Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جب اللہ فرمائے گا :اے مریم کے بیٹے عیسیٰ! اپنے اوپر اور اپنی والدہ پر میرا وہ احسان یاد کر، جب میں نے پاک روح سے تیری مدد کی ۔تو گہوارے میں اور بڑی عمر میں لوگوں سے باتیں کرتا تھا اور جب میں نے تجھے کتاب اور حکمت اور توریت اور انجیل سکھائی اور جب تو میرے حکم سے مٹی سے پرند ے جیسی صورت بناکر اس میں پھونک مارتا تھا تو وہ میرے حکم سے پرندہ بن جاتی اور تو میرے حکم سے پیدائشی نابینا اور سفید داغ کے مریض کوشفا دیتا تھااور جب تو میرے حکم سے مردوں کو زندہ کر کے نکالتااور جب میں نے بنی اسرائیل کو تم سے روک دیا۔ جب تو ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر آیا تو ان میں سے کافروں نے کہا: یہ تو کھلا جادو ہے۔

{ اِذْ قَالَ اللّٰهُ : جب اللہ فرمائے گا۔} اس آیت میں بھی قیامت کے دن کا ایک معاملہ بیان فرمایا گیا ،گویا کہ ارشاد فرمایا ’’آپ یاد کریں جس دن اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع فرمائے گا اورجب اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے اس طرح فرمائے گا۔(قرطبی، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۰، ۳ / ۲۲۴، الجزء السادس) یاد رہے کہ اس آیتِ مبارکہ میں جو احسانات ذکر کئے گئے ان کی مفصل تفسیر سورۂ آلِ عمران آیت نمبر 37تا49 میں گزر چکی ہے۔

وَ اِذْ اَوْحَیْتُ اِلَى الْحَوَارِیّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِیْ وَ بِرَسُوْلِیْۚ-قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ اشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ(۱۱۱)

ترجمہ ٔ کنزالایمان: اور جب میں نے حواریوں کے دل میں ڈالا کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ بولے ہم ایمان لائے اور گواہ رہ کہ ہم مسلمان ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب میں نے حواریوں کے دل میں یہ بات ڈالی کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ تو انہوں نے کہا :ہم ایمان لائے اور (اے عیسیٰ!) آپ گواہ ہوجائیں کہ ہم مسلمان ہیں۔

{ وَ اِذْ اَوْحَیْتُ اِلَى الْحَوَارِیّٖنَ:اور جب میں نے حواریوں کے دل میں یہ بات ڈالی۔} حواری حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مخصوص اور مخلص حضرات کو کہا جاتا ہے۔ ان کے متعلق فرمایا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کے دلوں میں اللہ عَزَّوَجَلَّ اور حضرت عیسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لانے کی بات ڈال دی۔

’’وحی‘‘ کا ایک معنی:

            یاد رہے کہ اس آیت میں لفظ ’’وحی‘‘ کی نسبت غیرِ انبیاء کی طرف ہے اورجب وحی کی نسبت غیرِ نبی کی طرف ہو تو اس سے مراد دل میں بات ڈالنا ہوتا ہے جیسے سورۂ قصص کی آیت نمبر 7میں ہے

’’ وَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤی اُمِّ مُوْسٰی ‘‘

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور ہم نے موسیٰ کی ماں کے دل میں بات ڈال دی۔

نیز سورۂ نحل کی آیت نمبر68میں ہے

’’ وَ اَوْحٰی رَبُّكَ اِلَی النَّحْلِ ‘‘

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور تیرے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی۔

اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآىٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِؕ-قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۱۱۲)

ترجمۂ کنزالایمان: جب حواریوں نے کہا اے عیسیٰ بن مریم کیا آپ کا رب ایسا کرے گا کہ ہم پر آسمان سے ایک خوان اُتارے کہا اللہ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یاد کروجب حواریوں نے کہا: اے عیسیٰ بن مریم! کیا آپ کا رب ایسا کرے گا کہ ہم پر آسمان سے ایک دستر خوان اُتار دے ؟ فرمایا :اللہ سے ڈرو، اگر ایمان رکھتے ہو۔

{ اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ : جب حواریوں نے کہا۔} حواریوں نے حضرت عیسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے عرض کی کہ کیا آپ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا رب عَزَّوَجَلَّ ہم پر آسمان سے نعمتوں سے بھرپور دسترخوان اتارے گا۔ ان کی مراد یہ تھی کہ کیا اللہ تعالیٰ اس بارے میں آپ کی دعا قبول فرمائے گا؟ یہ مراد نہیں تھی کہ کیا آپ کا رب عَزَّوَجَلَّ ایسا کرسکتا ہے یا نہیں ؟ کیونکہ وہ حضرات اللہ تعالیٰ کی قدرت پر ایمان رکھتے تھے۔ حضرت عیسیٰ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ اگر ایمان رکھتے ہو تو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو  اور تقویٰ اختیار کرو تاکہ یہ مراد حاصل ہو جائے۔ بعض مفسرین نے کہا: اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ تمام اُمتوں سے نرالا سوال کرنے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو یا یہ معنی ہیں کہ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ کی کمالِ قدرت پر ایمان رکھتے ہو تو ایسے سوال نہ کرو جن سے تَرَدُّد کا شبہ گزر سکتا ہو۔(تفسیر قرطبی، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۲، ۳ / ۲۲۶، الجزء السادس، خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۲، ۱ / ۵۳۹، ملتقطاً)

قَالُوْا نُرِیْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْهَا وَ تَطْمَىٕنَّ قُلُوْبُنَا وَ نَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَ نَكُوْنَ عَلَیْهَا مِنَ الشّٰهِدِیْنَ(۱۱۳)

ترجمۂ کنزالایمان: بولے ہم چاہتے ہیں کہ اس میں سے کھائیں اور ہمارے دل ٹھہریں اور ہم آنکھوں دیکھ لیں کہ آپ نے ہم سے سچ فرمایا اور ہم اس پر گواہ ہوجائیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: (حواریوں نے) کہا: ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس میں سے کھائیں اور ہمارے دل مطمئن ہوجائیں اور ہم آنکھوں سے دیکھ لیں کہ آپ نے ہم سے سچ فرمایا ہے اور ہم اس پر گواہ ہوجائیں۔

{ قَالُوْا:انہوں نے کہا۔}حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے جب انہیں خدا خوفی کا حکم دیا تو انہوں نے عرض کیا کہ ’’ ہم تو صرف یہ چاہتے ہیں کہ حصولِ برکت کے لئے اس آسمانی دسترخوان سے کچھ کھائیں اور ہمارا یقین قوی ہو جائے اور جیسے ہم نے قدرتِ الہٰی کو دلیل سے جانا ہے اسی طرح مشاہدے سے بھی اس کو پختہ کرلیں یعنی علم ُالیقین سے ترقی کر کے عین ُالیقین حاصل کریں۔ حواریوں کے جواب نے واضح کردیا کہ انہوں نے قدرتِ الہٰی میں شک و شبہ کی وجہ سے سابقہ مطالبہ نہیں کیا تھا بلکہ اس کا مقصد کچھ اور تھا۔ حواریوں کی اِس درخواست پر حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے انہیں تیس روزے رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا جب تم ان روزوں سے فارغ ہوجاؤ گے تو اللہ تعالیٰ سے جو دعا کرو گے قبول ہوگی۔ انہوں نے روزے رکھ کر دسترخوان اُترنے کی دعا کی۔ اُس وقت حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے غسل فرمایا ، موٹا لباس پہنا، دو رکعت نماز ادا کی اور سرِ مبارک جھکایا اور رو کر یہ دعا کی جس کا اگلی آیت میں ذکر ہے۔ (خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۲، ۱ / ۵۳۹)

 

 



Total Pages: 191

Go To