Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

ہوتی ہے۔حضرت قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ وہ چیز قرآن ہے کیونکہ اس سے دِلوں کی زندگی ہے اور اس میں نجات ہے اور دونوں جہان کی حفاظت ہے۔ حضرت محمد بن اسحاق رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ وہ چیز جہاد ہے کیونکہ اس کی بدولت اللہ تعالیٰ ذلت کے بعد عزت عطا فرماتا ہے۔بعض مفسرین نے فرمایا کہ وہ چیز شہادت ہے ، کیونکہ شہداء اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے پاس زندہ ہیں اور انہیں رزق دیا جاتا ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۴، ۲ / ۱۸۸)

وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةًۚ-وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ(۲۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اس فتنہ سے ڈرتے رہو جو ہرگز تم میں خاص ظالموں ہی کو نہ پہنچے گا اور جان لو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اس فتنے سے ڈرتے رہو جو ہرگز تم میں خاص ظالموں کو ہی نہیں پہنچے گا اور جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔

{وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً:اور اس فتنے سے ڈرتے رہو۔} اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اس بات سے ڈرایا تھا کہ بنو آدم اور ان کے دلوں کے درمیان اللہ تعالیٰ حائل ہے اور اس آیت میں اللہ عَزَّوَجَلَّنے مسلمانوں کو فتنوں ، آزمائشوں اور عذاب سے ڈرایا ہے کہ اگر ظالموں پر عذاب نازل ہوا تو وہ صرف ظالموں تک ہی محدود نہ رہے گا بلکہ نیک و بد سب لوگوں پر یہ عذاب نازل ہو گا۔حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کو حکم فرمایا ہے کہ وہ اپنی طاقت و قدرت کے مطابق برائیوں کو روکیں اور گناہ کرنے والوں کو گناہ سے منع کریں اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو عذاب ان سب کو عام ہوگا اورخطا کار اور غیر خطا کارسب کو پہنچے گا۔ (تفسیر کبیر، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۵، ۵ / ۴۷۳، خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۵، ۲ / ۱۸۹، ملتقطاً)

قدرت کے باوجودبرائی سے منع کرنا چھوڑ دینا عذابِ الہٰی آنے کا سبب ہے:

            اس آیت سے معلوم ہو اکہ جو قوم قدرت کے باوجودبرائیوں سے منع کرنا چھوڑ دیتی ہے اور لوگوں کو گناہوں سے نہیں روکتی تووہ اپنے اس ترکِ فرض کی شامت میں مبتلا ئے عذاب ہوتی ہے۔ کثیر احادیث میں بھی یہ چیز بیان کی گئی ہے ،ان میں سے 3 احادیث درج ذیل ہیں :

(1)… سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ مخصوص لوگوں کے عمل کی وجہ سے عذابِ عام نہیں کرتا جب تک کہ عام طور پر لوگ ایسا نہ کریں کہ ممنوعات کو اپنے درمیان ہوتا دیکھتے رہیں اور اس کے روکنے اور منع کرنے پر قادر ہونے کے باوجود اس سے نہ روکیں ،نہ منع کریں۔جب ایسا ہوتا ہے تو اللہتعالیٰ عذاب میں عام و خاص سب کو مبتلا کردیتا ہے۔ (شرح السنہ، کتاب الرقاق، باب الامر بالمعروف والنہی عن المنکر، ۷ / ۳۵۸، الحدیث: ۴۰۵۰)

(2)…حضرت جریر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، میں نے سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ’’ کسی قوم میں جو شخص گناہوں میں سرگرم ہواور وہ لوگ قدرت کے باوجود اس کو نہ روکیں تواللہتعالیٰ مرنے سے پہلے اُنہیں عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے۔ (ابو داؤد، اول کتاب الملاحم، باب الامر والنہی، ۴ / ۱۶۴، الحدیث: ۴۳۳۹)

