Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

            حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو سرکارِدو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے کسریٰ اور قَیصر و غیرہ سَلاطین کو دعوتِ اسلام کے مکتوب بھیجے۔( خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۹، ۲ / ۸)

             اس کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ ’’  مَنْۢ بَلَغَ ‘‘ بھی فاعل کے معنیٰ میں ہے  اور معنیٰ یہ ہیں کہ اس قرآن سے میں تمہیں ڈراؤں اور وہ ڈرائیں جنہیں یہ قرآن پہنچے ۔ (جمل، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۹، ۲ / ۳۲۷)

                 ترمذی کی حدیث میں ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ترو تازہ کرے اس کو جس نے ہمارا کلام سنا اور جیسا سنا ویسا پہنچایا، بہت سے لوگ جنہیں کلام پہنچایا جائے وہ سننے والے سے زیادہ اہل ہوتے ہیں۔(ترمذی، کتاب العلم، باب ما جاء فی الحث علی تبلیغ السماع، ۴ / ۲۹۹، الحدیث:۲۶۶۶)

            اور ایک روایت میں ہے’’ سننے والے سے زیادہ افقہ ہوتے ہیں۔(ترمذی، کتاب العلم، باب ما جاء فی الحث علی تبلیغ السماع، ۴ / ۲۹۸، الحدیث:۲۶۶۵)

            اس سے فقہا کی قدرومنزلت معلوم ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی نبوت اور قرآن کی ہدایت کسی زمان و مکان اور کسی قوم کے ساتھ خاص نہیں۔

{ اَىٕنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ: کیا تم گواہی دیتے ہو؟} یہاں مشرکوں سے خطاب ہے یعنی اے حبیب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ ان کافروں سے فرمائیں کہ اے مشرکو! کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ دوسرے معبود بھی ہیں ؟ اے حبیب ِاکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ! تم فرماؤ کہ میں یہ گواہی نہیں دیتا بلکہ تم فرماؤ کہ وہ تو ایک ہی معبود ہے اور میں ان جھوٹے خداؤں سے بیزار ہوں جنہیں تم اللہ عَزَّوَجَلَّکاشریک ٹھہراتے ہو  ۔

اسلام قبول کرنے والے کو کیا کرنا چاہئے؟

            اس آیت سے ثابت ہوا کہ جو شخص اسلام لائے اس کو چاہئے کہ توحید و رسالت کی شہادت کے ساتھ اسلام کے ہر مخالف عقیدہ و دین سے بیزاری کا اظہار کریبلکہ تمام بے دینوں سے دور رہے اور کفر و شرک و گناہ سے بیزار رہے بلکہ مومن کو چاہیے کہ اپنی صورت، سیرت، رفتار و گفتار سے اپنے ایمان کا اعلان کرے۔[1]

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْۘ-اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۠(۲۰)

ترجمۂ کنزالایمان:جن کو ہم نے کتاب دی اس نبی کو پہچانتے ہیں جیسا اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں جنہوں نے اپنی جان نقصان میں ڈالی وہ ایمان نہیں لاتے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب عطا فرمائی وہ اس نبی کوایسے پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں (لیکن ) جو اپنی جانوں کو نقصان میں ڈالنے والے ہیں تو وہ ایمان نہیں لاتے۔

{ اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ:جنہیں ہم نے کتاب عطا فرمائی۔} یعنی یہودیوں اور عیسائیوں کے علماء جنہوں نے توریت و انجیل پائی وہ سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے حلیہ مبارک اور آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکے نعت و صفت سے جوان کتابوں میں مذکور ہے تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو ایسے پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں یعنی جیسے اولاد کے اولاد ہونے میں شبہ نہیں اسی طرح حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے نبی ہونے میں انہیں شبہ نہیں۔ چنانچہ اس کا ثبوت اس روایت سے بھی ملتا ہے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے یہی آیت حضرت عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے سامنے پڑھ کرحضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکو پہچاننے کی صورت پوچھی تو انہوں نے فرمایا: میں نے جیسے ہی رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا دیدار کیا تو انہیں پہچان گیا بلکہ اپنے بیٹے کے مقابلے میں انہیں زیادہ جلدی پہچان گیا، میں اس بات کی گواہی تو دے سکتا ہوں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سچے رسول ہیں لیکن عورتوں نے کیا کیا وہ میں نہیں جانتایعنی ہو سکتا ہے کہ انہوں نے میرے پیچھے کوئی خیانت کر لی ہو اور یہ بیٹا میرا نہ ہولیکن رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے سچے رسول ہونے میں مجھے کسی قسم کا شبہ نہیں ہوسکتا۔

             تفسیر بغوی میں پہچاننے کی یہ صورت لکھی ہے ’’جیسے اپنے بیٹے کو دیگر بچوں کے درمیان پہچان لیتے ہیں کہ آدمی ہزاروں میں اپنے بیٹے کو بلا تَرَدُّد پہچان لیتا ہے ایسے ہی یہ لوگ  سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو پہچانتے ہیں لیکن ان میں جو اپنی جانوں کو خسارے میں ڈالنے والے ہیں تو وہ ایمان نہیں لاتے۔ یہودیوں کا ایمان نہ لانا حسد کی وجہ سے تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حسد کے ہوتے ہوئے کسی کی خوبی تسلیم کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔اس آیت سے یہ اہم مسئلہ بھی معلوم ہوا کہ   سرکارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو جاننا پہچاننا ایمان نہیں بلکہ انہیں ماننا ایمان ہے۔

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖؕ-اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ(۲۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتیں جھٹلائے بیشک ظالم فلاح نہ پائیں گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے۔ بیشک ظالم فلاح نہ پائیں گے۔

{ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ:اور اس سے بڑھ کر ظالم کون؟}جو کسی کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شریک ٹھہرائے یا جو بات اس کی شان کے لائق نہ ہو اس کی طرف نسبت کرے وہ سب سے بڑا ظالم ہے کیونکہ ظلم کہتے ہیں کسی شے کو اس کی اصل جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ رکھ دینا تو جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے شایانِ شان نہیں ہے اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف منسوب کرنا یقینا سب سے بڑا ظلم ہوگا۔

ظالم کی وعید میں داخل افراد:

            اس وعید میں مشرک بھی داخل کہ وہ توحید کو اس کی جگہ سے ہٹاتے ہیں اور دیگرکفار بھی داخل ہیں۔ یونہی اس میں فلموں ، ڈراموں یا کسی بھی ذریعے سے کفریات سیکھ کر بولنے یا خوشی سے سننے والے بھی داخل ہیں کہ وہ بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف وہ چیزیں منسوب کرتے ہیں جو اس کی شایانِ شان نہیں اور اس میں زمانۂ ماضی اور خصوصاً زمانۂ حال کے وہ اسکالرز ،دانشور اور مفکر بھی شامل ہیں جو دیدہ دانستہ قرآن کی غلط تفسیریں کرتے ہیں یا نااہل ہوتے ہوئے قرآن کی تفسیر کرتے ہیں کیونکہ یہ بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَیْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ(۲۲)ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِیْنَ(۲۳)اُنْظُرْ



[1]    نئے مسلمانوں میں سے جو انگلش زبان جانتے ہیں ،انہیں کتابWELCOME T0 ISLAM(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ کرنا چاہئے۔



Total Pages: 191

Go To