Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

علاوہ کسی اور کو اپنا والی بنالوں جو آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمانے والا ہے نیز وہ سب کو کھلاتا ہے اور وہ خود کھانے سے پاک ہے، ساری مخلوق اُس کی محتاج ہے اوروہ سب سے بے نیاز ہے۔لہٰذا ایسے خالق و مالک، رحیم و کریم کو میں ہر گز نہیں چھوڑ سکتا۔ اس نے تو مجھے یہ حکم دیا ہے  کہ میں سب سے پہلے فرمانبرداری کے لئے گردن جھکاؤں  کیونکہ نبی اپنی اُمت سے دین میں آگے ہوتے ہیں اور اس نے یہ حکم دیا ہے کہ میں شرک سے پاک رہوں۔

{ مَنْ یُّصْرَفْ عَنْهُ یَوْمَىٕذٍ:اس دن جس سے عذاب پھیر دیا گیا۔}اس آیت سے معلوم ہو اکہ قیامت کے دن عذاب سے بچنا اللہ تعالیٰ کے رحم و کرم سے ہو گا صرف اپنے اعمال اس کے لئے کافی نہیں کیونکہ اعمال سبب ہیں۔

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَؕ-وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ بِخَیْرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(۱۷)وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖؕ-وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ(۱۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر تجھے اللہ کوئی برائی پہنچائے تو اس کے سوا اس کا کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر تجھے بھلائی پہنچائے تو وہ سب کچھ کرسکتا ہے۔ اور وہی غالب ہے اپنے بندوں پر اور وہی ہے حکمت والا خبردار۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر اللہ تجھے کوئی برائی پہنچائے تو اس کے سوا اس برائی کو کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر اللہ تجھے بھلائی پہنچائے تو وہ ہر شے پر قادر ہے۔ اور وہی اپنے بندوں پر غالب ہے اور وہی حکمت والا خبردارہے۔

{ وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ:اور اگر اللہ تجھے کوئی برائی پہنچائے۔} ارشاد فرمایا کہ  اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے کوئی برائی مثلاً بیماری یا تنگ دستی یا اور کوئی بلا پہنچائے تو اس کے سوا اس برائی کو کوئی دور کرنے والا نہیں یعنی اس کی مرضی کے خلاف اس کا بھیجا ہوا عذاب کوئی نہیں دفع کر سکتا۔ اور جہاں تک نیک اعمال اور بزرگوں کی دعا سے عذاب اٹھ جانے کا تعلق ہے تو اسے بھی رب کریم عَزَّوَجَلَّہی اپنے فضل و کرم سے ،اِن اسباب کے وسیلہ سے اٹھاتا ہے اور جیسے برائی کا پہنچنا اور دور ہونا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ، ایسے ہی بھلائی جیسے صحت و دولت وغیرہ کاپہنچنا بھی اسی خداوند ِ کریم کیقدرت سے ہے کیونکہ وہ ہر شے پر قادر ہے، کوئی اس کی مَشِیَّت کے خلاف کچھ نہیں کرسکتا تو اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق کیسے ہوسکتا ہے؟ کیونکہ معبود وہ ہے جو قدر تِ کاملہ رکھتا ہو اور کسی کا حاجت مند نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ ایسا کوئی نہیں ، لہٰذا صرف اسی کو رب مانواسی کی عبادت کرو۔یہ ردِ شرک کی دل میں اثر کرنے والی دلیل ہے۔

قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةًؕ-قُلِ اللّٰهُ- شَهِیْدٌۢ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُ نْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَؕ-اَىٕنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخْرٰىؕ-قُلْ لَّاۤ اَشْهَدُۚ-قُلْ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۘ(۱۹)