(3)… حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ خدا کی قسم! تم ضرور نیکی کی دعوت دیتے رہنا اور برائی سے منع کرتے رہنا اور تم ضرور ظلم کرنے والے کے ہاتھوں کو پکڑ لینا اورا سے ضرور حق پر عمل کے لئے مجبور کرنا ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے دل بھی ایک جیسے کر دے گا پھر تم پر بھی اسی طرح لعنت کرے گا جس طرح بنی اسرائیل پر لعنت کی گئی۔ (ابو داؤد، اول کتاب الملاحم، باب الامر والنہی، ۴ / ۱۶۳، الحدیث: ۴۳۳۶-۴۳۳۷)

            اللہ تعالیٰ ہمیں ایک دوسرے کو نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔[1]

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَ اَیَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۲۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور یاد کرو جب تم تھوڑے تھے ملک میں دبے ہوئے ڈرتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں اچک نہ لے جائیں تو اس نے تمہیں جگہ دی اور اپنی مدد سے زور دیا اور ستھری چیزیں تمہیں روزی دیں کہ کہیں تم احسان مانو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور یاد کرو جب تم زمین میں تھوڑے تھے ،دبے ہوئے تھے، تم ڈرتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں اچک کر نہ لے جائیں تواللہ نے تمہیں ٹھکانہ دیا اور اپنی مدد سے تمہیں قوت دی اورتمہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا تاکہ تم شکر ادا کرو۔

{وَ اذْكُرُوْا:اور یاد کرو۔} اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے مومنین کو اپنی اور اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی اطاعت کا حکم دیا اور فتنے سے ڈرایا، اب اِس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی نعمتیں یاد دلا ئیں چنانچہ ارشاد فرمایا: اے مہاجرین کے گروہ! یاد کرو، جب نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی بِعثَت سے پہلے تم تعداد میں کم تھے اور ابتدائے اسلام میں مکہ کی سرزمین پر تمہیں کمزور سمجھا جاتا تھا اور تم دوسرے شہروں میں سفر کرنے سے ڈرتے تھے کہ کہیں کفار لوٹ نہ لیں ، اللہ عَزَّوَجَلَّنے تمہیں مکہ سے مدینہ منتقل کر کے ٹھکانہ دیا اور تم کفار کے شر سے محفوظ ہوگئے اور اپنی مدد سے تمہیں قوت عطا کی کہ بدر کی جنگ میں کفار پر تمہاری ہیبت ڈال دی جس کے نتیجے میں تم اپنے سے تین گنا بڑے لشکر پر غالب آ گئے اور تمہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا کہ تمہارے لئے مالِ غنیمت کو حلال کر دیا جبکہ پہلی امتوں پر وہ حرام تھا تاکہ تم اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں پر شکر ادا کرو۔(خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۶، ۲ / ۱۸۹، تفسیر کبیر، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۶، ۵ / ۴۷۴، ملتقطاً)

نعمت کی ناشکری نعمت چھن جانے کا سبب ہے:

            ہر دور میں اسی طرح اللہ تعالیٰ اجتماعی اور اِنفرادی طور پر مسلمانوں کو طرح طرح کی نعمتوں سے نوازتا ہے، مصائب و آلام سے نجات دے کر راحت و آرام عطا کر تا ہے۔ جب مسلمان اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرتے، یادِ خدا سے غفلت کو اپنا شعار بنا لیتے اور اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل میں مصروف ہو جاتے ہیں اور اپنے برے اعمال کی کثرت کی وجہ سے خود کواللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا نااہل ثابت کردیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے اپنی دی ہوئی نعمتیں واپس لے لیتا ہے۔ عالمی سطح پر عظیم سلطنت رکھنے کے بعد مسلمانوں کا زوال، عزت کے بعد ذلت، فتوحات کے بعد موجودہ شکست وغیرہ اس چیز



[1]     نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کے بارے میں اہم معلومات حاصل کرنے کے لئے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی کتاب’’نیکی کی دعوت‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ فرمائیں۔



Total Pages: 191

Go To