Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

حارث ایک تاجر تھا اور وہ تجارت کے لئے فارس، حِیرہ اور دیگر ممالک کا سفر کرتا تھا، اس نے وہاں کے باشندوں سے رستم، اسفند یار اور دیگر عجمیوں کے قصے سن رکھے تھے اور یہودی و عیسائی عبادت گزاروں کو تورات و انجیل کی تلاوت کرتے، رکوع و سجود کرتے اور گریہ و زاری کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ جب نضر بن حارث مکہ مکرمہ آیا تو اسے معلوم ہوا کہ نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر وحی نازل ہوتی ہے، یہ قرآن کی تلاوت کرتے اور نماز پڑھتے ہیں۔اس نے کہا: جو کلام محمد(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ) پیش کرتے ہیں اس جیسا تو ہم نے سنا ہوا ہے اگر ہم چاہیں تو ہم بھی ایسا ہی کلام کہہ سکتے ہیں۔ اللہتعالیٰ نے ان کفار کا یہ مقولہ بیان کیا کہ اس میں اُن کی کمال درجے کی بے شرمی و بے حیائی ہے ۔ قرآنِ پاک کی تَحدَّی فرمانے اور فُصحائے عرب کو قرآنِ کریم کے مثل ایک سورت بنا لانے کی دعوتیں دینے اور ان سب کے عاجز رہ جانے کے بعد یہ کلمہ کہنا اور ایسا باطل دعویٰ کرنا نہایت ذلیل حرکت ہے۔(تفسیر طبری، الانفال، تحت الآیۃ: ۳۱، ۶ / ۲۲۹، خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۳۱، ۲ / ۱۹۲)

وَ اِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ(۳۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جب بولے کہ اے اللہ اگر یہی (قرآن) تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی دردناک عذاب ہم پر لا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب انہوں نے کہا: اے اللہ اگر یہ (قرآن) ہی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا کوئی دردناک عذاب ہم پر لے آ۔

{وَ اِذْ قَالُوْا:اور جب انہوں نے کہا۔} حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  فرماتے ہیں ’’ جب رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے گزشتہ امتوں کے واقعات بیان فرمائے تو نضر بن حارث نے کہا: اگر میں چاہوں تو اس جیسے واقعات کہہ سکتا ہوں۔حضرت عثمان بن مظعون رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے نضر بن حارث سے فرمایا: تو اللہ تعالیٰ سے ڈر، رسولِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ حق بات ارشاد فرماتے ہیں۔ نضر بن حارث نے کہا: میں بھی سچی بات کہتا ہوں۔ حضرت عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: نبیٔ  اکرم ’’لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ ‘‘کہتے ہیں۔ نضر بن حارث نے کہا: میں بھی ’’لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ ‘‘ کہتا ہوں لیکن یہ بت اللہکی بیٹیاں ہیں۔ پھر نضر بن حارث نے دعا مانگی کہ اے اللہ! جو قرآن محمد(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ) لائے ہیں اگر یہ ہی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا کوئی دردناک عذاب ہم پر لے آ۔ نضر بن حارث وہ بدبخت کافر ہے کہ جس کی مذمت میں قرآنِ پاک کی دس آیات نازل ہوئیں اور غزوۂ بدر کے دن سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے دستِ اقدس سے جہنم واصل ہوا۔( خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۳۲، ۲ / ۱۹۲-۱۹۳) حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ یہ دعا ابو جہل نے مانگی تھی۔(بخاری، کتاب التفسیر، باب واذ قالوا اللہمّ ان کان ہذا۔۔۔ الخ، ۳ / ۲۲۹، الحدیث: ۴۶۴۸)

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْؕ-وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ(۳۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب تم ان میں تشریف فرما ہو اوراللہ انہیں عذاب کرنے والا نہیں جب تک وہ بخشش مانگ رہے ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ انہیں عذاب دے جب تک اے حبیب!تم ان میں تشریف فرما ہواور اللہانہیں عذاب دینے والا نہیں جبکہ وہ بخشش مانگ رہے ہیں۔

{وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ:اور اللہکی یہ شان نہیں کہ انہیں عذاب دے ۔} ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ جس عذاب کا کفار نے سوال کیا وہ عذاب انہیں دے جب تک اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ،تم ان میں تشریف فرما ہو، کیونکہ آپ رحمۃٌ لِلعالَمین بنا کر بھیجے گئے ہو اور سنتِ الہٰیہ یہ ہے کہ جب تک کسی قوم میں اس کے نبی موجود ہوں ان پر عام بربادی کا عذاب نہیں بھیجتا کہ جس سے سب کے سب ہلاک ہوجائیں اور کوئی نہ بچے۔( جلالین، الانفال، تحت الآیۃ: ۳۳، ص۱۵۰، مدارک، الانفال، تحت الآیۃ: ۳۳، ص۴۱۲، ملتقطاً)

            مفسرین کی ایک جماعت کا قول ہے کہ یہ آیت سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر اس وقت نازل ہوئی جب آپ مکہ مکرمہ میں مقیم تھے۔ پھر جب آپ نے ہجرت فرمائی اور کچھ مسلمان رہ گئے جو اِستغفار کیا کرتے تھے تو ’’وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ‘‘ جب تک استغفار کرنے والے ایماندار موجود ہیں اس وقت تک بھی عذاب نہ آئے گا ۔ نازل ہوئی۔ پھر جب وہ حضرات بھی مدینہ طیبہ کو روانہ ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے فتحِ مکہ کا اذن دیا اور یہ عذاب ِمَوعود آگیا جس کی نسبت اگلی آیت میں فرمایا ’’وَ مَا لَهُمْ اَلَّا یُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ‘‘۔ حضرت محمد بن اسحاق رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا کہ ’’وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ‘ بھی کفار کا مقولہ ہے جو ان سے حکایۃً ذکرکیا گیا ،اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اُن کی جہالت کا ذکر فرمایا کہ اس قدر احمق ہیں کہ آپ ہی تو یہ کہتے ہیں کہ یارب اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر نازل کر اور آپ ہی یہ کہتے ہیں کہ اے محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ)جب تک آپ ہیں عذاب نازل نہ ہوگا کیونکہ کوئی اُمت اپنے نبی کی موجودگی میں ہلاک نہیں کی جاتی۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۳۳، ۲ / ۱۹۳)

            اعلیٰ حضر ت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اسی آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

 اَنْتَ فِیْهِمْ نے عَدُوْ کو بھی لیا دامن میں            عیشِ جاوید مبارک تجھے شیدائی دوست

عذاب سے امن میں رہنے کا ذریعہ:

            علامہ علی بن محمد خازن رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرما تے ہیں اس آیت سے ثابت ہوا کہ استغفار عذاب سے امن میں رہنے کا ذریعہ ہے۔( خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۳۳، ۲ / ۱۹۳)

            احادیث میں استغفار کے بہت فضائل بیان کئے گئے ہیں ،ان میں سے 3احادیث درج ذیل ہیں :

(1)… حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ نے میری اُمّت کے لئے مجھ پر دو امن(والی آیات ) اتاری ہیں ، ایک’’ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ‘‘ اور دوسری’’وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ‘‘ جب میں اس دنیا سے پردہ کر لوں گا تو قیامت تک کے لئے استغفار چھوڑ دوں گا۔ (ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ الانفال، ۵ / ۵۶، الحدیث: ۳۰۹۳)

(2)…حضرت ابو سعید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، حضور سید المرسلینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: شیطا ن نے کہا: اے میرے رب! تیری عزت و جلال کی قسم!جب تک تیرے بندوں کی روحیں ان کے جسموں میں ہیں ، میں انہیں بھٹکاتا رہوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: میری عزت و جلا ل کی قسم! جب تک وہ مجھ سے استغفار کریں گے تو میں انہیں بخشتا رہوں گا۔(مسند امام احمد، مسند ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ، ۴ / ۵۹، الحدیث: ۱۱۲۴۴)

 



Total Pages: 191

Go To