Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

دیکھ لیتے تو بھی یہی کہتے کہ ان کی نظر بندی کردی گئی تھی اورکتاب اُترتی نظر توآئی تھی لیکن حقیقت میں کچھ بھی نہیں تھا جیسے انہوں نے معجزہ شقُّ القمر یعنی چاند کے دوٹکڑے ہونے کے معجزے کو جادو بتایا اور اس معجزہ کو دیکھ کربھی ایمان نہ لائے، اسی طرح اِس پر بھی ایمان نہ لاتے کیونکہ جو لوگ عنادا ً انکار کرتے ہیں وہ آیات و معجزات سے نفع نہیں اٹھاسکتے۔

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ مَلَكٌؕ-وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ(۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بولے ان پر کوئی فرشتہ کیوں نہ اتارا گیا اور اگر ہم فرشتہ اتارتے تو کام تمام ہوگیا ہوتا پھر انہیں مہلت نہ دی جاتی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور (کافروں نے) کہا :ان پر آسمان سے کوئی فرشتہ کیوں نہ اتار دیا گیا حالانکہ اگر ہم کوئی فرشتہ اتارتے تو فیصلہ کردیا جاتا پھر انہیں مہلت نہ دی جاتی۔

{ وَ قَالُوْا:اور انہوں نے کہا۔}یعنی مشرکین نے مزید یہ کہا کہ  نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر آسمان سے کوئی فرشتہ کیوں نہ اتار دیا گیا جسے وہ دیکھتے ۔ اس پر فرمایا گیا کہ اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ  فرشتہ اتار دیتااور کافر پھر بھی ایمان نہ لاتے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عذاب ان پر لازم ہوجاتا کیونکہ یہ سنتِ الہٰیہ ہے کہ جب کفار اجتماعی طورپر کوئی نشانی طلب کریں اور اس نشانی کے ظاہر ہوجانے کے بعد بھی ایمان نہ لائیں تو عذاب واجب ہوجاتا ہے اور وہ ہلاک کردیئے جاتے ہیں۔ چنانچہ اگر کافروں کا مطالبہ پورا کردیا جاتا اور یہ پھر بھی ایمان نہ لاتے تو انہیں ایک لمحے کی بھی مہلت نہ ملتی اور ان سے عذاب مُؤخر نہ کیا جاتا۔

نشانیاں پوری ہونے کے باوجود کفارِ مکہ پر عذاب نازل کیوں نہ ہوا؟

             یاد رہے کہ کافروں نے ایسے فرشتے کے اترنے کا مطالبہ کیا تھا جو اُن کافروں کو بھی نظر آئے اور اسی کا رد کیا گیا تھا ورنہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر ایک کیا بہت سے فرشتے نازل ہوتے تھے اور بسا اوقات انسانی شکل میں حاضر ہوتے تھے جنہیں صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمبھی دیکھتے تھے۔ ان کفار کا مطالبہ یہ تھا کہ فرشتہ اپنی اصلی صورت میں آئے اور ہم اسے اسی صورت میں دیکھیں۔ یہاں ایک سوال ہے کہ کفار نے بہت سی نشانیاں طلب کیں جو پوری بھی ہوئیں جیسے چاند کے دو ٹکڑے ہونا وغیرہ اور اس کے بعد وہ ایمان بھی نہیں لائے تو ایسی صورت میں آیت میں بیان کردہ حکم کے مطابق تو سب کو ہلاک کردیا جانا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا تو آیت کا مطلب کیا ہے یا پھر ان معجزات کے دکھائے جانے کا مطلب کیا ہوا؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ نبوت پر دلالت کرنے والی نشانی دو طرح کی ہے (1) عام نشانی۔ (2) خاص نشانی۔ عام نشانی وہ ہے کہ جس کا تمام لوگ مطالبہ کریں یا سب مطالبہ تو نہ کریں لیکن اس کا مشاہدہ سب کر لیں۔ خاص نشانی وہ ہے کہ جس کا مطالبہ مخصوص لوگ کریں اور تمام ا فراد اس کا مشاہدہ نہ کر سکیں۔گزشتہ امتوں میں نشانی دیکھ لینے کے بعد ایمان نہ لانے کی صورت میں عذاب نازل کرنے میں اللہ تعالیٰ کا طریقہ یہ رہا کہ عام نشانی یعنی جس میں سب عام و خاص شریک ہو جائیں اسے پورا کرنے کے بعد ایمان نہ لانے کی صورت میں عذاب نازل فرماتا جبکہ خاص نشانی کے پورا ہونے کے بعد ایمان نہ لانے کی صورت میں عذاب نازل نہیں فرماتا۔ نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا مطالبہ مخصوص لوگوں نے کیا جو پورا ہوا لیکن یہ عام نشانی نہ تھی بلکہ خاص تھی کہ جب چاند دو ٹکڑے ہوا اس وقت اکثر لوگ سو رہے تھے، اور کئی مقامات پر اختلافِ مَطالع یا بادل حائل ہونے کی وجہ سے چاند دو ٹکڑے ہوتا نظر نہ آیا، اس لئے مطالبہ کرنے والوں پر عذاب نازل نہ ہوا۔(شرح السنہ للبغوی، کتاب الفضائل، باب علامات النبوۃ، ۷ / ۶۶، تحت الحدیث: ۳۶۰۵، ملخصاً)

