آگ پر کھڑا کیا جائے گا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ بڑی خوفناک حالت دیکھیں گے اور اس وقت کافر کہیں گے کہ اے کاش کہ کسی طرح ہمیں واپس دنیا میں بھیج دیا جائے اور ہم اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی آیتیں نہ جھٹلائیں اور مسلمان ہو جائیں تاکہ اس ہولناک عذاب سے بچ سکیں۔

 

بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُؕ-وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ(۲۸)

ترجمۂ کنزالایمان: بلکہ ان پر کھل گیا جو پہلے چھپاتے تھے اور اگر واپس بھیجے جائیں تو پھر وہی کریں جس سے منع کیے گئے تھے اور بیشک وہ ضرور جھوٹے ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بلکہ پہلے جو یہ چھپا رہے تھے وہ ان پر کھل گیا ہے اور اگر انہیں لوٹا دیا جائے تو پھر وہی کریں گے جس سے انہیں منع کیا گیا تھا اور بیشک یہ ضرور جھوٹے ہیں۔

 



Total Pages: 191

Go To