Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

{وَ تَرٰىهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ:اور تم انہیں دیکھو(تو یوں لگے گا) کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں۔}اس آیت کی ایک تفسیر یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اے حبیب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ ان کافروں کودیکھیں کہ یہ اپنی آنکھوں سےتو آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں لیکن انہیں کچھ دکھائی نہیں دے رہا کیونکہ یہ نگاہِ بصیرت سے آپ کو نہیں دیکھ رہے تو اگرچہ فی الوقت یہ آپ کے سامنے ہیں لیکن در حقیقت یہ آپ سے غائب ہیں البتہ اگر یہ میری وحدانیت کا اقرار اور آپ کی رسالت کی تصدیق کر لیتے ہیں تو یہ حقیقی طور پر دیکھنے والے بن جائیں گے۔ (روح البیان، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۹۸، ۳ / ۲۹۷)

 نگاہِ بصیرت سے دیکھنا ہی حقیقی طور پر فائدہ مند ہے:

            اس سے معلوم ہوا کہ صرف ظاہری نگاہوں سے حضور پُر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکو دیکھ لینا حقیقی طور پر فائدہ مند نہیں بلکہ نگاہِ بصیرت سے دیکھنا فائدہ مند ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب ابو جہل کے بیٹے حضرت عکرمہ نے نگاہِ بصیرت سے حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی زیارت کی تو صحابیت کے اعلیٰ منصب پر فائز ہو کر ہمیشہ کے لئے جنت کے حق دار ٹھہرے اور خود ابو جہل صرف ظاہری نگاہوں سے دیکھتا رہا جس کی وجہ سے اسے بدبختی سے نجات نہ ملی اور ہمیشہ کے لئے جہنم کا حقدار ٹھہرا۔

            ایک مرتبہ سلطان محمودغزنوی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ شیخ ابو الحسن خرقانی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی زیارت کے لئے تشریف لے گئے اور کچھ دیران کے پاس بیٹھ کر عرض کی:یا شیخ!آپ حضرت ابو یزید بسطامی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں۔ حضرت ابوالحسن خرقانی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا’’وہ ایسے شخص ہیں کہ جس نے ان کی زیارت کی وہ ہدایت پا گیا اور اسے واضح طور پر سعادت حاصل ہو گئی۔حضرت محمود غزنوی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے عرض کی:یا شیخ!یہ کس طرح ہوا کہ ابو جہل نے حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو دیکھا لیکن اس کے باوجود اسے نہ کوئی سعادت ملی اور نہ وہ شقاوت و بدبختی سے خلاصی پا سکا؟آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا’’ابو جہل نے در حقیقت رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو دیکھا ہی نہیں جس کی وجہ سے وہ بدبختی سے چھٹکارا نہ پا سکا بلکہ اس نے محمد بن عبد اللہ کو دیکھا ہے، اگر وہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکو دیکھ لیتا تو وہ بدبختی سے نکل کر سعادت مندی میں داخل ہو جاتا اور اس کا مِصداق اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے ’’وَ تَرٰىهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ وَ هُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ‘‘ تو سر کی آنکھوں سے دیکھنے سے یہ سعادت نہیں ملتی بلکہ دل کی نگاہوں سے دیکھیں تو یہ سعادت نصیب ہوتی ہے،اس لئے جس نے حضرت ابو یزید رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو دل کی نگاہوں سے دیکھا تو وہ سعادت پا گیا ۔ اس واقعے سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء کو بھی نگاہِ بصیرت سے دیکھنا ہی فائدہ دیتا ہے۔ (روح البیان، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۹۸، ۳ / ۲۹۷)

خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ(۱۹۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اے محبوب معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیرلو ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے حبیب! معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیرلو۔

{خُذِ الْعَفْوَ:اے محبوب! معاف کرنا اختیار کرو۔} اس آیت میں نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکو تین باتوں کی ہدایت فرمائی گئی ہے:

(1) …جو مجرم معذرت طلب کرتا ہوا آپ کے پاس آ ئے تو اس پر شفقت و مہربانی کرتے ہوئے اسے معاف کر دیجئے۔

(2)… اچھے اور مفید کام کرنے کا لوگوں کو حکم دیجئے ۔

(3)…جاہل اور ناسمجھ لوگ آپ کو برا بھلا کہیں تو ان سے الجھئے نہیں بلکہ حِلم کامظاہرہ فرمائیں۔

عَفْو و درگزر اور سیرتِ مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ:

             رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی پوری زندگی عفو و درگزر سے عبارت تھی ۔آپ کے بے مثال عفوودر گزر کاایک واقعہ ملاحظہ ہو، چنانچہ تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی شہزادی حضرت زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھا کو ان کے شوہر ابو العاص نے غزوۂ بدر کے بعد مدینہ منورہ کے لئے روانہ کیا۔ جب قریشِ مکہ کو ان کی روانگی کا علم ہوا تو انہوں نے حضرت زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھا کا پیچھا کیا حتّٰی کہ مقامِ ذی طُویٰ میں انہیں پا لیا۔ ہبار بن الاسود نے حضرت زینب  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاکو نیزہ مارا جس کی وجہ سے آپ اونٹ سے گر گئیں اور آپ کا حمل ساقط ہو گیا۔ (سیرت نبویہ لابن ہشام، خروج زینب الی المدینۃ، ص۲۷۱)

            اتنی بڑی اَذِیّت پہنچانے والے شخص کے ساتھ نبیِّ رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کاسلوک ملاحظہ ہو، چنانچہ حضرت جبیر بن مطعم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ جِعِرَّانَہ سے واپسی پر میں سیِّد عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کےپاس بیٹھا تھا کہ اچانک دروازے سے ہبار بن الاسود داخل ہوا، صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے عرض کی : یا رسول اللہ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، یہ ہبار بن الاسود ہے۔ ارشاد فرمایا: میں نے اسے دیکھ لیا ہے۔ ایک شخص اسے مارنے کے لئے کھڑا ہوا توتاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے اسے اشارہ کیا کہ بیٹھ جائے۔ ہبار نے قریب آتے ہی کہا ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نبی! آپ پر سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے رسول ہیں۔ یا رسول اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، میں آپ سے بھاگ کر کئی شہروں میں گیا اور میں نے سوچا کہ عجم کے ملکوں میں چلا جاؤں ، پھر مجھے آپ کی نرم دلی صلہ رحمی اور دشمنوں سے آپ کا درگزر کرنا یاد آ یا۔ اے اللہ کے نبی! ہم مشرک تھے اللہ تعالیٰ نے آپ کے سبب ہمیں ہدایت دی اور ہمیں ہلاکت سے نجات عطا کی۔ آپ میری جہالت سے اور میری ان تمام باتوں سے جن کی آپ تک خبر پہنچی ہے درگزر فرمائیں۔ میں اپنے تمام برے کاموں کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں۔ رحیم و کریم آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: میں نے تمہیں معاف کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا ہے کہ اس نے تمہیں اسلام کی ہدایت دے دی اور اسلام پچھلے تمام گناہوں کو مٹادیتا ہے۔(الاصابہ، حرف الہاء، الہاء بعدہا الباء، ۶ / ۴۱۲-۴۱۳)

             اس طرح کے بیسیوں واقعات ہیں جن میں عظیم عفو درگزر کی جھلک نمایاں ہے جیسے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ابو سفیان کو معاف کر دیا، اپنے چچا حضرت حمزہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو شہید کرنے والے غلام وحشی کو معاف کر دیا، حضرت حمزہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا دانتوں سے کلیجہ چبانے والی ہند بنت عتبہ کو معاف کر دیا، یونہی صفوان بن معطل ،عمیر بن وہب اور عکرمہ بن ابو جہل کو



Total Pages: 191

Go To