ترجمۂ کنزالایمان:تم فرماؤ سب سے بڑی گواہی کس کی تم فرماؤ کہ اللہ گواہ ہے مجھ میں اور تم میں اور میری طرف اس قرآن کی وحی ہوئی ہے کہ میں اس سے تمھیں ڈراؤں اور جن جن کو پہنچے تو کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ اور خدا ہیں تم فرماؤ کہ میں یہ گواہی نہیں دیتا تم فرماؤ کہ وہ تو ایک ہی معبود ہے اور میں بیزار ہوں ان سے جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ :سب سے بڑی گواہی کس کی ہے؟ فرمادو کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے اور میری طرف اِس قرآن کی وحی کی گئی ہے تاکہ میں اس کے ذریعے تمہیں اور جن کو یہ پہنچے انہیں ڈراؤں۔ کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دوسرے معبود بھی ہیں ؟ تم فرماؤکہ میں یہ گواہی نہیں دیتا ۔ تم فرماؤ کہ وہ تو ایک ہی معبود ہے اور میں ان سے بیزار ہوں جنہیں تم (اللہ کا) شریک ٹھہراتے ہو۔

{ اَیُّ شَیْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً:سب سے بڑی گواہی کس کی ہے؟ }اس آیت کاشانِ نزول یہ ہے کہ اہلِ مکہ نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے کہنے لگے کہ اے محمد! ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ) ہمیں کوئی ایسا دکھائیے جو آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی رسالت کی گواہی دیتا ہو ۔ اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی جس میں فرمایا گیا کہ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ میرا گواہ ہے اور سب سے بڑا گواہ وہی ہے۔( صاوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۹، ۲ / ۵۶۷)

نبی کریم صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی گواہی دینا سنتِ خدا ہے:

            اللہتعالیٰ نے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی گواہی کئی طرح دی: ایک یہ کہ اپنے خاص بندوں سے گواہی دلوا دی۔ دوسرے یہ کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر جو کلام اتارا، اس میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نبوت کا اعلان فرمایا۔ تیسرے یہ کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو بہت سے معجزات عطا فرمائے۔ یہ سب رب تعالیٰ کی گواہیاں ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی گواہی دینا سنت ِرسول اللہ ہے اور حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی گواہی دینا سنتِ خدا ہے، ہمارے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا گواہ خود ربُّ العالمین عَزَّوَجَلَّہے اور کلمۂ شہادت میں دونوں گواہیاں جمع فرما دی گئیں ،سُبْحَانَ اللہ۔

{ وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ: اور میر ی طر ف اس قرآن کی وحی ہوئی ہے۔}یعنی اللہ تعالیٰ میری نبوت کی گواہی دیتا ہے اس لئے کہ اُس نے میری طرف اس قرآن کی وحی فرمائی اور یہ ایسا عظیم معجزہ ہے کہ تم فصیح وبلیغ اور صاحبِ زبان ہونے کے باوجود اس کا مقابلہ کرنے سے عاجز رہے،اس سے ثابت ہوا کہ قرآنِ پاک عاجز کرنے والا ہے اور جب یہ عاجز کرنے والا ہے تو اس کتاب کا مجھ پر نازل ہونا اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے رسول ہونے کی یقینی شہادت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان’’ لِاُ نْذِرَكُمْ بِهٖ ‘‘سے یہی مراد ہے یعنی میری طرف اس قرآن کی وحی فرمائی گئی تا کہ میں اس کے ذریعے تمہیں اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کرنے سے ڈراؤں۔(خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۹، ۲ / ۸)

{ وَ مَنْۢ بَلَغَ:اور جن تک یہ پہنچے۔} یعنی میرے بعد قیامت تک آنے والے جن افراد تک یہ قرآنِ پاک پہنچے خواہ وہ انسان ہوں یا جن ان سب کو میں حکمِ الہٰی کی مخالفت سے ڈراؤں۔ حدیث شریف میں ہے کہ جس شخص کو قرآنِ پاک پہنچا یہاں تک کہ اس نے قرآن سمجھ لیاتو گویا کہ اس نے نبی  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو دیکھا اور آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا کلام مبارک سنا۔(در منثور، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۹، ۳ / ۲۵۷)

 



Total Pages: 191

Go To