                 مرقاۃُ المفاتیح میں یہی عبارت شرحُ السنہ سے منقول ہے۔ ا س کی روشنی میں ابو جہل یا دیگر کفار کے مطالبات کو دیکھا جائے تو وہ خاص مطالبے خاص فرد کے لئے پورے ہوئے تھے اس لئے اس پر عذاب نازل نہ ہوا۔

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ(۹)

ترجمۂ کنزالایمان:اور اگر ہم نبی کو فرشتہ کرتے جب بھی اسے مرد ہی بناتے اور ان پر وہی شبہ رکھتے جس میں اب پڑے ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر ہم نبی کو فرشتہ بنادیتے توبھی اسے مرد ہی بناتے اور ان پر وہی شبہ ڈال دیتے جس میں اب پڑے ہیں۔

{ وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا:اور اگر ہم نبی کو فرشتہ بنادیتے۔} یہ ان کفار کا جواب ہے جو نبی عَلَیْہِ السَّلَام کو کہا کرتے تھے ، ’’یہ ہماری طرح بشر ہیں ‘‘اور اسی پاگل پن میں وہ ایمان سے محروم رہتے تھے۔ انہیں انسانوں میں سے رسول مبعوث فرمانے کی حکمت بتائی جارہی ہے کہ اُن سے نفع حاصل کرنے اور تعلیمِ نبی سے فیض اُٹھانے کی یہی صورت ہے کہ نبی صورتِ بشری میں جلوہ گر ہو کیونکہ فرشتے کو اس کی اصلی صورت میں دیکھنے کی تو یہ لوگ تاب نہ لاسکتے، دیکھتے ہی ہیبت سے بے ہوش ہو جاتے یا مرجاتے اس لئے اگر بالفرض رسول فرشتہ ہی بنایا جاتا تو بھی اسے مرد ہی بنایا جاتا اور صورت ِانسانی ہی میں بھیجا جاتا تاکہ یہ لوگ اس کو دیکھ سکیں اور اس کا کلام سن سکیں اور اس سے دین کے احکام معلوم کرسکیں لیکن اگر فرشتہ صورتِ بشری میں آتا تو انہیں پھر وہی کہنے کا موقع رہتا کہ یہ بشر ہے تو فرشتہ کو نبی بنانے کا کیا فائدہ ہوتا؟ (خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۹، ۲ / ۵)

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠(۱۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ضرور اے محبوب تم سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی ٹھٹّاکیا گیا تو وہ جو ان سے ہنستے تھے ان کی ہنسی انہیں کو لے بیٹھی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اے حبیب ! بیشک تم سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی مذاق کیا گیا تو وہ جو ان میں سے (رسولوں کا) مذاق اڑاتے تھے ان پر ان کا مذاق ہی اتر آیا۔

{ وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ : اور اے محبوب ! بیشک تم سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی مذاق کیا گیا۔} کفار نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا مذاق اڑاتے جس سے حضورِ اقدس  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَرنجیدہ ہوتے۔ اس پر سرکارِ دوعالم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے فرمایا گیا کہ آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے پہلے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا تو جو مذاق اڑاتے تھے ان کا نہایت بھیانک انجام ہوا اور وہ مبتلائے عذاب ہوئے ۔اس میں نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تسلی و تسکینِ خاطر ہے کہ آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَرنجیدہ و مَلُوْل نہ ہوں ، کفار کا پہلے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے ساتھ بھی یہی دستور رہا ہے اور اس کا وبال ان کفار کو اٹھانا پڑا ہے ۔نیز اس میں مشرکین کو بھی تنبیہ ہے کہ وہ پچھلی اُمتوں کے حال سے عبرت حاصل کریں اور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے ساتھ ادب کا طریقہ ملحوظ رکھیں تاکہ پہلوں کی طرح مبتلائے عذاب نہ ہوں۔

 



Total Pages: 191

Go To