Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

جائے، اگر ایساہوا تو قیامت کے دن اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرتا ہوا اٹھے گا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ طلوعِ فجرکے بعد طلوعِ آفتاب تک اور اسی طرح نمازِ عصر کے بعد غروب تک نفل نماز ممنوع ہے، اس لئے ان وقتوں میں ذکر کرنا مستحب ہے تاکہ بندے کے تمام اوقات قربت و طاعت میں مشغول رہیں۔ (صاوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۰۵، ۲ / ۷۴۰)

                نوٹ:ذکرِ جلی اور خفی سے متعلق مزید معلومات کیلئے کتاب’’ جاء الحق‘‘ کا مطالعہ کیجئے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یُسَبِّحُوْنَهٗ وَ لَهٗ یَسْجُدُوْنَ۠۩(۲۰۶)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک وہ جو تیرے رب کے پاس ہیں اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور اس کی پاکی بولتے اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک وہ جو تیرے رب کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں۔

{اِنَّ الَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ:بیشک وہ جو تیرے رب کے پاس ہیں۔} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جب فرشتے اپنے بے انتہا شرف، پاک اور معصوم ہونے، شہوت اور غضب سے بری ہونے، کینہ اور حسد سے مُنَزّہ ہونے کے باوجود ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور خشوع و خضوع کے ساتھ سجدہ ریز ہوتے ہیں تو انسان جو کہ جسمانی ظلمتوں ، بشری کثافتوں اور شہوت و غضب کی آماجگاہ ہے، وہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت زیادہ کرے۔ (تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۰۶، ۵ / ۴۴۵)

سجدۂ تلاوت کے چند احکام:

            یہ آیت آیاتِ سجدہ میں سب سے پہلی آیت ہے، اس مناسبت سے ہم یہاں سجدۂ تلاوت کے چند احکام بیان کرتے ہیں

(1)…آیتِ سجدہ پڑھنے یا سننے سے سجدہ واجب ہو جاتا ہے پڑھنے میں یہ شرط ہے کہ اتنی آواز سے ہو کہ اگر کوئی عذرنہ ہو تو خود سن سکے ، سننے والے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ بِالقصد سنی ہو بلکہ بلا قصد سننے سے بھی سجدہ واجب ہو جاتا ہے۔ (ہدایہ، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ۱ / ۷۸، در مختار مع رد المحتار، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ۲ / ۶۹۵-۶۹۶)

(2)…سجدہ واجب ہونے کے لیے ایک قول کے مطابق پوری آیت پڑھنا ضروری ہے اور ایک قول کے مطابق پوری آیت پڑھنا ضروری نہیں بلکہ وہ لفظ جس میں سجدہ کا مادہ پایا جاتا ہے اور اس کے ساتھ پہلے یا بعد کا کوئی لفظ ملا کر پڑھنا کافی ہے۔ (رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ۲ / ۶۹۴، تحت قول الدر: ای اکثرہا۔۔۔ الخ)

(3)…اگر اتنی آواز سے آیت پڑھی کہ سن سکتا تھا مگر شور و غل یا بہرے ہونے کی وجہ سے نہ سنی تو سجدہ واجب ہوگیا اور اگر محض ہونٹ ہلے آواز پیدا نہ ہوئی تو واجب نہ ہوا۔ (عالمگیری، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث عشر فی سجود التلاوۃ، ۱ / ۱۳۲، ۱۳۳)

(4)…فارسی یا کسی اور زبان میں آیت کا ترجمہ پڑھا تو پڑھنے والے اور سننے والے پر سجدہ واجب ہوگیا۔

سجدۂ تلاوت کی فضیلت:

            سجدۂ تلاوت کی فضیلت کے بارے میں حضرت ابوہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور اقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’جب آدمی آیت ِسجدہ پڑھ کر سجدہ کرتا ہے تو شیطان ہٹ جاتا ہے اور رو کر کہتا ہے: ہائے میری بربادی ! ابنِ آدم کو سجدہ کا حکم ہوا تو اس نے سجدہ کیا، اس کے لئے جنت ہے اور مجھے سجدہ کا حکم دیا گیا تو میں نے انکار کیا میرے لیے دوزخ ہے۔‘‘(مسلم، کتاب الایمان، باب بیان اطلاق اسم الکفر علی من ترک الصلاۃ، ص۵۶، الحدیث: ۱۳۳ (۸۱))

سجدۂ تلاوت کا طریقہ:

            سجدہ ِ تلاوت کا مَسنون طریقہ یہ ہے کہ کھڑا ہو کر اللہُ اَکْبَرْ کہتا ہوا سجدہ میں جائے اور کم سے کم تین بار سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کہے، پھر اللہُ اَکْبَرْ کہتاہوا کھڑا ہو جائے، پہلے پیچھے دونوں بار اللہُ اَکْبَرْ کہنا سنت ہے اور کھڑے ہو کر سجدہ میں جانا اور سجدہ کے بعد کھڑا ہونا یہ دونوں قیام مستحب۔(عالمگیری، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث عشر فی سجود التلاوۃ، ۱ / ۱۳۵، در مختار مع رد المحتار، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ۲ / ۶۹۹-۷۰۰)

             یاد رہے کہ  سجدۂ تلاوت کے لیے اللہُ اَکْبَرْ کہتے وقت نہ ہاتھ اٹھانا ہے اور نہ اس میں تشہد ہے نہ سلام۔(تنویر الابصار، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، ۲ / ۷۰۰)

            نوٹ :سجدۂ تلاوت کے مزید مسائل جاننے کے لئے بہار شریعت حصہ 4سے’’سجدۂ تلاوت کا بیان‘‘ کا مطالعہ کیجئے۔

سورۂ انفال

سورۂ اَنفال کا تعارف

مقامِ نزول:

            صحیح قول کے مطابق یہ سورت مدنی ہے۔اور ایک قول یہ ہے کہ یہ سورت ان سات آیتوں کے علاوہ مدنی ہے جو مکہ مکرمہ میں نازل ہوئیں اور وہ آیت نمبر 30 ’’وَ اِذْ یَمْكُرُ بِكَ الَّذِیْنَ‘‘ سے شروع ہوتی ہیں۔(خازن، تفسیر سورۃ الانفال، ۲ / ۱۷۴)

رکوع اور آیات کی تعداد:

             اس سورت میں 10 رکوع اور 75 آیتیں ہیں۔

’’اَنفال ‘‘نام رکھنے کی وجہ :

            اَنفال نَفَل کی جمع ہے اور اس کا معنی ہے غنیمت کا مال، اس سورت کی پہلی آیت میں اَنفال یعنی مالِ غنیمت کے احکام کے بارے میں مسلمانوں کے سوال اور انہیں دئیے جانے والے جواب کا ذکر ہے، اس مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ اَنفال‘‘ رکھا گیا۔

 



Total Pages: 191

Go To