Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا مذاق اڑانے والوں کا انجام:

            کفارِ قریش کے پانچ سردار (1) عاص بن وائل سہمی (2) اسود بن مُطَّلِب (3) اسود بن عبدیغوث (4) حارث  بن قیس اور ان سب کا افسر (5)ولید بن مغیرہ مخزومی ،یہ لوگ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو بہت ایذاء دیتے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکا مذاق اڑایا کرتے تھے، اسود بن مُطَّلِب کے خلاف حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے دُعا کی تھی کہ یارب! عَزَّوَجَلَّ، اس کو اندھا کردے۔ ایک روزتاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ مسجدِ حرام میں تشریف فرما تھے کہ یہ پانچوں آئے اور انہوں نے حسبِ دستور طعن اور مذاق کے کلمات کہے اور طواف میں مشغول ہوگئے۔ اسی حال میں حضرت جبریلِ امینعَلَیْہِ السَّلَام حضورِ انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خدمت میں پہنچے اور انہوں نے ولیدبن مغیرہ کی پنڈلی کی طرف اور عاص کے قدموں کی طرف اور اسود بن مطلب کی آنکھوں کی طرف اور اسود بن عبدیغوث کے پیٹ کی طرف اور حارث بن قیس کے سر کی طرف اشارہ کیا اور کہا میں ان کا شر دفع کروں گا۔ چنانچہ تھوڑے عرصہ میں یہ ہلاک ہوگئے ،ولید بن مغیرہ تیر فروش کی دوکان کے پاس سے گزرا تو اس کے تہہ بند میں ایک تیر کی نوک چبھ گئی، لیکن اُس نے تکبر کی وجہ سے اس کو نکالنے کے لئے سر نیچا نہ کیا، اس سے اس کی پنڈلی میں زخم آیا اور اسی میں مرگیا۔ عاص بن وائل کے پاؤں میں کانٹا لگا اور نظر نہ آیا، اس سے پاؤں ورم کرگیا اور یہ شخص بھی مرگیا ۔اسود بن مطلب کی آنکھوں میں ایسا درد ہوا کہ دیوار میں سر مارتا تھا اسی میں مرگیا اور یہ کہتا مرا کہ مجھ کو محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ) نے قتل کیا، اور اسود بن عبدیغوث کو ایک بیماری اِسْتِسْقَاء لگ گئی، کلبی کی روایت میں ہے کہ اس کو لُولگی اور اس کا منہ اس قدر کالا ہوگیا کہ گھر والوں نے نہ پہچانا اور نکال دیا اسی حال میں یہ کہتا مرگیا کہ مجھ کو محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ) کے رب عَزَّوَجَلَّ نے قتل کیا اور حارث بن قیس کی ناک سے خون اور پیپ جاری ہوا ، وہ اسی میں ہلاک ہوگیا۔ (خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۹۵، ۳ / ۱۱۱، ملخصاً)

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ(۱۱)

ترجمۂ کنزالایمان:   تم فرمادو زمین میں سیر کرو پھر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:   تم فرمادو: زمین میں سیر کرو پھر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا؟

{ قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ:تم فرمادو:زمین میں سیر کرو ۔} یہاں سرکارِ دو عالم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو فرمایا گیا ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ عذاب کا مذاق اڑانے والوں سے فرما دیں کہ جاؤ اور زمین میں سیر کرکے دیکھو کہ  جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا؟ اور انہوں نے کفرو تکذیب کا کیا ثمرہ پایا؟ یہاں زمین سے مراد وہ زمین ہے جہاں پچھلی قوموں پر عذاب آیا اور اب تک وہاں اُن اُجڑی بستیوں کے آثار موجود ہیں اور سیر کا یہ حکم ترغیب کے لئے ہے نہ کہ وجوب کے لئے۔

اللہ تعالیٰ کا خوف اور ا س محبت پیدا کرنے کا ذریعہ:

            اس سے معلوم ہوا کہ خوفِ الہٰی پیدا کرنے کے لئے عذاب والی جگہ جا کر دیکھنا بہتر ہے کیونکہ خبر کے مقابلے میں مشاہداتی چیز کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔ نیز جیسے عذاب کی جگہ دیکھنے سے خوف پیدا ہوتا ہے اسی طرح رحمت کی جگہ دیکھنے سے عبادت کی رغبت اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی محبت پیدا ہوتی ہے، لہٰذا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت دیکھنے کے لئے بزرگوں کے آستانے جہاں اللہ تعالیٰ کی رحمتیں برستی ہیں ، جا کر سفر کر کے دیکھنا بھی بہتر ہے تاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت کا شوق پیدا ہو۔

