Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جب ان سے کہا جاتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تووہ تکبر کرتے تھے۔ اور کہتے تھے کیا ہم ایک دیوانے شاعر کی وجہ سے اپنے معبودوں کو چھوڑدیں۔

             اور اسی عقیدے کی بنیاد پر کفار بتوں سے اپنی حاجتیں طلب کرتے تھے،اور آج بھی کسی انسان یا غیر انسان، زندہ یا مردہ کو معبود مان کر اس کی عبادت کرنا، اسے دور یا نزدیک سے پکارنا شرک ہے لیکن اگر کوئی یہ عقیدہ نہ رکھتے ہوئے یعنی معبود نہ مان کر کسی کو پکارے یا ندا کرے تو اس کے عمل کو مشرکوں جیسا عمل قرار دیتے ہوئے اسے بھی مشرک قرار دے دینا سراسر جہالت نہیں تو اور کیا ہے ۔ جو پکارنا یا ندا کرنا شرک ہے وہ ہر حال میں شرک ہے چاہے انسان سے ہو یا غیر انسان سے ،زندہ سے ہو یا فوت شدہ سے، دور سے ہو یا نزدیک سے اور جو ندا شرک نہیں وہ کسی بھی حال میں شرک نہیں۔ ندا یا سوال کے شرک ہونے کا دارومدار پکارنے والے کے عقیدے پر ہے اگر وہ معبود اور خدا مان کر پکارتا ہے تو یہ شرک ہے اب چاہے دور سے پکارے یا نزدیک سے ،زندہ کو پکارے یا فوت شدہ کو اور اگر اس کا یہ عقیدہ نہیں توشرک ہر گز نہیں لہٰذا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو پکارنا ہرگز شرک نہیں کیونکہ کوئی بھی کلمہ گو مسلمان آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو معبود نہیں سمجھتا اور نہ ان کی عبادت کرتا ہے بلکہ ہر نماز میں وہ کئی بار یہ اعلان کرتا ہے کہ ’’اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہْ‘‘ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد مصطفٰیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندے اور رسول ہیں۔ یونہی اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کو پکارنے والا، ان سے سوال کرنے والا ،انہیں معبود سمجھ کر ہر گز نہیں پکارتا بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا بندہ سمجھ کر اور اللہ عَزَّوَجَلَّکی عطا سے پکار سننے والا جان کر پکارتا ہے لہٰذا ا س کایہ عمل بھی ہر گز شرک نہیں۔

اَلَهُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِهَاۤ٘-اَمْ لَهُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِهَاۤ٘-اَمْ لَهُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِهَاۤ٘-اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَاؕ-قُلِ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ كِیْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ(۱۹۵)اِنَّ وَلِیِّ ﰯ اللّٰهُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ﳲ وَ هُوَ یَتَوَلَّى الصّٰلِحِیْنَ(۱۹۶)وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ(۱۹۷)وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَسْمَعُوْاؕ-وَ تَرٰىهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ وَ هُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ(۱۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے چلیں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے گرفت کریں یا ان کے آنکھیں ہیں جن سے دیکھیں یا ان کے کان ہیں جن سے سنیں تم فرماؤ کہ اپنے شریکوں کو پکارو اور مجھ پر داؤں چلو اور مجھے مہلت نہ دو۔  بیشک میرا والی اللہ ہے جس نے کتاب ا تاری اور وہ نیکوں کو دوست رکھتا ہے۔ اور جنہیں اس کے سوا پوجتے ہو وہ تمہاری مدد نہیں کرسکتے اور نہ خود اپنی مدد کریں۔ اور اگر انہیں راہ کی طرف بلاؤ تو نہ سنیں اور تو انہیں دیکھے کہ وہ تیری طرف دیکھ رہے ہیں اور انہیں کچھ بھی نہیں سوجھتا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے یہ چلتے ہیں ؟ یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے یہ پکڑتے ہیں ؟ یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے یہ دیکھتے ہیں ؟ یا ان کے کان ہیں جن سے یہ سنتے ہیں ؟ تم فرمادو کہ اپنے شریکوں کوبلالو پھر میرے اوپر اپنا داؤ چلاؤ اور مجھے مہلت نہ دو۔ بیشک میرامددگار اللہ ہے جس نے کتاب ا تاری اور وہ صالحین کی مدد کرتا ہے۔ اور اللہ کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو وہ تمہاری مدد کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اور نہ ہی وہ اپنی مدد کرسکتے ہیں۔ اور اگر تم انہیں رہنمائی کرنے کے لئے بلاؤ تو وہ نہ سنیں گے اور تم انہیں دیکھو (تو یوں لگے گا) کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں حالانکہ انہیں کچھ دکھائی نہیں دیتا۔

