Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

باز رہے تو جو ہو گزرا وہ انہیں معاف فرمادیا جائے گا اور اگر پھر وہی کریں تو اگلوں کا دستور گزر چکا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تاکہ اللہ خبیث کو پاکیزہ سے جدا کردے اور خبیثوں کو ایک دوسرے کے اوپر کر کے سب کو ڈھیر بناکر جہنم میں ڈال دے،وہی نقصان پانے والے ہیں۔تم کافروں سے فرماؤکہ اگر وہ بازآگئے تو جو پہلے گزرچکا وہ انہیں معاف کردیا جائے گا اور اگر وہ دوبارہ (لڑائی) کریں گے تو پہلے لوگوں کادستور گزرچکا۔

{لِیَمِیْزَ اللّٰهُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ:تاکہ اللہخبیث کو پاکیزہ سے جدا کردے۔} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کو خبیث اور مؤمنین کو طیب کہہ کر دونوں میں فرق بیان فرمایا ہے اور آخرت میں ان کے درمیان فرق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کوجنت اور کفار کو جہنم میں داخل فرمائے گا ۔(خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۳۷، ۲ / ۱۹۵)

{قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا:تم کافروں سے فرماؤ۔} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں سے فرما دیجئے کہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کرنے اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے سے باز آ جائیں اور دینِ اسلام میں داخل ہو کردینِ اسلام کو مضبوطی سے تھام لیں تو اللہ تعالیٰ ان کا کفر اور اسلام سے پہلے کے گناہ معاف فرما دے گا اور اگر وہ اپنے کفر پر قائم رہے ،آپ کے اور مسلمانوں کے خلاف پھر جنگ کی تو اس معاملے میں اللہ عَزَّوَجَلَّکی سنت گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں کو ہلاک فرما دیتا ہے اور اپنے اَنبیاء و اَولیاء کی مدد فرماتا ہے جیسے پچھلی امتوں کے کفار نے جب اللہ عَزَّوَجَلَّکے رسولوں کو جھٹلایا ،ان کی نصیحت قبول کرنے کی بجائے سرکشی کا راستہ اختیار کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں عبرتناک عذاب میں مبتلا کر دیا ، یونہی جنگِ بدر میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کی اور مشرکوں کو شکست و رسوائی سے دوچار کیا وہ پھر ایسا ہی کرے گا۔(بیضاوی، الانفال، تحت الآیۃ: ۳۸، ۳ / ۱۰۷، خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۳۸، ۲ / ۱۹۵، تفسیر طبری، الاعراف، تحت الآیۃ: ۳۸، ۶ / ۲۴۴، ملتقطاً)

کافر توبہ کرے تو ا س کے سابقہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں :

             اس آیت سے معلوم ہوا کہ کافر جب کفر سے باز آئے اور اسلام قبول کر لے تو اس کا پہلا کفر اور حالتِ کفر میں کئے گئے گنا ہ سب معاف ہوجاتے ہیں۔ صحیح مسلم میں ہے کہ جب   عمرو بن عاص اسلام قبول کرنے کے لئے بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ میں حاضر ہوئے اور آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکا دستِ اقدس تھام کر عرض کی کہ میں اس شرط پر اسلام قبول کرتا ہوں کہ میری مغفرت کر دی جائے،تورسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اسلام قبول کرنا سابقہ گناہوں کو ختم کر دیتا ہے۔ (مسلم، کتاب الایمان، باب کون الاسلام یہدم ما قبلہ۔۔۔ الخ، ص۷۴، الحدیث: ۱۹۲ (۱۲۱))

وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِۚ-فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ(۳۹)وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰىكُمْؕ-نِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ(۴۰)

ترجمۂ کنزالایمان:اور اگر ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فساد باقی نہ رہے اور سارا دین اللہ ہی کا ہوجائے پھر اگر وہ باز رہیں تو اللہ ان کے کام دیکھ رہا ہے  اور اگر وہ پھریں تو جان لو کہ اللہ تمہارا مولیٰ ہے تو کیا ہی اچھا مولیٰ اور کیا ہی اچھا مددگار۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فساد باقی نہ رہے اور سارا دین اللہ ہی کا ہوجائے پھر اگر وہ باز آجائیں تو اللہ ان کے کام دیکھ رہا ہے۔ اور اگریہ روگردانی کریں تو جان لو کہ اللہ  تمہارامددگارہے ، کیا ہی اچھا مولیٰ اور کیا ہی اچھا مددگار۔

{وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ:اور ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فساد باقی نہ رہے۔}اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے ایمان والو! ان کافروں سے لڑو یہاں تک کہ شرک کاغلبہ نہ رہے اوراللہ تعالیٰ کا دین اسلام غالب ہو جائے ، پھر اگر وہ اپنے کفر سے باز آجائیں تو اللہتعالیٰ  ان کے کام دیکھ رہا ہے،وہ انہیں اس کی اور ان کے اسلام لانے کی جزا دے گااور اگریہ لوگ ایمان لانے سے روگردانی کریں تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ   تمہارامددگارہے ، تم اسی کی مدد پر بھروسہ رکھو اور ان کی دشمنی کی پرواہ نہ کرو اور اللہ تعالیٰ کیا ہی اچھا مولیٰ اور کیا ہی اچھا مددگار ہے۔( جلالین، الانفال، تحت الآیۃ: ۳۹، ص۱۵۱،تفسیر سمرقندی، الانفال، تحت الآیۃ: ۳۹، ۲ / ۱۸، روح البیان، الانفال، تحت الآیۃ: ۳۹، ۳ / ۳۴۵، ملتقطاً)

جہاد کے2 فضائل:

            اس آیت میں جہاد کا ذکر ہوااس مناسبت سے یہاں جہاد کے دو فضائل ملاحظہ ہوں ،

(1)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک گھڑی ٹھہرنا حجر اسود کے پاس شب قدر میں قیام کرنے سے بہتر ہے۔( شعب الایمان، السابع والعشرون من شعب الایمان۔۔۔۔ الخ، ۴ / ۴۰، الحدیث: ۴۲۸۶)

(2)…حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے فرمایا:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’جو شخص میرے راستے میں جہاد کرتا ہے میں اس کا ضامن ہوں ،اگر میں اس کی روح قبض کرتا ہوں تو اسے جنت کا وارث بناتا ہوں اور اگر واپس(گھر) لوٹاتا ہوں تو ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ لوٹاتا ہوں۔( ترمذی، کتاب فضائل الجہاد، باب ما جاء فی فضل الجہاد، ۳ / ۲۳۱، الحدیث: ۱۶۲۶)



Total Pages: 191

Go To