سفر کر کے مزاراتِ اولیاء پر جانا جائز ہے:

            اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایمانی قوت حاصل کرنے کے لئے سفر کرنا باعثِ رحمت ہے اور اس آیت سے ان لوگوں کا بھی رد ہوتا ہے جو صرف تین مسجدوں کے علاوہ کسی اور طرف سفرکو مطلقاًناجائز کہتے ہیں اور ا س کی دلیل کے طور پر یہ حدیث پیش کرتے ہیں ،حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے ، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’ ان تین مسجدوں کے سوا کسی کی طرف کجاوے نہ باندھے جائیں (1) مسجدِ حرام۔ (2) رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی مسجد۔ (3) مسجدِ اقصٰی۔(بخاری، کتاب فضل الصلاۃ فی مسجد مکۃ والمدینۃ، باب مسجد بیت المقدس، ۱ / ۴۰۳، الحدیث: ۱۱۹۷)

            اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ ان مسجدوں کے علاوہ کسی اور مسجد کی طرف اس لئے سفر کر کے جانا کہ وہاں نماز کا ثواب زیادہ ہے ممنوع ہے کیونکہ ان کے علاوہ سب مسجدوں میں نماز پڑھنے کاثواب برابر ہے۔ اگر اس حدیث کے یہ معنی کئے جائیں کہ ان تین مسجدوں کے علاوہ کسی اور مسجد کی طرف سفر کرنا حرام ہے یا ان تین مسجدوں کے علاوہ کہیں اور سفر کرنا جائز نہیں تو یہ حدیث قرآنِ مجید کی اس آیت اور دیگر احادیث کے بھی خلاف ہو گی ،نیز اس معنی کے حساب سے کہیں کا کوئی سفر کسی مقصد کے لئے جائز نہ ہو گا مثلاً جہاد، طلبِ علم، تبلیغِ دین،تجارت، سیاحت وغیرہ کسی کام کے لئے سفر جائز نہ ہو گا اور یہ امت کے اجماع کے خلاف ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ سفر کر کے اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کے مزارات پر جانا ممنوع و حرام نہیں بلکہ جائز اور مستحسن ہے ۔

قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-قُلْ لِّلّٰهِؕ-كَتَبَ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَؕ-لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِؕ-اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ(۱۲)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ کس کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے تم فرماؤ اللہ کا ہے اس نے اپنے کرم کے ذمہ پر رحمت لکھ لی ہے بیشک ضرور تمہیں قیامت کے دن جمع کرے گا اس میں کچھ شک نہیں وہ جنہوں نے اپنی جان نقصان میں ڈالی ایمان نہیں لاتے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ کس کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے؟ فرمادو: اللہ ہی کا ہے اس نے اپنے ذمۂ کرم پر رحمت لکھ لی ہے۔بیشک وہ ضرور تمہیں قیامت کے دن جمع کرے گاجس میں کچھ شک نہیں۔ وہ جنہوں نے اپنی جانوں کو نقصان میں ڈالا ہوا ہے تووہ ایمان نہیں لاتے۔

{ قُلْ:تم فرماؤ۔} مزید فرمایا کہ اے حبیب!  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَآپ  ان سے پوچھیں کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، اس کا مالک کون ہے؟ اولاً تو وہ خود ہی کہیں گے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کا ہے کیونکہ وہ اس کے معتقد ہیں اوراگر وہ یہ نہ کہیں تو تم خود یہ جواب دو کہ سب کا مالک اللہ تعالیٰ ہے کیونکہ اس کے سوا اور کوئی جواب ہوہی نہیں سکتا اور وہ اِس جواب کی مخالفت کرہی نہیں سکتے کیونکہ بت جن کو یہ مشرکین پوجتے ہیں وہ بے جان ہیں ، کسی چیز کے مالک ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتے ،خود دوسروں کے مَملوک ہیں جبکہ آسمان و زمین کا وہی مالک ہوسکتا ہے جو حَیّ و قَیُّوم، اَزلی و



Total Pages: 191

Go To