Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

رکوع اور آیات کی تعداد:

            اس میں 20رکوع اور 165 آیتیں ہیں۔

’’اَنعام‘‘نام رکھنے کی وجہ :

             عربی میں مویشیوں کو ’’اَنعام‘‘ کہتے ہیں اور  اس سورت کا نام ’’اَنعام‘‘ اس مناسبت سے رکھا گیا کہ اس سورت کی آیت نمبر 136 اور138 میں ان مشرکین کا رد کیا گیا ہے جو اپنے مویشیوں میں بتوں کو حصہ دار ٹھہراتے تھے اور خود ہی چند جانوروں کو اپنے لئے حلال اور چند جانوروں کو اپنے اوپر حرام سمجھنے لگے تھے۔

سورۂ اَنعام کی فضیلت:

            حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ سورۂ اَنعام نازل ہوئی اور اس کے ساتھ بلند آواز سے تسبیح کرتی ہوئی فرشتوں کی ایک جماعت تھی جس سے زمین و آسمان کے کنارے بھر گئے، زمین ان فرشتوں کی وجہ سے ہلنے لگی اور رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے تین مرتبہ ’’سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیمْ ‘‘ کہا۔(شعب الایمان، التاسع عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ذکر سورۃ الانعام، ۲ / ۴۷۰، الحدیث: ۲۴۳۳)

سورۂ اَنعام کے مضامین:

            سورۂ اَنعام قرآنِ مجید میں مذکور سورتوں کی ترتیب کے لحاظ سے پہلی مکی سورت ہے اور اس کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں اسلام کے بنیادی عقائد ،جیسے اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی وحدانیت ،ا س کی صفات اور اس کی قدرت کو انسان کی اندرونی اور بیرونی شہادتوں سے ثابت کیا گیا ہے۔ وحی اور رسالت کے ثبوت اور مشرکین کے شُبہات کے رد پر عقلی اور حِسی دلائل پیش کئے گئے ہیں۔ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے ،قیامت کے دن اعمال کاحساب ہونے اور اعمال کی جزاء ملنے کو دلائل سے ثابت کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ اس سورت میں یہ مضامین بیان کئے گئے ہیں۔

(1) …زمین میں گھوم پھر کر سابقہ لوگوں کی اجڑی بستیاں ،ویران گھر اور ان پر کئے ہوئے اللہ تعالیٰ کے عذاب کے آثار دیکھ کر ان کے انجام سے عبرت حاصل کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

(2) …جانور ذبح کرنے اور ذبح شدہ جانور کا گوشت کھانے کے احکام بیان کئے گئے اور اپنی طرف سے حلال جانوروں کو حرام قرار دینے کا رد کیا گیا ہے ۔

(3) …والدین کے ساتھ احسان کرنے، ظاہری اور باطنی بے حیائیوں سے بچنے، تنگدستی کی وجہ سے اولاد کو قتل نہ کرنے اور کسی کو ناحق قتل نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

(4) … حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوم کا واقعہ بیان کیا گیا اور آخر میں قرآن اور دین اسلام کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔

سورۂ مائدہ کے ساتھ مناسبت:

            سورۂ اَنعام کی اپنے سے ما قبل سورت’’ مائدہ‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ سورۂ مائدہ کی آیت نمبر87 میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا تھا کہ

’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا ‘‘

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ قرار دوجنہیں اللہ نے تمہارے لئے حلال فرمایا ہے اور حد سے نہ بڑھو۔

            اور سورۂ اَنعام میں یہ خبر دی گئی کہ مشرکین نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ چند (حلال) چیزوں کو(اپنی طرف سے ) حرام قرار دے دیا اور یہ کہہ دیاکہ اسے اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے، اور یہ خبر دینے سے مقصود مسلمانوں کو اس بات سے ڈرانا ہے کہ اگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو (اپنی طرف سے) حرام قرار دے دیا تو وہ کفار کے مشابہ ہو جائیں گے۔(تناسق الدرر، سورۃ الانعام، ص۸۵)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ترجمۂ کنزالایمان:   اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان رحم والا۔

ترجمۂکنزالعرفان:     اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان، رحمت والاہے ۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ۬ؕ-ثُمَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ(۱)

ترجمۂ کنزالایمان: سب خوبیاں اللہ کو جس نے آسمان اور زمین بنائے اور اندھیریاں اور روشنی پیدا کی اس پر کافر لوگ اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے آسمان اور زمین پیدا کئے اور اندھیروں اور نور کو پیدا کیا پھر (بھی) کافر لوگ اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں۔

{اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ:تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں۔} اس آیت میں بندوں کو اللہ تعالیٰ کی حمد کی تعلیم فرمائی گئی کہ وہ جب حمد کرنے لگیں تو ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ‘‘ کہیں ،ا ور آسمان وزمین کی پیدائش کا ذکر اس لئے ہے کہ اِن میں دیکھنے والوں کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّکی حکمت وقدرت کے بہت سے عجائبات ، عبرتیں اور منافع ہیں۔ حضرت کعب احبار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ تو ریت میں سب سے پہلی یہی آیت ہے۔ (خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۱، ۲ / ۲)

{ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ:اور اندھیروں اور نور کو پیدا کیا۔}یعنی ہر اندھیرا اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی نے پیدا فرمایا ہے خواہ وہ اندھیرا رات کا ہو، کفر کا ہو، جہالت کا ہو یا جہنم کا ہو ۔ یونہی ہر ایک روشنی اسی نے پیدا فرمائی خواہ وہ روشنی دن کی ہو ، ایمان و ہدایت کی ہو، علم کی ہو یا جنت کی ہو۔

برا کام کر کے اللہ  تعالٰی کی مشیت کی طرف منسوب نہیں کرنا چاہئے:

            یہاں ایک بات ذہن نشین رکھیں کہ اگرچہ ہر اچھی بری چیز کو پیدا فرمانے والا رب تعالیٰ ہے لیکن برا کام کر کے تقدیر کی طرف نسبت کرنا اور مشیتِ الہٰی کے حوالے کرنا بری بات ہے، بلکہ



Total Pages: 191

Go To