Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

(3)…حضرت عبداللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت ہے، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: جس نے استغفار کو اپنے لئے ضروری قرار دیا تواللہتعالیٰ اسے ہر غم اور تکلیف سے نجات دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اسے وہم وگمان بھی نہ ہو گا۔ (ابن ماجہ، کتاب الادب، باب الاستغفار، ۴ / ۲۵۷، الحدیث: ۳۸۱۹)

وَ مَا لَهُمْ اَلَّا یُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَ هُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ مَا كَانُوْۤا اَوْلِیَآءَهٗؕ-اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ(۳۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور انہیں کیا ہے کہ اللہ انہیں عذاب نہ کرے وہ تو مسجدِحرام سے روک رہے ہیں اور وہ اس کے اہل نہیں اس کے اولیاء تو پرہیزگار ہی ہیں مگر ان میں اکثر کو علم نہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور انہیں کیا ہے کہ اللہ انہیں عذاب نہ دے حالانکہ یہ مسجد ِحرام سے روک رہے ہیں اور یہ اِس کے اہل ہی نہیں ،اس کے اہل تو پرہیزگار ہی ہیں مگر ان میں اکثر جانتے نہیں۔

{وَ مَا لَهُمْ اَلَّا یُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ:اور انہیں کیا ہے کہ اللہ انہیں عذاب نہ دے۔} اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ جب تک میرا حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ان میں تشریف فرما ہے اللہ تعالیٰ انہیں عذاب نہ دے گا اور اس آیت میں فرمایا کہ انہیں عذاب دے گا۔ تو اس آیت کا معنی یہ ہوا جب رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ان کے بیچ سے چلے جائیں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں عذاب دے گا۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس آیت میں عذاب سے مراد (قتل اور قید ہونے کا)وہ عذاب ہے جو بدر کے دن انہیں پہنچا۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۳۴، ۲ / ۱۹۴)

            ایک قول یہ ہے کہ ا س سے مراد وہ عذاب ہے جو فتحِ مکہ کے دن انہیں پہنچا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  فرماتے ہیں اس سے آخرت کا عذاب مراد ہے اور جس عذاب کی ان سے نفی کی گئی ہے اس سے دنیاوی عذاب مراد ہے۔ ان کفار کو عذاب دئیے جانے کا سبب یہ ہے کہ یہ مسجدِ حرام سے روک رہے ہیں اور مؤمنین کو طوافِ کعبہ کے لئے نہیں آنے دیتے جیسا کہ واقعۂ حُدَیْبِیَہ کے سال  رسالت مآبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اور آپ کے اصحاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو روکا۔ (تفسیر کبیر، الانفال، تحت الآیۃ: ۳۴، ۵ / ۴۸۰)

{وَ مَا كَانُوْۤا اَوْلِیَآءَهٗ:اور یہ اِس  کے اہل ہی نہیں۔} کفار یہ دعویٰ کرتے تھے کہ ہم خانہ کعبہ اور حرم شریف کے مُتَوَلّی ہیں تو ہم جسے چاہیں اس میں داخل ہونے دیں اور جسے چاہیں روک دیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کے رد میں ارشاد فرمایا کہ یہ مسجدِ حرام کے اہل نہیں اور کعبہ کے اُمو ر میں تَصَرُّف و انتظام کا کوئی اختیار نہیں رکھتے کیونکہ یہ مشرک ہیں ، مسجدِ حرام کا متولی ہونے کے  اہل تو پرہیزگار ہی ہیں۔

وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِیَةًؕ-فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ(۳۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور کعبہ کے پاس ان کی نماز نہیں مگر سیٹی اور تالی تو اب عذاب چکھو بدلہ اپنے کفر کا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اوربَیْتُ اللہ کے پاس ان کی نمازصرف سیٹیاں بجانا اور تالیاں بجانا ہی تھاتو اپنے کفر کے بدلے عذاب کا مزہ چکھو۔

{وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِیَةً:اوربیتُ اللہ کے پاس ان کی نمازصرف سیٹیاں بجانا اور تالیاں بجانا ہی تھا۔} حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  فرماتے ہیں کہ کفار ِقریش ننگے ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کرتے تھے اور سیٹیاں اور تالیاں بجاتے تھے اور ان کا یہ فعل یا تو اس باطل عقیدے کی وجہ سے تھا کہ سیٹی اور تالی بجانا عبادت ہے اور یا اس شرارت کی وجہ سے کہ اُن کے اِس شور سے تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو نماز میں پریشانی ہو۔ (تفسیر کبیر، الانفال، تحت الآیۃ: ۳۵، ۵ / ۴۸۱)

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ-فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ۬ؕ-وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ یُحْشَرُوْنَۙ(۳۶)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک کافر اپنے مال خرچ کرتے ہیں کہ اللہ کی راہ سے روکیں تو اب انہیں خرچ کریں گے پھر وہ ان پر پچھتاوا ہوں گے پھر مغلوب کردیے جائیں گے اور کافروں کا حشر جہنم کی طرف ہوگا ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک کافر اپنے مال اس لئے خرچ کرتے ہیں کہ اللہ کی راہ سے روکیں تو اب مال خرچ کریں گے پھر وہی مال ان پر حسرت و ندامت ہو جائیں گے پھر یہ مغلوب کردیے جائیں گے اور کافروں کو جہنم کی طرف چلایا جائے گا۔

{اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ:بیشک کافر اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کفار اپنا مال مشرکین کو اس لئے دیتے ہیں تاکہ وہ اس مال کے ذریعے قوت حاصل کر کے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کریں۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ان کا یہ مال خرچ کرنا عنقریب ان کے لئے ندامت کا سبب ہو گا کیونکہ ان کے اموال تو خرچ ہو جائیں گے لیکن ان کی آرزو پوری نہ ہوگی ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نور کو بجھا دینا اور کفر کے کلمے کو اللہ عَزَّوَجَلَّکے کلمے پر بلند کرنا ان کی خواہش ہے لیکن اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے کلمہ کو بلند اور کفر کے کلمے کو پست کرتا ہے پھر مسلمانوں کو غلبہ عطا فرماتا ہے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کافروں کو جہنم میں جمع فرمائے گا اور انہیں عذاب دے گا۔( تفسیر طبری، الانفال، تحت الآیۃ: ۳۶، ۶ / ۲۴۱)

            شانِ نزول: یہ آیت کفارِ قریش کے ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے جنگ ِبدر کے موقع پر کفار کے لشکر کا کھانا اپنے ذمہ لیا تھا، یہ کل بارہ اَشخاص تھے جن میں سے ہر شخص لشکر کو روزانہ دس اونٹ ذبح کر کے کھلاتا تھا۔ ان بارہ افراد میں سے دو اشخاص حضرت عباس بن عبد المطلب اور حضرت حکیم بن حزام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  بعد میں ایمان لے آئے تھے۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت ابو سفیان کے بارے میں نازل ہوئی ، ابو سفیان نے جنگ ِاحد کے موقع پر دو ہزار کفار کو کرایہ پرجنگ کے لئے تیار کیا اور ان پر چالیس اوقیہ سونا خرچ کیا۔ اور ایک قول یہ ہے کہ جنگِ بدر کی شکست کے بعد مقتولین کے اہلِ خانہ نے ابو سفیان کے تجارتی قافلے میں شریک تاجروں کو اپنا مال مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے میں خرچ کرنے کی ترغیب دی اور تمام تاجر کفار اس بات پر راضی ہو گئے ،ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۳۶، ۲ / ۱۹۵)

لِیَمِیْزَ اللّٰهُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَ یَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَهٗ عَلٰى بَعْضٍ فَیَرْكُمَهٗ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَهٗ فِیْ جَهَنَّمَؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠(۳۷) قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّنْتَهُوْا یُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَۚ-وَ اِنْ یَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِیْنَ(۳۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اس لیے کہ اللہ گندے کو ستھرے سے جدا فرمادے اور نجاستوں کو تلے اوپر رکھ کر سب ایک ڈھیر بنا کر جہنم میں ڈال دے وہی نقصان پانے والے ہیں۔تم کافروں سے فرماؤ اگر وہ



Total Pages: 191

Go To