{اَلَهُمْ اَرْجُلٌ:کیا ان کے پاؤں ہیں۔} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ انسان کی قدرت کا دارومدار ان چار اعضاء پر ہے، ہاتھ پاؤں ، کان اور آنکھ کہ انسان تمام امور میں ان سے مدد لیتا ہے جبکہ بتوں کے یہ اعضاء نہیں ہیں ،لہٰذا انسان ان عاجز بتوں سے افضل ہوا کیونکہ چلنے ، پکڑنے، دیکھنے اور سننے کی طاقت رکھنے والا اس سے بہتر ہے جو ان صلاحیتوں سے محروم ہے، لہٰذا انسان ہر حال میں ان بتوں سے افضل ہے کہ بت پتھروں اور درختوں سے بنے ہوئے ہیں ، کسی کو نفع نقصان نہیں پہنچا سکتے تو جب ان میں وہ قوت و طاقت بھی نہیں جو تم میں ہے پھر تم ان کی پوجا کیسے کرتے ہو؟ اور اپنے سے کمتر کو پوج کر کیوں ذلیل ہوتے ہو۔ (خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۹۵، ۲ / ۱۶۹)

{قُلِ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ:(اے محبوب!) تم فرما دو کہ اپنے شریکوں کوبلالو۔} شانِ نزول:رسولِ خداصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے جب بت پرستی کی مذمت کی اور بتوں کی عاجزی اور بے اختیاری کا بیان فرمایا تو مشرکین نے دھمکایا اور کہا کہ بتوں کو برا کہنے والے تباہ وبرباد ہوجاتے ہیں اور یہ بت اُنہیں ہلاک کردیتے ہیں ،اس پر یہ آیت ِ کریمہ نازل ہوئی اور اس آیت اور ا س کے بعدو الی تین آیات میں فرمایا گیا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ،آپ ان سے فرما دیں کہ اگرتم بتوں میں کچھ قدرت سمجھتے ہو تو انہیں پکارو اور مجھے نقصان پہنچانے میں اُن سے مدد لو اور تم بھی جو مکروفریب کرسکتے ہو وہ میرے مقابلے میں کرو اور اس میں دیر نہ کرو ،مجھے تمہاری اور تمہارے معبودوں کی کچھ بھی پرواہ نہیں اور تم سب مل کر بھی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ میری حفاظت کرنے والا اور میرا مددگار وہ رب تعالیٰ ہے جس نے مجھ پر قرآن نازل کر کے مجھے عظمت عطا کی اور وہ اپنے نیک بندوں کو دوست رکھتا اور ان کی مدد فرماتا ہے اور اے بت پرستو! اللہ تعالیٰ کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو وہ کسی کام میں تمہاری مدد کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اور نہ ہی وہ اپنی مدد کر سکتے ہیں تو میں پھر ان کی کس طرح پرواہ کروں اور ویسے بھی یہ تمہاری مدد کیا کریں گے کیونکہ ان کا اپنا حال یہ ہے کہ اگر تم انہیں اپنے مقاصد کے حصول کی طرف رہنمائی کرنے کے لئے بلاؤ تو وہ تمہاری پکار نہ سنیں گے اور تم انہیں دیکھوتو یوں لگے گا کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں حالانکہ انہیں کچھ دکھائی نہیں دیتا کیونکہ وہ دیکھنے سے ہی عاجز ہیں۔(خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۹۵-۱۹۶، ۲ / ۱۶۹-۱۷۰، روح البیان، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۹۵-۱۹۶، ۳ / ۲۹۶، ملتقطاً)

اللہ تعالٰی کے مقبول بندوں سے مددچاہنا اور انہیں وسیلہ بنانا توحید کے بر خلاف نہیں :

             علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اس آیت (نمبر198) میں بتوں کا جو حال بیان ہوا انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاءِ عظام رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم کا حال ان کے برخلاف ہے اگرچہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں کیونکہ ا س طور پر مقبولانِ بارگاہِ الہٰی سے مدد چاہنا، انہیں وسیلہ بنانا اور ان کی طرف (کسی چیز کی عطا وغیرہ کی) نسبت کرنا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کے مظاہر، اس کے انوار کی جلوہ گاہیں ، اس کے کمالات کے آئینے اور ظاہری و باطنی امور میں اس کی بارگاہ میں سفارشی ہیں ،انتہائی اہم کام ہے اور یہ ہر گز شرک نہیں بلکہ یہ عین توحید ہے (روح البیان، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۹۸، ۳ / ۲۹۶)۔[1]

 



[1]    اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں سے مدد مانگنے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا رسالہ ’’کرامات شیرِ خدا‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) صفحہ56تا95کا مطالعہ کرنا بہت مفید ہے۔



Total Pages: 191

Go To