Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

حال یہ ہو اکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عطا میں اس کے شریک ٹھہرانے لگ گئے کیونکہ کبھی تو وہ اس بچے کو انسانی فطرت کے تقاضے کی طرف منسوب کرتے ہیں جیسے دَہریوں کا حال ہے، کبھی ستاروں کی طرف نسبت کرتے ہیں جیسا کہ ستارہ پرستوں کا طریقہ ہے اورکبھی بتوں کی طرف منسوب کرتے ہیں جیسا کہ بت پرستوں کا دستور ہے۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ’’وہ اُن کے اِس شرک سے برتر ہے۔(تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۸۹، ۵ / ۴۲۸)

اَیُشْرِكُوْنَ مَا لَا یَخْلُقُ شَیْــٴًـا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَۚ(۱۹۱)

ترجمۂ کنزالایمان: کیا اسے شریک کرتے ہیں جو کچھ نہ بنائے اور وہ خود بنائے ہوئے ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا وہ اسے (اللہ کا) شریک بناتے ہیں جوکوئی چیز نہیں بناسکتا اور خود انہیں بنایا جاتا ہے۔

{اَیُشْرِكُوْنَ مَا لَا یَخْلُقُ:کیا وہ اسے(اللہ کا) شریک بناتے ہیں جوکوئی چیز نہیں بناسکتا ۔}اس آیت اور اگلی چند آیات میں بتوں کے معبود ہونے کی نفی پر کئی دلیلیں قائم فرمائی گئی ہیں۔چنانچہ ا س آیت میں فرمایا گیا کہ کیا مشرکین اُسے اللہ تعالیٰ کا شریک بناتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا کرنے کی اصلاً قدرت نہیں رکھتا بلکہ وہ خود بھی اپنے بنائے جانے میں کسی کا محتاج ہے حالانکہ معبود تو صرف وہ ہو سکتا ہے جس نے اپنے عبادت گزار کو پیدا کیا ہو۔ (روح البیان، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۹۱، ۳ / ۲۹۵)

وَ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ(۱۹۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور نہ وہ ان کو کوئی مدد پہنچاسکیں اور نہ اپنی جانوں کی مدد کریں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور نہ وہ ان کی کوئی مدد کرنے کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ اپنی جانو ں کی مدد کرسکتے ہیں۔

{وَ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا:اور نہ وہ ان کی کوئی مدد کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔} اس آیت میں بتوں کی بے قدری اور شرک کے بُطلان کا بیان اور مشرکین کے کمالِ جہل کا اظہار ہے اور بتایا گیا ہے کہ عبادت کا مستحق وہی ہوسکتا ہے جو عبادت کرنے والے کو نفع پہنچانے اور ا س کا ضرر دور کرنے کی قدرت رکھتا ہو، مشرکین جن بتوں کو پوجتے ہیں ان کی بے قدرتی اس درجے کی ہے کہ وہ کسی چیز کے بنانے والے نہیں ، کسی چیز کے بنانے والے تو کیا ہوتے خود اپنی ذات میں دوسرے سے بے نیاز نہیں۔ خود مخلوق ہیں اور بنانے والے کے محتاج ہیں۔ اس سے بڑھ کر بے اختیاری یہ ہے کہ وہ کسی کی مدد نہیں کرسکتے اور کسی کی کیا مدد کریں گے خود انہیں کوئی ضرر پہنچے تو اسے دور نہیں کرسکتے۔ کوئی انہیں توڑ دے، گرا دے الغرض جو چاہے کرے وہ اس سے اپنی حفاظت نہیں کرسکتے لہٰذا ایسے مجبور وبے اختیار کو پوجنا انتہا درجے کا جہل ہے۔ (تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۹۲، ۵ / ۴۳۰-۴۳۱)

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَتَّبِعُوْكُمْؕ-سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ(۱۹۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر تم انہیں راہ کی طرف بلاؤ تو تمہارے پیچھے نہ آئیں تم پر ایک سا ہے چاہے انہیں پکارو یا چپ رہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر تم انہیں رہنمائی کرنے کے لئے بلاؤ تو تمہارے پیچھے نہیں آئیں گے۔تم پر برابر ہے کہ تم انہیں پکارو یا تم خاموش رہو۔

{وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى:اور اگر تم انہیں رہنمائی کرنے کے لئے بلاؤ۔} یعنی اے مشرکو! اگر تم ان بتوں کو اس لئے بلاؤ کہ وہ تمہاری اس چیز کی طرف رہنمائی کر دیں جس سے تم اپنے مقاصد کو حاصل کر لو تو یہ تمہاری مراد کی طرف نہیں آئیں گے اور اے مشرکو! تم ان بتوں کو پکارو یا خاموش رہو تمہارے لئے دونوں صورتیں برابر ہیں کیونکہ نہ تو انہیں پکارنے کی صورت میں تمہیں کوئی فائدہ حاصل ہو گا اور نہ ہی خاموش رہنے کی صورت کچھ فائدہ ملے گا۔ (روح البیان، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۹۳، ۳ / ۲۹۵)

اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۱۹۴)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک وہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو تمہاری طرح بندے ہیں تو انہیں پکارو پھر وہ تمہیں جواب دیں اگر تم سچے ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک وہ جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو وہ تمہاری طرح بندے ہیں تو تم انہیں پکارو پھراگر تم سچے ہو تو انہیں چاہیے کہ وہ تمہیں جواب دیں۔

{اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ:بیشک وہ (بت) جنہیں تم اللہکے سوا پوجتے ہو۔} آیت میں لفظ’’ تَدْعُوْنَ‘‘ کا معنی ہے ’’تَعْبُدُوْنَ‘‘ یعنی جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ ا س آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے کافرو! صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کی بجائے جن بتوں کی تم عبادت کرتے ہو اور تم انہیں اپنا معبود کہتے ہو یہ بھی اسی طرح اللہ تعالیٰ کے مملوک اور مخلوق ہیں جس طرح تم ہو اوراللہ تعالیٰ کے مملوک و مخلوق کسی طرح پوجے جانے کے قابل نہیں ، اس کے باوجود بھی اگر تم انہیں اپنا معبود کہتے ہو تو تم نفع پہچانے اور نقصان دور کرنے کے سلسلے میں انہیں پکارو ،پھر اگر تم اپنے گمان کے مطابق سچے ہو کہ یہ ا س چیز کی قدرت رکھتے ہیں جس سے تم عاجز ہو تو ان بتوں کو چاہیے کہ وہ تمہیں جواب دیں۔(بیضاوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۹۴، ۳ / ۸۴، تفسیر قرطبی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۹۴، ۴ / ۲۴۴، الجزء السابع،  روح البیان، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۹۴، ۳ / ۲۹۵،ملتقتاً)

مخلوق میں سے کسی کو معبود مان کر پکارنا شرک ہے ورنہ ہر گز شرک نہیں :

            یہاں ایک اہم بات یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کسی کی بھی عبادت کرنا شرک ہے، اسی طرح مخلوق میں سے کسی کو معبود مان کر اسے پکارنا یا اس سے حاجتیں اور مدد طلب کرنا بھی شرک ہے البتہ اگر کوئی اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو معبود نہ مانتا ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کو اس کی عطا سے مشکلات دور کرنے والا، حاجتیں پوری کرنے والا اور مدد کے وقت مدد کرنے والا مانتا ہو اور اسی عقیدے کی بنیاد پر وہ بارگاہِ الہٰی کے مقبول بندوں سے مشکلات کی دوری کے لئے فریاد کرتا ہو، اپنی حاجتیں پوری ہونے کے لئے دعائیں مانگتا ہو یا مصیبت کے وقت انہیں مدد کے لئے پکارتا ہو تو ا س کا یہ فریاد کرنا، مانگنا اور پکارنا ہر گز شرک نہیں ہو سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے قرآنِ پاک میں غورو تفکر کیا ہے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کفار و مشرکین کا اپنے بتوں سے متعلق عقیدہ یہ تھا کہ وہ بتوں کو معبود مانتے اور ان کی عبادت کرتے تھے، جیسا کہ قرآنِ پاک میں ہے:

’’اِنَّهُمْ كَانُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُۙ-یَسْتَكْبِرُوْنَۙ(۳۵) وَ یَقُوْلُوْنَ اَىٕنَّا لَتَارِكُوْۤا اٰلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍ‘‘(الصافات ۳۵، ۳۶)

 



Total Pages: 191

Go To